• Mon, 16 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں زمینوں کے رجسٹریشن کے منصوبے پر سخت عالمی ردعمل

Updated: February 16, 2026, 7:12 PM IST | Jerusalem

اسرائیل میں بستیوں کی تعمیر پر نظر رکھنے والے ادارے ’پیس ناؤ‘ نے اس اقدام کو ”زمینوں پر قبضے کا بہت بڑا منصوبہ“ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے خطے کے بڑے حصوں پر اسرائیلی کنٹرول مزید مضبوط ہو جائے گا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ فلسطینی علاقے مغربی کنارے میں زمینوں کی رجسٹریشن کے نئے عمل کیلئے منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے پر بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ عالمی برادری نے انتباہ دیا ہے کہ کہ یہ اقدام فلسطینی علاقوں کے باضابطہ الحاق کی کوششوں کو تیز کرسکتا ہے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق، اس اقدام کا مقصد جائیداد کے حقوق کی وضاحت کرنا اور دیرینہ قانونی تنازعات کو حل کرنا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ عمل ”جائیداد کے حقوق کی شفاف اور مکمل وضاحت“ کو یقینی بنائے گا اور ان علاقوں میں زمینوں کے مبینہ غیر قانونی رجسٹریشن کے مسئلے کو حل کرے گا جو فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ انتظام ہیں۔ تاہم، فلسطینی حکام اور متعدد ممالک نے اس فیصلے کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: تعمیر نو کیلئے ۵؍ ارب ڈالر کا وعدہ: ٹرمپ کا اعلان

ترکی اور عرب ممالک نے اسرائیل پر تنقید کی

ترکی نے اسرائیلی حکومت کے فیصلے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اس منصوبے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ مغربی کنارے میں غیرقانونی بستیوں کی تعمیر میں توسیع اور مقبوضہ زمین پر اپنا تسلط جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انقرہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس اقدام کا مقصد فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کرنا اور الحاق کی کوششوں کو تیز کرنا ہے۔ مقبوضہ علاقوں پر اسرائیل کی کوئی خودمختاری نہیں ہے۔

مصر نے اس فیصلے کو ”خطرناک اشتعال انگیزی“ قرار دیا جس کا مقصد فلسطینی زمین پر اسرائیلی کنٹرول کو مستحکم کرنا ہے۔ قطر کی وزارتِ خارجہ نے بھی مغربی کنارے کی زمینوں کو نام نہاد ”ریاستی ملکیت“ میں تبدیل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس اقدام سے فلسطینی اپنے حقوق سے محروم ہو جائیں گے۔ اردن نے بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کیا۔ فلسطینی اتھارٹی نے فوری بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے اس منصوبے کو ”عملی طور پر الحاق کے عمل کا آغاز“ اور مستقبل کی فلسطینی ریاست کے امکانات پر براہِ راست ضرب قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: پچاس ہزار سے زائد اسرائیلی فوجی غیر ملکی شہریت کے بھی حامل ہیں: رپورٹ

’ایریا سی‘ پر توجہ

اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے ’کان‘ نے رپورٹ کیا کہ ۱۹۶۷ء کے بعد، جب اسرائیل نے اس علاقے پر قبضہ کیا تھا، پہلی بار مغربی کنارے میں زمینوں کے رجسٹریشن کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ یہ عمل بنیادی طور پر ’ایریا سی‘ (Area C) پر لاگو ہوگا۔ واضح رہے کہ یہ علاقہ مغربی کنارے کا تقریباً ۶۰ فیصد حصہ ہے اور اوسلو معاہدے کے تحت مکمل طور پر اسرائیلی سیکوریٹی اور انتظامی کنٹرول میں ہے۔

اسرائیل میں بستیوں کی تعمیر پر نظر رکھنے والے ادارے ’پیس ناؤ‘ (Peace Now) نے اسرائیلی اقدام کو ”زمینوں پر قبضے کا بہت بڑا منصوبہ“ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے خطے کے بڑے حصوں پر اسرائیلی کنٹرول مزید مضبوط ہو جائے گا۔

یاد رہے کہ اس سے چند دن قبل اسرائیل کی سلامتی کابینہ نے فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ انتظام علاقوں میں نگرانی سخت کرنے کی منظوری دی ہے اور یہودی اسرائیلیوں کو مغربی کنارے میں براہِ راست زمین خریدنے کی اجازت اور بعض مذہبی مقامات پر اسرائیلی حکام کو وسیع تر کنٹرول فراہم کیا۔ اس وقت مغربی کنارے کی بستیوں میں ۵ لاکھ سے زائد اسرائیلی آباد کار مقیم ہیں، جبکہ تقریباً ۳۰ لاکھ فلسطینی اس علاقے میں رہتے ہیں۔ یہ علاقہ کسی بھی مجوزہ دو ریاستی حل کے لئے مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK