امریکی صدر کی دھمکی کا سخت جواب دیتے ہوئے ایران کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے خبردار کیا کہ امریکہ کی کوئی بھی جنگ ٹرمپ کے لئے ”عبرت ناک معرکہ“ ثابت ہوگی۔
EPAPER
Updated: February 16, 2026, 8:05 PM IST | Tehran
امریکی صدر کی دھمکی کا سخت جواب دیتے ہوئے ایران کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے خبردار کیا کہ امریکہ کی کوئی بھی جنگ ٹرمپ کے لئے ”عبرت ناک معرکہ“ ثابت ہوگی۔
ایران نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی اثر و رسوخ سے آزاد ہوکر جوہری مذاکرات کو آگے بڑھائے۔ الجزیرہ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ایران کی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا کہ تہران امریکہ کے ساتھ سفارت کاری کیلئے پرعزم ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ بیرونی مداخلت دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی پیش رفت کو پٹری سے اتار سکتی ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر اس عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ ”ہمارے مذاکرات خصوصی طور پر امریکہ کے ساتھ ہیں۔ ہم اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت میں شامل نہیں ہیں۔“
لاریجانی نے تصدیق کی کہ ایران نے عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی کے ذریعے اپنے موقف سے واشنگٹن کو آگاہ کر دیا ہے۔ ابھی تک امریکہ کی جانب سے کوئی سرکاری جواب موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی ممالک خاموشی سے ان مذاکرات کی حمایت میں کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: علاقائی ممالک باہمی مسائل حل کے اہل، بیرونی سرپرستی کی ضرورت نہیں: ایرانی صدر
میزائیل پروگرام اور یورینیم افزودگی پر ’سمجھوتہ‘ نہیں
لاریجانی نے تہران کے موقف کا اعادہ کیا کہ ایران کا میزائیل پروگرام مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے اسے قومی سلامتی سے وابستہ ایک اندرونی معاملہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ”دیگر موضوعات کو شامل کرنے سے مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں۔“
لاریجانی نے ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی کو صفر تک کم کرنے کی کسی بھی تجویز کو ”ناقابلِ عمل“ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ ان کے مطابق، یورینیم کی افزودگی، طبی تحقیق اور علاج جیسے شہری مقاصد کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تہران جوہری ہتھیار نہیں چاہتا۔ اس نکتے پر واشنگٹن کے ساتھ مشترکہ بنیادیں موجود ہیں۔ لاریجانی نے متنبہ کیا کہ ایران ممکنہ خطرات کے لئے تیار ہے اور گزشتہ سال اسرائیل کے ساتھ ہوئی ۱۲ روزہ جنگ کے بعد سے حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران کے تیل پر زیادہ سے زیادہ دباؤ بڑھانے پر متفق: رپورٹ
امریکی بحری بیڑوں کی تعیناتی اور فوجی انتباہ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری بیڑا ’یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ‘ مشرقِ وسطیٰ روانہ کر دیا جائے گا۔ ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ واضح رہے کہ ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ اور دیگر بحری جہاز پہلے ہی خطے میں موجود ہیں۔
امریکی صدر کو جواب دیتے ہوئے ایران کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے خبردار کیا کہ امریکہ کی کوئی بھی جنگ ٹرمپ کے لئے ”عبرت ناک معرکہ“ ثابت ہوگی۔ انہوں نے ایران میں ممکنہ تبدیلیِ اقتدار کے بارے میں امریکی صدر کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے انہیں لاپروائی اور جاری سفارت کاری کے منافی قرار دیا۔ موسوی نے کہا کہ ”اگر ان کا ارادہ جنگ چھیڑنے کا ہے، تو انہیں مذاکرات کی بات نہیں کرنی چاہیے۔“
یہ بھی پڑھئے: امریکہ اور ایران جنیوا میں ایٹمی مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے رضامند: رپورٹ
واضح رہے کہ گزشتہ سال جون میں ہوئے ایران اسرائیل تنازع کے بعد مہینوں کے تعطل کے بعد جوہری مذاکرات کا سلسلہ رواں ماہ کے اوائل میں عمان میں دوبارہ شروع ہوا تھا۔ نائب وزیر خارجہ ماجد تخت روانچی کے مطابق مذاکرات کا اگلا دور منگل کو جنیوا میں طے ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ واشنگٹن کو معاہدے تک پہنچنے کے لئے حقیقی عزم ظاہر کرنا ہوگا۔ تخت روانچی نے مزید کہا کہ ”گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے۔ اگر وہ مخلص ہیں، تو ہم معاہدے کی راہ پر ہوگے۔“