ترکی کے سابق وزیرِاعظم مرحوم پروفیسر ڈاکٹر نجم الدین اربکان نے صیہونیت کے عالمی اثر و رسوخ کی وضاحت کرتے ہوئے اسے ایک مگر مچھ سے تشبیہ دی تھی۔ ان کے مطابق اس مگرمچھ کا اوپری جبڑا امریکہ، نچلا جبڑا یورپی یونین جبکہ اسرائیل اس کی دم کی حیثیت رکھتا ہے۔
EPAPER
Updated: August 21, 2026, 7:03 PM IST | Ankara
ترکی کے سابق وزیرِاعظم مرحوم پروفیسر ڈاکٹر نجم الدین اربکان نے صیہونیت کے عالمی اثر و رسوخ کی وضاحت کرتے ہوئے اسے ایک مگر مچھ سے تشبیہ دی تھی۔ ان کے مطابق اس مگرمچھ کا اوپری جبڑا امریکہ، نچلا جبڑا یورپی یونین جبکہ اسرائیل اس کی دم کی حیثیت رکھتا ہے۔
ترکی کے سابق وزیر اعظم نجم الدین اربکان، جو ترکی کی اسلامی سیاسی تحریک ’’ملّی گوروش‘‘ کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں، صیہونیت اور مغربی سیاسی و معاشی نظام کے سخت ناقد تھے۔ انہوں نے اپنی سیاسی تقاریر اور تحریروں میں بارہا اس مؤقف کا اظہار کیا کہ عالمی سیاسی و معاشی نظام میں بعض طاقتیں ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتی ہیں اور اس نظام کا اثر مسلم دنیا پر بھی پڑتا ہے۔ اربکان نے اپنی کتاب ’’دوام‘‘ (Davam) میں بھی صیہونیت کو مگرمچھسے تشبیہ دیتے ہوئے اس کی مختلف علامتیں بیان کی ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ اور یورپی یونین اس کے دو جبڑوں کی مانند ہیں، جبکہ صیہونیت اس کا دماغ اور اس سے وابستہ مختلف سیاسی، معاشی اور دیگر قوتیں اس کے جسم کی نمائندگی کرتی ہیں۔ بعض مواقع پر انہوں نے اسرائیل کو اس مگرمچھ کی دم سے تعبیر کیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: ہند رجب کے قتل کی تحقیق کو اس کی دادی نے مسترد کردیا
۲۰۰۹ءمیں ڈی-۸؍ تنظیم کے قیام کی ۱۲؍ویں سالگرہ کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اربکان نے دوبارہ یہی تشبیہ پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ’’ صیہونیت ایک مرمچھ کی مانند ہے، جس کے اوپری جبڑے کی نمائندگی امریکہ اور نچلے جبڑے کی نمائندگی یورپی یونین کرتے ہیں، جبکہ اسرائیل اس کی دم ہے۔ بعد ازاں انہوں نے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ عالمی نظام میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط کریں۔اربکان نے عالمی مالیاتی اداروں، خصوصاً عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، پر بھی تنقید کی اور انہیں ترقی پذیر ممالک پر اثرانداز ہونے والے عالمی نظام کا حصہ قرار دیا۔علاوہ ازیں وہ مسلم ممالک کے درمیان اقتصادی، سیاسی اور دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے حامی تھے اور اسی مقصد کے تحت ڈی-۸؍ کے قیام کو اہم پیش رفت سمجھتے تھے۔
یہ بھی پرھئے: پاکستان: سابق وزیر اعظم عمران خان کو جیل سے اسلام آباد اسپتال منتقل کردیا گیا
ذہن نشین رہے کہ اربکان کا انتقال۲۷؍ فروری۲۰۱۱ء کو ہوا، تاہم صیہونیت، مغربی طاقتوں اور عالمی سیاسی و معاشی نظام کے بارے میں ان کے خیالات آج بھی ترکی اور دیگر ممالک میں سیاسی مباحث کا حصہ ہیں۔ ان کی مگرمچھ والی تشبیہ بھی ان کے سیاسی نظریات کی وضاحت کے لیے وقتاً فوقتاً پیش کی جاتی ہے۔