بی ایل اونے ووٹروں کے گھرجاکر تصدیق کی تو وہ اسی مکان میں رہائش پزیر پائے گئے۔ ایک آفیسرنے بتایا کہ جھوٹی شکایت کرنے والوں کو کل طلب کیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 27, 2026, 11:41 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbra
بی ایل اونے ووٹروں کے گھرجاکر تصدیق کی تو وہ اسی مکان میں رہائش پزیر پائے گئے۔ ایک آفیسرنے بتایا کہ جھوٹی شکایت کرنے والوں کو کل طلب کیا گیا ہے۔
’’ممبرا کوسہ کے تقریباً ۲۹۲؍ ووٹرس دیئے گئے پتہ پر نہیں رہتے‘‘ ایسی جھوٹی اطلاع دے کر ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کی درخواست دینے والے ۲۴؍ افراد کو الیکشن افسران کی جانب سے سمن جاری کیا گیا ہے۔ انہیں بدھ (کل)کو ممبرا کلوا اسمبلی حلقہ کے الیکشن آفس میں حاضر رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کی تصدیق ممبرا کلوا اسمبلی حلقہ کے ایک آفیسر نے نمائندۂ انقلاب سے گفتگو کے دوران کی ہے۔
اس سلسلے میں ممبرا کلوا اسمبلی حلقہ کے مذکورہ آفیسر نے مزید بتایاکہ جن افراد کو سمن جاری کیاگیا ہے، ان افراد /بوتھ لیول ایجنٹ نے ۲۹۲؍کے خلاف فارم نمبر ۷؍ پُر کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ ووٹر لسٹ میں درج شدہ پتے پر نہیں رہتے۔ ان کے اس دعوے کی تصدیق کیلئے جب ہمارے بی ایل او ان ووٹروں کے گھر جاکر جانچ کی تو پتہ چلا کہ یہ دعوے جھوٹے ہیں اوریہ سبھی ۲۹۲؍ ووٹرس دیئے گئے پتہ پر ہی برسوں سے رہ رہے ہیں اور وہ کہیں اور منتقل نہیں ہوئے ہیں اور نہ ہی انتقال کر گئے ہیں۔ جب افسر سے دریافت کیا گیا کہ جن افراد کو سمن جاری کیاگیا ہے،کیا وہ کسی پارٹی کے رکن یا بوتھ لیول ایجنٹ ہیں؟ توانہوںنے بتایا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ انہیں سماعت کیلئے طلب کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ڈومبیولی: ملاپ نگر تالاب میں مچھلیاں مردہ پائی گئیں
سمن دینے کے باوجودحاضر نہ ہونے پر کیا ہوگا؟
اس افسر نےمزید بتایاکہ ’’ متعلقہ بی ایل او نے گھر گھر کے سروے کا پنچنامہ ممبرا کلوا اسمبلی حلقہ کے الیکشن آفس میں جمع کر دیا ہے۔اسی بنیاد پر آفس سے ان سبھی ۲۹۲؍ افراد کو سمن جاری کر کے بدھ کو دفتر حاضر ہونے کہا گیا ہے۔‘‘ مذکورہ افسر سےیہ استفسار کرنے پر کہ سمن دینے کے باوجود اگر کوئی شخص حاضر نہیں ہوتا تو کیا کارروائی کی جائے گی؟ اس پرانہوںنے جواب دیا کہ ’’ اس ضمن میں آگے کی کارروائی تحصیلدار تھوراٹ کریں گے۔‘‘
’’ ۳۳؍ سال سے اسی پتہ پررہائش پزیر ہوں‘‘
جن ووٹروں کے نام ووٹرلسٹ سے نکالنے کا جھوٹا دعویٰ کیاگیا ہے ، ان میں تنور نگر میں رہنے والے عبدالغفار خان بھی شامل ہیں۔ ان سے رابطہ قائم کرنے پر انہوں نے نمائندۂ انقلاب کو بتایا کہ ’’میرا نام ووٹر لسٹ(نمبر ۳۲۴) میں شامل ہے اور میرے بی ایل او میرے گھر آئے تھے اور انہوںنے بتایا تھا کہ میرے خلاف شکایت درج کرائی گئی ہے کہ مَیں تنور نگر علاقے میں کوہِ نور مسجد کے قریب گلشن اپارٹمنٹ کی ڈی ونگ کے اس روم میںنہیں رہتا۔حالانکہ مَیں کرلا سے ممبرا منتقل ہو کر ۱۹۹۳ء سے اسی مکان میں مقیم ہوں۔ مَیں کہیں اور منتقل ہوا ہوں اور نہ ہی کسی اور علاقے کی ووٹر لسٹ میں میرا نام درج ہے۔ اس کے باوجود میرے گھر کے ۳؍ ووٹروں: میرا، میری بیوی اور میری بیٹی کا نام ووٹر لسٹ سے حذف کرنے کی درخواست کسی نے کی ہے۔مَیں نے یہاں رہنے کے تمام دستاویزبی ایل او کو بتائے جس سے وہ بھی مطمئن ہو گئے اور انہوں نے اسی مناسبت سے اپنی رپورٹ بنائی اور مجھے یقین دلایا ہے کہ ہمارا نام ووٹر لسٹ سے حذف نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ’’ مَیں اسی بلڈنگ کا سیکریٹری اور کوہِ نور مسجد کا ٹرسٹی بھی ہوں ، اس لئے مجھے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ میرے پڑوس کے ۲؍ووٹرس، دوسرے منزلہ پر مقیم ایک ووٹر اور پہلے منزلہ پر رہنے والے ایک اور ووٹر کا نام بھی حذف کرنے کی جھوٹی شکایت کی گئی ہے۔ یہ سبھی یہاں برسوں سے مستقل طور پر رہتے ہیں۔ یہ اعتراض داخل کرنے والے کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے جو ہمیں ہمارے جمہوری حق سے محروم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘‘
ممبرا کوسہ کے متعدد بی ایل او نے اسی طرح ووٹروں کا نام حذف کروانے کیلئے جھوٹی شکایت درج کئے جانے کی تصدیق کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایئرپورٹ مسجدانتظامیہ کیخلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا جاچکا ہے
کئی ووٹروں کے بارے میں اسی طرح کی شکایت کی گئی تھی
ممبرا کوسہ کے ووٹروں کے نام حذف کرنے کی جھوٹی شکایت کے تعلق سے ممبرا کلوا اسمبلی حلقہ کے رکن اسمبلی جتیندر اوہاڑ نے این سی پی ( شردپوار)کے ممبراکلوا اسمبلی حلقہ کے صدر شمیم خان اور تھانے ضلع کے صدر منوج پردھان کے ہمراہ ان ووٹروں کے ساتھ پریس کانفرنس کی جس میں کئی ووٹروں نے بتایا تھا کہ وہ برسوں سے ووٹر لسٹ میں درج پتہ پر ہی رہائش پزیر ہیں اس کے باوجود ان کا نام حذف کرنے کی شکایت کی گئی ہے۔