پائریسی کے باعث ہندوستانی فلم انڈسٹری اور ڈیجیٹل تفریحی شعبہ کو ہونے والے مالی نقصان کے پیش نظرحکومت کا اقدام، ۱۵؍ دن میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم۔
EPAPER
Updated: July 05, 2026, 11:38 AM IST | New Delhi
پائریسی کے باعث ہندوستانی فلم انڈسٹری اور ڈیجیٹل تفریحی شعبہ کو ہونے والے مالی نقصان کے پیش نظرحکومت کا اقدام، ۱۵؍ دن میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم۔
مرکزی حکومت نے ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل پائریسی کے خلاف بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اطلاعات و نشریات کی وزارت نے میسیجنگ پلیٹ فارم ’ٹیلی گرام‘ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر موجود غیر قانونی اور پائریٹیڈ مواد کو فوری طور پر ہٹانے کے لیے سخت اقدامات کرے۔ وزارت نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ ٹیلی گرام پر شیئر کی جا رہی پائریٹیڈ فلموں، ویب سیریز اور او ٹی ٹی مواد پر فوری روک لگائی جائے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے پلیٹ فارم سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کی گئی کارروائی کی مکمل رپورٹ آئندہ۱۵؍ دن کے اندر پیش کرے۔ پیپر لیک معاملہ میں ٹیلی گرام پر کی گئی سختیوں اور پابندیوں کے بعد مرکزی حکومت کے ذریعہ اٹھایا گیا تازہ قدم ٹیلی گرام پر سختی میں اضافہ تصور کیا جا رہا ہے۔ حکومت کا تازہ قدم اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ پائریسی کے باعث ہندوستان کی فلم انڈسٹری اور ڈیجیٹل تفریحی شعبہ کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ کئی نئی فلموں اور ویب سیریز کی ریلیز کے فوراً بعد ان کی غیر قانونی طور پر تشہیر اور تقسیم شروع ہو جاتی ہے جس سے پروڈیوسرز کی آمدنی متاثر ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ریاست کے مختلف اضلاع میں زور دار بارش، ۶؍ جولائی تک الرٹ
تازہ نوٹس ان شکایات کے بعد جاری کیا گیا ہے جو کئی او ٹی ٹی پلیٹ فارمز اور مواد کے مالکان نے درج کرائی تھیں۔ ان شکایات میں کہا گیا تھا کہ ٹیلی گرام پر بغیر اجازت فلمیں اور ویب سیریز بڑے پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہیں۔ جانچ کے بعد وزارت نے تقریباً۳۱۴۲؍ ٹیلیگرام چینلز کی نشاندہی کی ہے جو مبینہ طور پر پائریٹیڈ مواد پھیلا رہے تھے۔ حکومت نے یہ نوٹس انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ۲۰۰۰ء کے تحت جاری کیا ہے۔ اس میں ٹیلی گرام کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایسے تمام غیر قانونی مواد کو فوری طور پر ہٹائے اور اپنے ضوابط کو مزید سخت بنائے۔ ساتھ ہی۲۰۲۱ء کے آئی ٹی قواعد کے مطابق آن لائن پلیٹ فارمز کیلئے حکومت یا عدالت کا حکم ملنے پر غیر قانونی مواد ہٹانا لازمی ہوتا ہے۔ یہ پوری کارروائی حکومت کی اس وسیع مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد ملک میں آن لائن پائریسی پر روک لگانا اور ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والوں کو ان کا جائز حق دلانا ہے۔ اس دوران حکومت نے میسیجنگ ایپس کے یوزر نیم فیچر سے متعلق بھی جانچ تیز کر دی ہے۔ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے ٹیلی گرام اور سگنل کو نوٹس بھیج کر اس فیچر کے بارے میں معلومات طلب کی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیچر کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسے کسی کی شناخت کی چوری، فرضی اکاؤنٹس بنانا یا آن لائن دھوکہ دہی کرنا۔ اسی طرح کی تشویش اس سے پہلے واٹس ایپ کے نئے فیچر سے متعلق بھی ظاہر کی گئی تھی۔ کمپنیوں سے پوچھا گیا ہے کہ وہ اپنے یوزر نیم سسٹم میں سیکوریٹی کے کیا انتظامات رکھتی ہے تاکہ کسی بھی طرح کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔