آسٹریلیائی کرکٹرز اسوسی ایشن (اے سی اے) نے واضح کیا ہے کہ وہ کرکٹ آسٹریلیا (سی اے) کے موجودہ بگ بیش لیگ (بی بی ایل) نجکاری ماڈل کی حمایت نہیں کرے گی۔
EPAPER
Updated: June 14, 2026, 8:04 PM IST | Melbourne
آسٹریلیائی کرکٹرز اسوسی ایشن (اے سی اے) نے واضح کیا ہے کہ وہ کرکٹ آسٹریلیا (سی اے) کے موجودہ بگ بیش لیگ (بی بی ایل) نجکاری ماڈل کی حمایت نہیں کرے گی۔
آسٹریلیائی کرکٹرز اسوسی ایشن (اے سی اے) نے واضح کیا ہے کہ وہ کرکٹ آسٹریلیا (سی اے) کے موجودہ بگ بیش لیگ (بی بی ایل) نجکاری ماڈل کی حمایت نہیں کرے گی کیونکہ یہ ماڈل نہ تو کھیل کے مفاد میں ہے اور نہ ہی کھلاڑیوں کی توقعات پر پورا اترتا ہے۔ اے سی اے کے چیف ایگزیکٹیو پال مارش نے اتوار کی شام آسٹریلوی کھلاڑیوں کو بھیجے گئے ایک ای میل میں کہا کہ تنظیم موجودہ نجکاری عمل اور مجوزہ میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ (ایم او یو) سے متفق نہیں ہے، جس میں ادائیگیوں کا نیا ڈھانچہ شامل ہے۔
یہ ای میل کرکٹ آسٹریلیا اور ریاستی کرکٹ اداروں کے سربراہان کے درمیان ہونے والی اہم میٹنگ سے ایک روز قبل بھیجا گیا، جہاں بی بی ایل نجکاری کے اگلے مرحلے پر ووٹنگ متوقع تھی۔ پال مارش نے لکھا’’آسٹریلوی کرکٹ اس وقت نجکاری کے درست راستے پر متفق نہیں ہے۔ خاص طور پر کرکٹ وکٹوریہ کی جانب سے میلبورن رینیگیڈز کی فروخت اور میلبورن اسٹارز کے ساتھ انضمام کی تجویز کے گرد پیدا ہونے والی حالیہ ہلچل اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کھیل ابھی تک کسی مشترکہ حکمت عملی پر متفق نہیں ہو سکا۔
یہ بھی پڑھئے:جسپال رانا کی بایوپک بن رہی تھی، رائے کپور فلمز نے معلومات فراہم کیں
انہوں نے کہا کہ اے سی اے اب بھی نجکاری کے اصولی تصور کی حمایت کرتی ہے، تاہم کرکٹ آسٹریلیا کی موجودہ پیشکش کھلاڑیوں کے لیے موجودہ آمدنی کے حصے میں کوئی بہتری نہیں لاتی، نہ ہی تمام کھلاڑیوں کی تنخواہوں میں اضافے کی ضمانت دیتی ہے اور نہ ہی کھلاڑیوں کی دیگر اہم ترجیحات کو پورا کرتی ہے۔
مارش نے کہاکہ ’’ہم موجودہ عمل اور مجوزہ ایم او یو کے ساتھ متفق نہیں ہیں۔ ہمیں نہیں لگتا کہ اس سے کھیل یا کھلاڑیوں کے لیے بہترین نتائج حاصل ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ اے سی اے کی منظوری کے بغیر نجکاری کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا، اس لیے تنظیم کرکٹ آسٹریلیا اور ریاستی اداروں کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گی تاکہ ایسا معاہدہ طے کیا جا سکے جو کھلاڑیوں اور کھیل دونوں کے مفاد میں ہو۔
یہ بھی پڑھئے:ویسٹ انڈیز کی خاتون ٹیم نے نیوزی لینڈ کو سات وکٹ سے شکست دی
بی بی ایل نجکاری پر جاری بحث میں کھلاڑیوں کی تنخواہیں ایک اہم مسئلہ بن چکی ہیں۔ کئی آسٹریلوی کھلاڑی اس بات پر ناراض ہیں کہ موجودہ نظام کے تحت غیر ملکی کھلاڑی ان سے سالانہ ایک سے دو لاکھ آسٹریلوی ڈالر زیادہ معاوضہ حاصل کر رہے ہیں۔ پال مارش نے یہ بھی بتایا کہ اے سی اے آئندہ سیزن کے لیے بی بی ایل اور ویمنز بی بی ایل کی ادائیگیوں کے ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلیوں پر کرکٹ آسٹریلیا سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ اے سی اے رواں ہفتے میلبورن اسٹارز اور میلبورن رینیگیڈز کے کھلاڑیوں سے بھی ملاقات کرے گی تاکہ کرکٹ وکٹوریہ کی مجوزہ نجکاری اور انضمام سے متعلق خدشات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔