Updated: September 28, 2026, 3:10 PM IST
| Ahmedabad
ملیالم سنیما کے معروف اداکار ممّوٹی ایک بار پھر خبروں میں ہیں، لیکن اس مرتبہ وجہ ان کی اداکاری نہیں بلکہ نیشنل فلم ایوارڈز کے لیے گجرات پہنچنے پر ان کے روایتی استقبال کا ایک ویڈیو کلپ ہے۔ ممّوٹی کو گجرات میں روایتی انداز میں خوش آمدید کہا گیا، جس دوران ان کے ماتھے پر تلک لگایا گیا۔
مموٹی۔ تصویر:آئی این این
ملیالم سنیما کے معروف اداکار ممّوٹی ایک بار پھر خبروں میں ہیں، لیکن اس مرتبہ وجہ ان کی اداکاری نہیں بلکہ نیشنل فلم ایوارڈز کے لیے گجرات پہنچنے پر ان کے روایتی استقبال کا ایک ویڈیو کلپ ہے۔ ممّوٹی کو گجرات میں روایتی انداز میں خوش آمدید کہا گیا، جس دوران ان کے ماتھے پر تلک لگایا گیا۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ایک صارف نے اداکار کو اسی حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا۔
ممّوٹی اس سال ’برمایوگم‘ (Bramayugam) میں اپنی اداکاری کے لیے بہترین اداکار کا نیشنل فلم ایوارڈ حاصل کرنے گجرات پہنچے تھے۔ یہ ان کا چوتھا نیشنل ایوارڈ برائے بہترین اداکار ہے۔ تقریب گجرات کے ایکتا نگر میں منعقد ہوئی، جہاں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے ایوارڈز پیش کیے۔ ممّوٹی کے گجرات پہنچنے کے دوران بنایا گیا ویڈیو میں انہیں روایتی انداز میں خوش آمدید کہتے ہوئے دکھایا گیا۔ استقبال کے دوران ایک خاتون نے ان کے ماتھے پر تلک لگایا۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک صارف نے سوال اٹھایا کہ ممّوٹی نے تلک لگوانے کی اجازت کیوں دی۔تنقید اس لیے بھی موضوعِ بحث بنی کہ ممّوٹی ایک معروف مسلم اداکار ہیں اور تلک کو عموماً ہندو مذہبی و ثقافتی روایات سے وابستہ کیا جاتا ہے تاہم، دستیاب رپورٹس میں یہ استقبال ایک روایتی مہمان نوازی کے طریقے کے طور پر بیان کیا گیا ہے، نہ کہ ممّوٹی کی جانب سے کسی مذہبی وابستگی کے اظہار کے طور پر۔
یہ بھی پڑھئے:اسٹیئرنگ میں خرابی کا خدشہ، فاکس ویگن نے ۳۰؍ لاکھ سے زائد گاڑیاں واپس منگانے کا اعلان کردیا
ملیالم اداکار اور کامیڈین ہیری سری یوسف نے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے جواب میں ممّوٹی کا دفاع کیا۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مختلف مذاہب میں عبادت اور عقیدے کے اظہار کے طریقے الگ ہوسکتے ہیں، لیکن ان کا مقصد ایک ہی خدا کی طرف رجوع کرنا ہوسکتا ہے۔ یوسف نے تلک لگانے، صلیب کا نشان بنانے یا عبادت کے لیے جھکنے کو عقیدے کے مختلف اظہار سے تعبیر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی روایتی رسم کو صرف مذہبی اختلاف کی نظر سے دیکھنے کے بجائے اس کے ثقافتی پہلو کو بھی سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ بڑے ہوٹلوں سمیت کئی مقامات پر مہمانوں کا روایتی انداز میں استقبال کیا جاتا ہے، جس میں پھول پیش کرنے کے ساتھ ماتھے پر تلک لگانا بھی شامل ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق ممّوٹی کے ساتھ بھی اسی نوعیت کا روایتی استقبال کیا گیا۔
یوسف نے مذہب کو لے کر سوشل میڈیا پر ہونے والی توہین آمیز بحث پر بھی اعتراض کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ مذہب کو لوگوں کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کے بجائے انسانوں کو بہتر بنانے کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے ممّوٹی کے سماجی اور فلاحی کاموں کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اداکار نے اپنے کام کے ذریعے ملیالم سنیما اور کیرالہ کا نام روشن کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایشین گیمز: ۱۸؍ سالہ اناہت سنگھ نے اسکواش میں سلور میڈل جیت کر تاریخ رقم کردی
اس تنازع کے درمیان ممّوٹی کی حالیہ کامیابی بھی خاصی اہم ہے۔ انہیں ۲۰۲۴ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’’برمایوگم‘‘ میں کوڈومن پوٹی کے کردار کے لیے بہترین اداکار کا نیشنل فلم ایوارڈ دیا گیا۔ اس ایوارڈ کے ساتھ وہ بہترین اداکار کے طور پر اپنا چوتھا نیشنل ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس کیٹیگری میں کارتک آرین کو بھی’’چندو چیمپئن‘‘ کے لیے بہترین اداکار کا اعزاز دیا گیا۔ ممّوٹی نے ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد کہا کہ قومی سطح پر کسی فنکار کے کام کو تسلیم کیا جانا اس کے لیے بڑی تحریک کا باعث ہوتا ہے۔ انہوں نے ’’برمایوگم‘‘ میں اپنے کردار کی تشکیل اور کیمرے کے سامنے اداکاری کے اپنے انداز کے بارے میں بھی بات کی۔