دہلی ہائی کورٹ نے بالی ووڈ اداکار سلمان خان کو بڑی عبوری راحت دیتے ہوئے فلم ’’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی‘‘ کے پروڈیوسرز کو حکم دیا ہے کہ وہ فلم کا ٹیزر اور اس سے متعلق تمام تشہیری مواد ۲۴؍ گھنٹوں کے اندر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہٹا دیں۔
EPAPER
Updated: July 28, 2026, 5:05 PM IST | Mumbai
دہلی ہائی کورٹ نے بالی ووڈ اداکار سلمان خان کو بڑی عبوری راحت دیتے ہوئے فلم ’’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی‘‘ کے پروڈیوسرز کو حکم دیا ہے کہ وہ فلم کا ٹیزر اور اس سے متعلق تمام تشہیری مواد ۲۴؍ گھنٹوں کے اندر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہٹا دیں۔
دہلی ہائی کورٹ نے بالی ووڈ اداکار سلمان خان کو بڑی عبوری راحت دیتے ہوئے فلم ’’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی‘‘ کے پروڈیوسرز کو حکم دیا ہے کہ وہ فلم کا ٹیزر اور اس سے متعلق تمام تشہیری مواد ۲۴؍ گھنٹوں کے اندر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہٹا دیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر فلم ساز حکم پر عمل نہ کریں تو ایکس (X) اور یوٹیوب سمیت متعلقہ پلیٹ فارمز کو مواد ہٹانے کی ہدایت دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے:’’سدارمیا کا انتخابی سیاست سے کنارہ کشی کا فیصلہ حتمی ہے‘‘
سلمان خان نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ فلم ۱۹۹۸ء کے کالا ہرن شکار کیس سے متاثر دکھائی دیتی ہے اور اگرچہ ان کا نام نہیں لیا گیاہے لیکن ٹیزر میں ان سے مشابہ کردار اور ان کی شناخت سے جڑی علامات استعمال کرکے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس جیوتی سنگھ نے ریمارکس دیے کہ کسی شخص کی شہرت برسوں کی محنت سے بنتی ہے اور اسے نقصان پہنچنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ عدالت نے کہا کہ اگر ایسا مواد چند گھنٹوں کے لیے بھی عوامی سطح پر موجود رہے تو اس سے متعلقہ شخص کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
فلم ’’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی‘‘ مبینہ طور پر۱۹۹۸ء کے کالا ہرن شکار کیس اور اس سے وابستہ تنازع پر مبنی ہے، تاہم فلم کے پروڈیوسرز کا مؤقف ہے کہ یہ سلمان خان کی بایوپک نہیں بلکہ عوامی ریکارڈ پر موجود واقعات سے متاثر ایک الگ کہانی ہے۔
بار اینڈ بینچ کی رپورٹ کے مطابق سماعت کے دوران جسٹس سنگھ نے فلم سازوں سے سخت سوالات کیے اور تشہیری مواد کی نوعیت پر ناراضی ظاہر کی۔ جسٹس سنگھ نے پروڈیوسرز سے کہا’’یہ کس قسم کا مواد ہے؟ لگتا ہے کہ آپ کو اس بات سے حوصلہ ملا ہے کہ پچھلی بار عدالت نے کوئی حکم جاری نہیں کیا تھا۔ آپ کے مؤکل کو لگتا ہے کہ وہ قانون سے بالاتر ہے۔ وہ دن بہ دن مزید آگے بڑھتا جا رہا ہے۔ جب تک یہ مواد عوامی سطح پر موجود ہے، ہر لمحہ مدعی (سلمان خان) کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ میں نے پہلے آپ کے ساتھ نرمی برتی تھی، لیکن آپ سدھرنے والے نہیں ہیں۔ آپ کسی عام آدمی کے ساتھ بھی ایسا نہیں کر سکتے۔‘‘
فلم ’’کالا ہرن‘‘ کس بارے میں ہے؟
رپورٹس کے مطابق فلم ’’کالا ہرن: دی بیٹل فارلیگیسی‘‘ کی کہانی ۱۹۹۸ء کے بلیک بک (کالا ہرن) شکار کیس ، بشنوئی برادری کی جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے طویل جدوجہد، اور سلمان خان و گینگسٹر لارنس بشنوئی سے جڑے تنازع سے متاثر بتائی جاتی ہے۔ فلم اس وقت تنازع کا شکار بن گئی جب اس کا فرسٹ لک ٹیزر ۱۲؍ جون کو جاری کیا گیا، جس پر یہ عبارت درج تھی: گرو جمبھیشور بھگوان اور بشنوئی برادری کے نام۔
ٹیزر میں کاشف اقبال خان نے ایک ایسا کردار ادا کیا جو مبینہ طور پر سلمان خان سے مشابہت رکھتا ہے جبکہ سینئر اداکار گووند نام دیو بشنوئی برادری کی جانب سے انصاف کی جدوجہد کرنے والے وکیل کے کردار میں نظر آئے۔ گزشتہ ماہ تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب تجربہ کار اداکار گووند نام دیو نے عوامی طور پر فلم سے خود کو الگ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں فلم کے اصل موضوع سے لاعلم رکھا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:’’اداکار وہی کامیاب ہوتا ہے جو خود کو مسلسل بہتر بناتا رہتا ہے‘‘
انہوں نے کہا’’جیسے ہی میں نے ٹریلر دیکھا، میں حیران رہ گیا۔ فوراً سمجھ گیا کہ یہ وہ فلم نہیں ہے جس کی شوٹنگ میں نے کی تھی۔ ہمیں کبھی نہیں بتایا گیا تھا کہ سلمان خان سے مشابہ ایک کردار اس انداز میں پیش کیا جائے گا۔ ٹریلر دیکھتے ہی مجھے محسوس ہوا کہ مجھے اندھیرے میں رکھا گیا اور استعمال کیا گیا۔ مجھے جو بتایا گیا تھا اور جو فلم بنائی گئی، دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔‘‘