مکینوں کو بازآباد کاری کیلئے بڑے پیمانے پرنااہل قرار دینے کے خلاف ناراضگی کا اظہار۔ احتجاج کے بعد میٹنگ میں ایس آر اے افسر کی مطالبات وزیر اعلیٰ تک پہنچانے کی یقین دہانی ۔
دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ میں من مانی اور مکینوں کے ساتھ ناانصافی کے خلاف نکالے گئے مورچہ میں شریک افراد۔بڑی تعداد میں پولیس اہلکار بھی نظر آرہے ہیں۔ (تصویر: آئی این این
پولیس کے دبائو کے باوجود پیر کو دھاراوی بچائو آندولن کی زیر سرپرستی ایک احتجاجی مورچہ نکالا گیا جس میں دھاراوی کی از سر نو تعمیر کے پروجیکٹ میں ۸۵؍ فیصد سے زائد دھاراوی واسیوں کو اڈانی کمپنی کے ذریعہ بازآباد کاری کیلئے نااہل قرار دئیے جانےپر ناراضگی کا اظہار کیا گیا۔ مورچہ کے اختتام پر مظاہرے میں شامل سیاسی لیڈران اور مقامی نمائندوں کی ’ایس آر اے‘ کے افسر کے ساتھ میٹنگ کرائی گئی جس میں افسر نے مقامی افراد کے مطالبات وزیر اعلیٰ تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
واضح رہے کہ اتوار کو دھاراوی، شاہو نگر اور سائن پولیس اسٹیشنوں کی جانب سے نوٹس دے کر دھاراوی بچائو آندولن کے لیڈران پر دبائو ڈالا جارہا تھا کہ وہ مورچہ نہ نکالیں۔ تاہم مقامی افراد اپنے فیصلے پر اٹل تھے اور پیر کو صبح ساڑھے ۱۱؍ بجے کمہار واڑہ سے مورچہ شروع ہوا لیکن اسے ’دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ‘ (ڈی آر پی) کے دفتر تک جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور دھاراوی ۹۰؍ فٹ روڈ پر واقع ساحل ہوٹل پر مورچہ ختم کردیا گیا۔ یہاں سے ان کے ایک وفد کی ایس آر اے افسر مہندر کلیانکر کے ساتھ میٹنگ کرائی گئی۔
اس مورچہ اور میٹنگ میں دھاراوی بچاؤ آندولن کی کے نمائندوں کی قیادت مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر شیو سینا کے رکن اسمبلی امباداس دانوے نے کی ۔ اسی طرح شیوسینا کے مقامی رکن پارلیمان انل دیسائی، کانگریس کی رکن پارلیمان ورشا گائیکواڑ، کانگریس کی مقامی رکن اسمبلی ڈاکٹر جیوتی گائیکواڑ، شیو سینا کے رکن اسمبلی مہیش ساونت، شیو سینا کے سابق رکن اسمبلی بابو راؤ مانے، سابق میئر کشوری پیڈنیکر، کارپوریٹر جوزف کولی، آشا دیپک کالے، ارچنا شندے، ببو خان، دھاراوی ریسکیو موومنٹ کے کو آرڈی نیٹر نصیر الحق، الیش گجاکوش اور بزنس مین اسوسی ایشن وغیرہ کے ذمہ داران مورچے میں پیش پیش تھے۔
نصیرالحق کے مطابق میٹنگ کے دوران وہاں موجود افسران نے ایس آر اے افسر مہندر کلیانکر کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تھی جب انہیں بتایا گیا کہ ۸۵؍ فیصد سے زیادہ افراد کو نااہل قرار دیا گیا ہے اور ایک نیا زمرہ ’اَن ڈیسائیڈیڈ‘ (غیر فیصلہ کُن) رکھا گیا ہے۔ جن کو اس زمرے میں رکھا گیا ہے انہیں ان کے مستقبل کے تعلق سے علم ہی نہیں ہوپارہا ہے کہ انہیں اہل قرار دیا جائے گا یا نہیں۔ اس وقت افسران نے مہندر کلیانکر کو سیکٹر ۵؍ کی فہرست لاکر دکھائی جو دراصل مہاڈا کی پرانی اسکیم ہے اور وہ کام دھاراوی ری ڈیولپمنٹ سے الگ ہے۔ اس میں ۸۰؍ فیصد افراد کو اہل قرار دیا گیا ہے۔ تاہم میٹنگ میں موجود افراد نے اس کی نشاندہی کی۔
انہوںنے اپنے مطالبات کی فہرست ایس آر اے افسر کو دی جس میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر ۲۰۲۴ء کا ’گورنمنٹ ریزولوشن‘ (جی آر) واپس لیا جائےجس کے تحت ہائی کورٹ کے ذریعے ایس آر اے کیلئے طے شدہ ۲۰۱۱ء کے بجائے ۳۱؍ دسمبر ۱۹۹۹ء کے دستاویز طلب کئے جارہے ہیں۔ اس پر اس افسر نے کہا کہ جی آر کے تعلق سے کچھ کہنا ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے البتہ وہ ان کی بات وزیر اعلیٰ اور حکومت تک پہنچائیں گے۔
دیگر مطالبات میںیہ باتیں شامل ہیں کہ دھاراوی کے تقریباً تمام ایک لاکھ ۲۰؍ ہزار رہائشی، صنعتی اور کمرشیل ڈھانچوں کو اہل قرار دے کر دھاراوی میں ہی ان کی بازآباد کاری کی جائے، کسی کو بھی دھاراوی سے باہر نہ بھیجا جائے۔ عبادت گاہوں، کھیل کے میدان، اسکول، اسپتال اور ہال وغیرہ کو مناسب مقام پر جگہ دی جائے۔ تمام مکینوں کو آئندہ ۲۰؍ برسوں تک تمام ٹیکس اور سوسائٹی کے اخراجات سے مستثنیٰ قرار دیا جائے ۔ اگر جھوپڑے کے اصل مالک نے اسے فروخت کردیا ہے تو ’ٹرانسفر ڈیڈ‘ کی بنیاد پر اہل قرار دیا جائے۔ اڈانی کے ذریعے اب تک جو سروے کیا گیا ہے، اسے منسوخ کیا جائے کیونکہ اس میں ۸۵؍ فیصد سے زائد مکینوں کو نااہل قرار دیا گیا ہے۔ بی ایم سی یا کلکٹر کے ذریعہ دوبارہ سروے کرایا جائے ان کےعلاوہ بھی کئی مطالبات کئے گئے ہیں۔