فلم ’’دُھرندھر ۲‘‘ ایک مسئلے سے نکل کر دوسرے میں پھنس گئی ہے۔ رنویر سنگھ کی اس فلم میں گانے ’’اوئے اوئے‘‘ کے استعمال پر حال ہی میں ایک فلم پروڈکشن کمپنی نے کیس درج کر دیا ہے۔
EPAPER
Updated: April 09, 2026, 11:04 AM IST | Mumbai
فلم ’’دُھرندھر ۲‘‘ ایک مسئلے سے نکل کر دوسرے میں پھنس گئی ہے۔ رنویر سنگھ کی اس فلم میں گانے ’’اوئے اوئے‘‘ کے استعمال پر حال ہی میں ایک فلم پروڈکشن کمپنی نے کیس درج کر دیا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ گانے کے استعمال سے پہلے نہ تو آدتیہ دھر اور نہ ہی ان کی ٹیم نے کوئی اجازت یا لائسنس حاصل کیا۔ ان کے مطابق ان کے گانے’’ترچھی ٹوپی والے‘‘ کی شروعات ’’اوئے اوئے‘‘ سے ہوتی ہے، اور ’’دُھرندھر ۲‘‘ کے میکرز نے انہی ابتدائی الفاظ اور دھن کو فلم کے گانے ’’رنگ دے لال‘‘ میں استعمال کیا ہے۔
کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا الزام
رپورٹس کے مطابق اس گانے کے تمام میوزک اور ساؤنڈ ریکارڈنگ کے حقوق تری مورتی فلمز کے پاس محفوظ ہیں، اور وہی اس کے اصل مالک ہیں۔ کمپنی نے الزام لگایا ہے کہ بغیر اجازت گانے کو دوبارہ بنانا اور عوامی طور پر نشر کرنا واضح طور پر کاپی رائٹ کی خلاف ورزی ہے۔مقدمے میں تری مورتی فلمز نے مطالبہ کیا ہے کہ گانے کے مزید استعمال پر فوری پابندی لگائی جائے، ہرجانہ دیا جائے اور دیگر قانونی ریلیف فراہم کیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے فلم کی تھیٹر ریلیز، اسٹریمنگ پلیٹ فارمز اور پروموشنل سرگرمیوں کے ذریعے گانے کے تجارتی استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ ابھی تک ’’دُھرندھر ۲‘‘ کے میکرز کی جانب سے اس معاملے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایرانی تہذیب کو مٹادینے کی دھمکی کے بعد ایران ہی کی شرطوں پر جنگ بندی
پہلے بھی تنازعات میں رہ چکی ہے فلم
رنویر سنگھ اور سارہ ارجن کی فلم ’’دُھرندھر ۲‘‘ پہلے بھی کئی تنازعات کا شکار رہ چکی ہے۔ فلم میکر سنتوش کمار آر ایس نے میکرز پر اپنی ۲۰۲۳ء کی اسکرپٹ چوری کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اس کے علاوہ فلم کے کچھ مناظر پر سکھ برادری کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات بھی لگے تھے۔ فلم کی پائریسی اور غیر قانونی اسٹریمنگ روکنے کے لیے خود میکرز کو عدالت جانا پڑا تھا۔ حالیہ دنوں میں ٹیلیگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر محض ۵۰؍ روپے میں ’’دُھرندھر ۲‘‘ فروخت کیے جانے کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں۔