ڈلاس ماویرکس کے اسٹار کھلاڑی کیری ارونگ نے این بی اے آل اسٹار گیم کے دوران ایک خاص پیغام والیPRESS (پریس) شرٹ پہن کر غزہ میں جان سے جانے والے صحافیوں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ واضح رہے کہ ارونگ اس سے قبل بھی فلسطین کی حمایت میں آواز اٹھا چکے ہیں۔
EPAPER
Updated: February 16, 2026, 8:06 PM IST | New York
ڈلاس ماویرکس کے اسٹار کھلاڑی کیری ارونگ نے این بی اے آل اسٹار گیم کے دوران ایک خاص پیغام والیPRESS (پریس) شرٹ پہن کر غزہ میں جان سے جانے والے صحافیوں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ واضح رہے کہ ارونگ اس سے قبل بھی فلسطین کی حمایت میں آواز اٹھا چکے ہیں۔
امریکی باسکٹ بال لیگ این بی اے کے آل اسٹار گیم میں اس بار کھیل کے ساتھ ایک مضبوط پیغام بھی نمایاں رہا۔ ڈلاس ماویرکس کے اسٹار گارڈ کیری ارونگ نے پیر کو میچ کے دوران ایک خصوصی PRESS شرٹ پہن کر غزہ میں مارے گئے صحافیوں کے لیے حمایت اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ شرٹ کے ٹیگ پر درج پیغام میں لکھا تھا: ’’غزہ میں ہمارے پیارے صحافیوں کے لیے وقف، جو دنیا کو سچ دکھا رہے ہیں۔‘‘ اس پیغام نے سوشل میڈیا اور کھیلوں کی دنیا میں فوری توجہ حاصل کی، جہاں مداحوں اور مبصرین نے اس اقدام پر مختلف ردِعمل کا اظہار کیا۔ ۳۳؍ سالہ ارونگ اس سے قبل بھی فلسطین اور غزہ کے حوالے سے اپنے بیانات اور اقدامات کی وجہ سے خبروں میں رہ چکے ہیں۔ انہوں نے ماضی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیفیہ پہن کر غزہ میں جاری صورتحال کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی تھی۔ ان کے اس اقدام کو بعض حلقوں نے اظہارِ رائے کی آزادی کے طور پر سراہا، جبکہ دیگر نے اسے متنازع قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ترکی کےوزیر خارجہ کی غزہ کی انتظامیہ کی قومی کمیٹی کے سربراہ سے ملاقات
این بی اے آل اسٹار گیم عام طور پر کھیل کے جشن اور تفریحی ماحول کے لیے جانا جاتا ہے، مگر اس بار ارونگ کے پیغام نے اسے ایک مختلف پہلو دیا۔ کھیل کے میدان سے باہر سماجی اور سیاسی موضوعات پر آواز اٹھانا پیشہ ور کھلاڑیوں کے لیے کوئی نئی بات نہیں، تاہم ہر بیان اور علامتی اظہار عوامی مباحث کو جنم دیتا ہے۔ ارونگ کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور صحافیوں کی ہلاکتوں پر بین الاقوامی سطح پر بحث جاری ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا جنگی علاقوں میں میڈیا نمائندوں کے تحفظ پر زور دیتی رہی ہیں، کیونکہ وہ زمینی حقائق دنیا تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کھیلوں کی دنیا میں سماجی انصاف اور انسانی حقوق کے موضوعات پر آواز اٹھانے کی روایت گزشتہ برسوں میں مضبوط ہوئی ہے۔ کئی کھلاڑی نسلی مساوات، جنگ مخالف پیغامات اور انسانی ہمدردی کے موضوعات پر اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں۔ کیری ارونگ کا حالیہ قدم بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: میونخ: سعودی وزیر خارجہ اور ٹرمپ کے مشیر مساد بولوس کے درمیان ملاقات
ڈلاس ماویرکس کے لیے کھیلنے والے ارونگ اپنی غیر معمولی مہارت اور جارحانہ اندازِ کھیل کے لیے جانے جاتے ہیں، لیکن ان کی شخصیت کا ایک پہلو سماجی معاملات پر واضح مؤقف اختیار کرنا بھی ہے۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی شہرت اور پلیٹ فارم کو اہم مسائل کی جانب توجہ دلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ دوسری جانب ناقدین کا مؤقف ہے کہ کھیلوں کے ایونٹس کو سیاسی یا متنازع موضوعات سے دور رکھنا چاہیے۔ تاہم ارونگ کے حالیہ اقدام نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ کیا کھیل اور سیاست کو مکمل طور پر الگ رکھا جا سکتا ہے، یا کھلاڑی بطور عوامی شخصیات سماجی مباحث کا حصہ بننے کا حق رکھتے ہیں۔