Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈارون میں ناممکن کو ممکن بنانے کے بعد بنگلہ دیش کی توجہ سیریز جیتنے پر مرکوز

Updated: August 21, 2026, 5:02 PM IST | Sydney

بنگلہ دیش نے ڈارون میں آسٹریلیا کو شکست دے کر دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں ۰۔۱؍ کی برتری حاصل کرکے بڑا کارنامہ انجام دیا ہے، لیکن سیریز اپنے نام کرنے کے لیے اسے مکائے میں بھی اسی نوعیت کی کارکردگی دُہرانا ہوگی۔

Bangladeshi Batsmen.Photo:X
بنگلہ دیشی بلے باز۔ تصویر:ایکس

بنگلہ دیش نے ڈارون میں آسٹریلیا کو شکست دے کر دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں ۰۔۱؍ کی برتری حاصل کرکے بڑا کارنامہ انجام دیا ہے، لیکن سیریز اپنے نام کرنے کے لیے اسے مکائے میں بھی اسی نوعیت کی کارکردگی دُہرانا ہوگی۔ آسٹریلیا اپنے گھریلو میدان پر دو ٹیسٹ کی سیریز کے دونوں میچ ہارنے سے بچنے کے لیے پوری قوت کے ساتھ واپسی کی کوشش کرے گا۔


بنگلہ دیش کی ڈارون میں ۹؍ وکٹوں کی شاندار کامیابی کو کرکٹ حلقوں میں زبردست سراہا گیا۔ کوچ فل سمنز نے اسے اپنی بہترین ٹیسٹ فتح قرار دیا ہے۔ اس جیت سے بنگلہ دیش کو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی پوائنٹس ٹیبل میں بھی اہم فائدہ ہوا ہے اور مکائے میں کامیابی اسے تیسری پوزیشن تک پہنچا دے گی۔

یہ بھی پڑھئے:جو روٹ نے سچن تینڈولکر کے ریکارڈ کی برابری کرلی، پاکستان کے خلاف نصف سنچری

ڈارون میں بنگلہ دیش کی کامیابی کا راز گیندبازی میں درست لائن و لینتھ، وکٹ حاصل کرنے کی جارحانہ سوچ اور بلے بازی میں صبر تھا۔ تیز گیندبازوں نے آسٹریلیا کی پہلی اننگز کی تمام ۱۰؍وکٹ حاصل کئے جبکہ بلے بازوں نے بھی مضبوط کارکردگی دکھائی۔ حسن محمود نے نو وکٹیں حاصل کرکے پلیئر آف دی میچ کا اعزاز حاصل کیا۔ تنزید حسن نے اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری بنائی، جبکہ مہدی حسن  نے گیند اور بلے دونوں سے نمایاں کردار ادا کیا۔ کپتان نجم الحسن شانتو نے بھی رنز بنانے کے ساتھ میدان میں مؤثر فیصلے کیے۔

یہ بھی پڑھئے:شرمیلا ٹیگور کے بیان پر کنگنا رناوت کا ردعمل، کہا’’ہندو مسلم ذہنیت سے باہر آئیں‘‘

دوسری جانب آسٹریلیا نے دوسرے ٹیسٹ کے لیے جیک ویڈرالڈ کی جگہ میٹ رینشا کو ٹیم میں شامل کیا ہے۔ ویڈرالڈ پہلی اننگز کے ساتھ دوسری اننگز میں بھی ناکام رہے تھے۔ جوش ہیزل ووڈ نے پہلے ٹیسٹ میں چھ وکٹیں حاصل کیں، جبکہ کیمرون گرین کی دوسری اننگز کی سنچری نے آسٹریلیا کو کچھ حوصلہ دیا۔ تاہم سیریز میں واپسی کے لیے آسٹریلیا کو بنگلہ دیش کے پُراعتماد اور مضبوط ارادوں والی ٹیم کے خلاف اس سے کہیں بہتر کارکردگی پیش کرنا ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK