Inquilab Logo Happiest Places to Work

عراقچی نے پوتن سے ملاقات کی

Updated: April 28, 2026, 11:09 AM IST | Moscow

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی نیز یکجہتی کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

Araqchi And Putin.Photo:INN
عراقچی اور پوتن۔ تصویر:آئی این این

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی نیز یکجہتی کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ عراقچی نے سینٹ پیٹرزبرگ میں پوتن سے یہ ملاقات کی۔ انہوں نے ایکس پر کہا کہ’’خطے میں بڑے اتار چڑھاؤ کے درمیان روس کے ساتھ اعلیٰ سطح پر بات چیت کرنا خوشی کی بات ہے۔ حالیہ واقعات نے ہماری اسٹریٹجک شراکت داری کی گہرائی اور مضبوطی کو ظاہر کیا ہے۔ جیسے جیسے ہمارے تعلقات بڑھ رہے ہیں، ہم یکجہتی کے لیے شکر گزار ہیں اور سفارت کاری کے لیے روس کی حمایت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے پوتن اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ اپنی تصاویر بھی شیئر کیں۔ 
عراقچی اسلام آباد کے بعد ماسکو پہنچ گئے
واضح رہے کہ علاقائی سفارت کاری کی تیز رفتاری اور اسلام آباد میں طے شدہ مذاکرات کے منسوخ ہونے کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان امن کی کوششیں غیر یقینی صورتحال میں ہیں۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی اِرنا نے ٹیلیگرام پر پوسٹ کیا کہ وہ پیر کی صبح سویرے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات اور بات چیت کے مقصد سے  ماسکو پہنچے۔ماسکو کی تاس خبر رساں ایجنسی نے اس سے پہلے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے حوالے سے تصدیق کی تھی کہ پوتن عراقچی سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں، ۔ عراقچی نے اسلام آبادکے دوروں کے درمیان عمان کا بھی دورہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے:چین کا جوہری توانائی سے چلنے والا پہلا طیارہ بردار بحری جہاز تیار کرنے کا عندیہ


 گزشتہ ہفتے کے روز ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے فوجی سربراہ عاصم منیر، وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی اس کے بعد عمان روانہ ہوئے اور پھر اسلام آباد واپس آئے۔بعد میں وہ اعلیٰ حکام سے مذاکرات کے لیے روس روانہ ہو گئے جبکہ  روس نے بھی اس دورے کی تصدیق کی۔

یہ بھی پڑھئے:شنایا کپور اور ٹائیگر شروف، احمد خان کی زومبی کامیڈی فلم میں ساتھ نظر آئیں گے


فارس خبر رساں ایجنسی نے کہا کہ ایران نے ثالث پاکستان کے ذریعے امریکیوں کو ’’تحریری پیغامات‘‘ بھیجے ہیں جن میں سرخ لکیریں بیان کی گئی ہیں جن میں جوہری مسائل اور آبنائے ہرمز شامل ہیں۔ تاہم، فارس نے کہا کہ یہ پیغامات رسمی مذاکرات کا حصہ نہیں تھے۔امریکہ-اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی اب تک برقرار ہے لیکن اس کے اقتصادی  اثرات پوری دنیا میں اب بھی  محسوس کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK