’’بلڈوزر ایکشن‘‘ مہنگا پڑ گیا، معذرت سے کام نہیں چلا، کمشنرکو۴؍ مارچ تک جواب دینا ہے کہ میونسپل کارپوریشن گھر بنا کردے گا یا ہرجانہ ادا کرے گا۔
EPAPER
Updated: February 16, 2026, 10:32 AM IST | Nagpur
’’بلڈوزر ایکشن‘‘ مہنگا پڑ گیا، معذرت سے کام نہیں چلا، کمشنرکو۴؍ مارچ تک جواب دینا ہے کہ میونسپل کارپوریشن گھر بنا کردے گا یا ہرجانہ ادا کرے گا۔
بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ نے ناگپور میونسپل کارپوریشن سے دوٹوک سوال کیا ہے کہ وہ فساد کے الزام میں گرفتار کئے گئے ۳۸؍سالہ فہیم خان کے گھر کے خلاف غیر قانونی ’’بلڈوزر ایکشن ‘‘ کے بعد اب خود دوبارہ گھر بنا کر دے گا یا متاثرہ خاندان کو ہرجانہ ادا کرےگا۔ یاد رہے کہ مغل حکمراں اورنگ زیب اور ان کے مزار کے تعلق سے بھگوا عناصر کی مسلسل شرانگیزیوں کی وجہ سے ناگپورمیں ۱۷؍ مارچ کو تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ پولیس نے ماحول کو بگاڑنےوالے بھگوا عناصر کے خلاف تو کارروائی نہیں کی البتہ کئی دیگر مسلم نوجوانوں کے ساتھ فہیم خان کو تشدد کا ماسٹر مائنڈ قرار دیکرگرفتار کرلیا اور پھر ان کے سہ منزلہ مکان پر ۲۵؍ مارچ کوبلڈوزر چلا دیا گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مکان فہیم خان کی ۶۹؍ سالہ والدہ مہر النساء شمیم خان کے نام پر تھا۔ بلڈوزر ایکشن کیلئے ۲۴؍ گھنٹے کا نوٹس تو دیاگیا مگر جواب دینے کی مہلت نہیں دی گئی بلکہ اس سے قبل ہی سہ منزلہ عمار ت کو زمیں بوس کرکے فہیم کے اہل خانہ کو بے گھر کردیاگیا۔ ’’بلڈوزر ایکشن‘‘ کے تعلق سے سپریم کورٹ کی واضح ہدایت ہے کہ جواب دینے کیلئے کم از کم ۱۵؍ دن کی مہلت دی جانی چاہئے۔ اس کی نشاندہی ہونے پر سابقہ شنوائی میں ناگپور میونسپل کارپوریشن نے سپریم کورٹ کے رہنما خطوط پر عمل نہ کرنے پر معذرت کا اظہار کیاتھا اور یہ عذر لنگ پیش کیاتھا کہ افسران سپریم کورٹ کے حکم سے ناواقف تھے۔ جمعرات کو اس معاملے کی شنوائی میں ، جس کی تفصیل دیر سے میڈیا کے سامنے آئی ہے، جسٹس انل کیلور اور جسٹس راج واکوڈے نے دوٹوک انداز میں ناگپور میونسپل کارپوریشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ متاثرہ کا گھر دوبارہ بنا کر دے گا یا اس کا ہرجانہ ادا کرے گا۔