Updated: May 05, 2026, 2:55 PM IST
| Bengaluru
بنگلورو میں آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کے فائنل کی میزبانی کے امکانات پر سنگین خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اراکینِ اسمبلی کو میچ کے ٹکٹ دینے کے معاملے پر جاری سیاسی تنازع کے بڑھنے کے بعد بی سی سی آئی اب اس بڑے میچ کو کسی دوسرے شہر منتقل کرنے کے آپشن پر غور کر رہا ہے۔
آئی پی ایل ۲۰۲۶ء:تصویر:آئی این این
بنگلورو میں آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کے فائنل کی میزبانی کے امکانات پر سنگین خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اراکینِ اسمبلی کو میچ کے ٹکٹ دینے کے معاملے پر جاری سیاسی تنازع کے بڑھنے کے بعد بی سی سی آئی اب اس بڑے میچ کو کسی دوسرے شہر منتقل کرنے کے آپشن پر غور کر رہا ہے۔
یہ تنازع، جو کرناٹک کے اراکینِ اسمبلی کی جانب سے ایم چناسوامی اسٹیڈیم میں ہونے والے آئی پی ایل میچوں کے لیے مفت وی آئی پی ٹکٹوں کی مانگ سے شروع ہوا تھا، اب ایک حساس سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ اس تنازع کے بڑھنے کی وجہ ’وی آئی پی کلچر‘، خصوصی مراعات اور کرناٹک اسٹیٹ کرکٹ ایسوسی ایشن (کے ایس سی اے) پر مبینہ دباؤ کو لے کر تنقید ہے۔
بی سی سی آئی ذرائع کے مطابق پلے آف میچوں کو پنجاب اور کرناٹک کے درمیان تقسیم کیے جانے کا امکان ہے، جو موجودہ چیمپئن کی جانب سے فائنل کی میزبانی کی روایت کے مطابق ہے۔ تاہم، بنگلورو میں انتظامات سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے بورڈ کی منصوبہ بندی کو مشکل بنا دیا ہے۔
بی سی سی آئی کے ایک ذریعے نے کہاکہ’’اگر یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا تو آئی پی ایل فائنل کو بنگلورو سے باہر منتقل کرنا پڑ سکتا ہے۔‘‘یہ تنازع آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کے پہلے میچ سے قبل شروع ہوا تھا، جو رائل چیلنجرز بنگلورو اور سن رائزرز حیدرآباد کے درمیان کھیلا جانا تھا۔ اسی دوران کانگریس کے ایم ایل اے وجے آنند کاشپّنور نے ہر ایم ایل اے کے لیے کم از کم پانچ ٹکٹوں کی مانگ کی تھی اور کہا تھا کہ ایم ایل اے ’وی آئی پی‘ ہوتے ہیں اور انہیں عام لوگوں کی طرح قطار میں نہیں لگنا چاہیے۔
بعد میں یہ معاملہ کرناٹک اسمبلی میں بھی اٹھایا گیا، جہاں مختلف جماعتوں کے اراکین نے شکایت کی کہ کے ایس سی اے، حکومت سے لیز پر ملی زمین پر اسٹیڈیم چلانے کے باوجود منتخب نمائندوں کو مناسب وی آئی پی سہولیات فراہم نہیں کر رہا۔ اطلاعات کے مطابق اسمبلی اسپیکر یو ٹی کھادر نے حکومت سے کہا ہے کہ آئی پی ایل میچوں کے دوران اراکینِ اسمبلی کو وی آئی پی ٹکٹ فراہم کیے جائیں۔ ادھر اپوزیشن لیڈر آر اشوک نے عوامی نمائندوں کے لیے انتظامات پر کے ایس سی اے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
بڑھتے دباؤ کے درمیان کرناٹک کے نائب وزیرِ اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے اس مطالبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ منتخب نمائندوں کو ایسی سہولیات کا حق حاصل ہے۔ بعد میں انہوں نے ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر کے ایس سی اے حکام سے بات چیت بھی کی۔ اس کے بعد کرناٹک حکومت نے اعلان کیا کہ موجودہ آئی پی ایل سیزن میں رائل چیلنجرز بنگلورو کے میچوں کے لیے ایم ایل ایز اور ایم پیز کو مفت ٹکٹ دیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے:میٹ گالا۲۰۲۶ء: سُدھا ریڈی نے جنوبی ہند کی دستکاری کی نمائش کی
اس تنازع پر عوام اور اپوزیشن کے بعض حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل بھی سامنے آیا، جنہوں نے سیاستدانوں پر ایسے وقت میں خصوصی مراعات لینے کا الزام لگایا جب عام شائقین آن لائن ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ بی جے پی کے ایم ایل اے سریش کمار نے عوامی طور پر مفت آئی پی ایل پاس لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اراکینِ اسمبلی کو ایسی مراعات نہیں مانگنی چاہئیں جو عام شہریوں کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔ اسی طرح منڈیا کے ایم ایل اے گنیگا روی نے ٹکٹوں کی فروخت میں بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کچھ ٹکٹ بلیک مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت ہو رہے ہیں اور اس عمل میں شفافیت کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اسرائیلی ٹیلی کام نیٹ ورکس سے عالمی نگرانی کا انکشاف، نئی رپورٹ
ان واقعات نے چناسوامی اسٹیڈیم میں بھیڑ کے انتظام اور انتظامی امور پر خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس سے قبل بھی بڑے آئی پی ایل مقابلوں کے دوران اسٹیڈیم میں گنجائش سے زیادہ بھیڑ ہونے پر انتظامیہ پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ آئی پی ایل پلے آف مرحلہ اب فیصلہ کن دور میں داخل ہو چکا ہے، ایسے میں بنگلورو کی جانب سے فائنل کی میزبانی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال بی سی سی آئی کے لیے ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آئی ہے۔