کنیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نےا مریکہ پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، کنیڈا۸؍ ستمبر سے امریکی اسٹیل، الیکٹرانکس اور دیگر مصنوعات کی درآمدات پر محصولات عائد کرے گا۔
EPAPER
Updated: August 23, 2026, 8:08 PM IST | Ottawa
کنیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نےا مریکہ پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، کنیڈا۸؍ ستمبر سے امریکی اسٹیل، الیکٹرانکس اور دیگر مصنوعات کی درآمدات پر محصولات عائد کرے گا۔
کنیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے واشنگٹن کی جانب سے۲۰؍ ارب ڈالر مالیت کی کنیڈین مصنوعات پر۵۰؍ فیصد محصول عائد کیے جانے کے بعد امریکہ کے خلاف جوابی محصولات کا اعلان کیا ہے۔کارنی نے سنیچر کو اوٹاوا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئےکنیڈین محصولات امریکی اسٹیل، ڈیری اور الیکٹرانکس سمیت دیگر صنعتوں کو نشانہ بنائیں گے اور۸؍ ستمبر سے نافذ العمل ہوں گے۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا، ’’ کنیڈا واشنگٹن کے نئے محصولات کا ڈالر بہ ڈالر جواب دے گا تاکہ کنیڈین مزدوروں، کسانوں، خاندانوں اور کاروباروں کا تحفظ کیا جا سکے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: یوکرین کو برطانیہ کی حمایت، روس برطانیہ میں کشیدگی، روس نے اپنا سفیر واپس بلایا
واضح رہے کہ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب جمعہ کو کئی روزہ سخت مذاکرات ناکام ہو گئے، جس سے دیرینہ تجارتی شراکت داروں اور اتحادیوں کے درمیان نازک تعلقات مزید بگڑ گئے۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے نئے محصولات میں شراب، فرنیچر، ڈیری مصنوعات، سیمنٹ، ملبوسات، مچھلی پکڑنے کی چھڑیاں اور ہاکی کا سامان شامل ہے، اور یہ تقریباً۲۰؍ ارب ڈالر مالیت کی اشیاء کا احاطہ کرتے ہیں، جو امریکہ کو کنیڈا کی برآمدات کا ۵؍ اعشاریہ ۵؍ فیصد بنتا ہے۔ٹرمپ نے کارنی کے اعلان کا جواب دیتے ہوئے ٹروتھ سوشل پر کہا، ’’ کنیڈا ریاست ہونے کے فوائد چاہتا ہے، بغیر ریاست بنے، ‘‘انہوں نے دعویٰ کیا کہ کنیڈا نے برسوں سے امریکی کسانوں سے ’’بھاری بھرکم‘‘محصولات وصول کیے ہیں، اور مزید کہا: ’’اب بس کرو۔‘‘
بعد ازاں کارنی ان چند عالمی لیڈروں میں سے ہیں جنہوں نے امریکی محصولات کے خلاف جوابی کارروائی کی ہے اور انہوں نے کنیڈا کی برآمدات کا تقریباً ۷۰؍ فیصد امریکہ پر انحصار ہونے کے باوجود نئے تجارتی اور فوجی اتحاد بنانے کا عزم کیا ہے۔سنیچر کو اوٹاوا میں کارنی نے کہا کہ،’’ امریکہ کے ساتھ مذاکرات اس وقت ناکام ہوئے جب ٹرمپ نے ایسی شرائط رکھیں جو بالآخر ناقابلِ قبول تھیں، حالانکہ ابتدائی مذاکرات مثبت تھے۔‘‘حالیہ دنوں میں، امریکہ نے نئی شرائط پیش کیں جو غیر معاشی، غیر منصفانہ تھیں اور کنیڈا کے خالص فوائد کو نقصان پہنچاتی تھیں، اور کسی بھی معاہدے کی نیت پر سوالیہ نشان لگاتی تھیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کا عہد، جب تک وہ وزیر اعظم رہیں گے فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوگی
دریں اثناءانہوں نے کہا کہ کنیڈا امریکی اسٹیل، ڈیری، آلات، زرعی آلات، گودا اور کاغذ، الیکٹرانکس کے علاوہ کچھ ایسی مصنوعات پر بھی محصولات عائد کرے گا جنہیں امریکہ نے پہلے کنیڈا میں نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آنے والے دنوں میں اپنے جواب کی تفصیلات جاری کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کنیڈا اگلے ہفتے ان صنعتوں کے لیے امدادی اقدامات کا اعلان کرے گا جو نئے امریکی محصولات سے متاثر ہوئی ہیں، اور یہ اقدامات برسوں تک جاری رہ سکتے ہیں۔ تاہم نئےامریکی محصولات سے کنیڈا کی معیشت پر شدید اثر پڑنے کی توقع ہے۔ الجزیرہ کے ڈیوڈ مرسر نے کنیڈا کے شہر کیلگری سے رپورٹ کرتے ہوئے کہا: "لاگت بڑھے گی، قیمتیں بڑھیں گی، اور بے روزگاری بھی بڑھے گی۔ اور یہ خبردار کیا گیا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری مالکان میں سے کچھ کو دیوالیہ پن کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘ساتھ ہی، مرسر نے کہا کہ کارنی اس تجارتی جنگ کو کنیڈا کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات مضبوط کرنے کے موقع کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: "وہ دنیا بھر میں گھوم رہے ہیں، ایشیا اور یورپ کے ممالک سے بات کر رہے ہیں، نئے تجارتی تعلقات کو مستحکم کر رہے ہیں، کنیڈا کی معیشت اور دنیا بھر کے دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو متنوع بنانا چاہتے ہیں تاکہ اس انحصار سے نجات حاصل کی جا سکے جو کنیڈا کو روایتی طور پر امریکہ پر رہا ہے۔" کنیڈا میں عوامی رائے کے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر کنیڈین تجارتی مذاکرات میں امریکہ کے خلاف ’’سخت موقف‘‘ کی حمایت کرتے ہیں۔
ذہن نشین رہے کہ لیجر کی گزشتہ ہفتے کی پول کے مطابق 56 فیصدکنیڈین سخت لائن اور مزید مراعات نہ دینے کے حق میں تھے۔اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ، جو امریکی محصولات کے سب سے بڑے مخالفین میں سے ہیں، نے کارنی کے جوابی کارروائی کے فیصلے کی حمایت کی۔ فورڈ نے ہفتہ کو صحافیوں کو بتایا: "مجھے خوشی ہے کہ انہوں نے وہ معاہدہ نہیں کیا کیونکہ یہ برا معاہدہ تھا۔ یہ اونٹاریو کے لیے برا معاہدہ تھا، آٹو سیکٹر، اسٹیل سیکٹر اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے برا معاہدہ تھا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: بازیابی کے بعد لاشیں دفنانے کی جگہ کم پڑ گئی
علاوہ ازیں امریکی ٹریڈ نمائندے جیمیسن گریئر نے فاکس نیوز کو بتایا کہ کنیڈا کے ساتھ کوئی نئےمذاکرات کا منصوبہ نہیں ہے۔ گریئر نے کہا،’’ہم ان اقدامات کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں جو کینیڈا کی جوابی کارروائی کا جواب ہیں۔ ان کے پاس ہمیشہ بہترین معاہدہ تھا، اور ان کے پاس اب بھی اس سے بھی بہتر معاہدہ ہوتا، لیکن وہ یہ نہیں چاہتے تھے۔‘‘ دریں اثنا، بڑھتی ہوئی تجارتی جنگ نے منیسوٹا، نیویارک اور واشنگٹن سمیت سرحدی ریاستوں کے ڈیموکریٹک قانون سازوں اور گورنروں میں غم و غصہ پیدا کیا ہے، جنہوں نے ٹرمپ پر الزام لگایا کہ انہوں نے ایسی افراتفری کو جنم دیا جس سے امریکی کاروباروں اور خاندانوں کے اخراجات بڑھیں گے۔ نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچول نے ایکس پر پوسٹ کیا، ’’بلا ضرورت اپنے اتحادیوں سے جھگڑے اور گھر پر قیمتیں بڑھانا۔ یہی مختصراً ٹرمپ کی اقتصادی پالیسی ہے۔‘‘بزنس راؤنڈ ٹیبل، جو امریکی بڑی کارپوریشنوں کے ۲۰۰؍ چیف ایگزیکٹوز کا ایک گروپ ہے، نے بھی خبردار کیا کہ’’ نئے محصولات امریکی کاروباروں اور خاندانوں کے اخراجات بڑھائیں گے،‘‘ اور دونوں حکومتوں پر زور دیا کہ مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔