وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باوجود ہندوستان تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور دنیا کی سب سے تیز رفتار معیشت بنا ہوا ہے۔
EPAPER
Updated: June 14, 2026, 8:05 PM IST | New Delhi
وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باوجود ہندوستان تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور دنیا کی سب سے تیز رفتار معیشت بنا ہوا ہے۔
وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے اتوار کو کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باوجود ہندوستان تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور دنیا کی سب سے تیز رفتار معیشت بنا ہوا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے ’’وکست بھارت‘‘ پروگرام میں وزیرِ خزانہ سیتارمن نے کہا کہ یہ مرکزی حکومت کا دعویٰ نہیں ہے کہ ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھنے والی معیشت ہے، بلکہ مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے اعداد و شمار خود اسی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) بھی بڑی معیشتوں میں ہندوستان کو دنیا کی سب سے تیز رفتار معیشت مانتا ہے۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے سیتارمن نے کہا کہ کانگریس لیڈر ملک کی اقتصادی کارکردگی پر مسلسل تنقید کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف ہر سہ ماہی اور ہر سال ہندوستان سب سے تیزی سے بڑھنے والی معیشت بنا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈکپ :مانوئل نوئر کیورا ساؤ کے خلاف میچ کھیلنے کے لیے فِٹ
انہوں نے مزید کہا کہ لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی بار بار کہتے رہتے ہیں کہ کوئی بڑا معاشی بحران آنے والا ہے، لیکن ہندوستان کے لیے ایسا کوئی بحران نہیں آنے والا۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ کانگریس لیڈر کی بار بار کی جانے والی تنقید سے شہریوں کے ذہن میں ملک کی معاشی صورتحال کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔ مرکزی وزیر سیتارمن نے کہا’’اپوزیشن لیڈر (راہل گاندھی) اور ان کی جماعت لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتی ہے کہ ہندوستان مشکل میں ہے۔ تاہم مغربی ایشیا کے بحران اور آبنائے ہرمز کے آس پاس کی رکاوٹوں کے باوجود بھارت مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:’’کالا ہرن‘‘ تنازع: گووند نام دیو کا دعویٰ، انہیں ’اندھیرے میں رکھا گیا‘
ایندھن کی سپلائی اور عالمی تجارت پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے اثرات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیلنجز صرف خام تیل اور ایل پی جی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ تک محدود نہیں ہیں۔انہوں نے کہا’’ان چیلنجز کا اثر نہ صرف خام تیل اور ایل پی جی کی قیمتوں پر پڑتا ہے بلکہ عالمی شپنگ پر بھی ہوتا ہے۔ شپنگ کمپنیاں تنازع والے علاقوں سے اپنے جہاز گزارنے میں ہچکچاتی ہیں۔ جہازوں پر حملے کے خطرے کے باعث انشورنس پریمیم بڑھ جاتے ہیں۔ چاہے جہاز خالی ہو یا اس میں خام تیل لدا ہو، انشورنس کا خرچ کافی بڑھ جاتا ہے اور ملک تک سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے آخرکار یہ خرچ برداشت کرنا پڑتا ہے۔‘‘