سائیکلسٹ عادل تیلی نے لیہہ منالی کے درمیان عالمی ریکارڈ کوتوڑا

Updated: September 15, 2022, 1:38 PM IST | Agency | Srinagar

عادل تیلی نے لیہہ سے منالی تک ۴۷۵؍ کلومیٹر کا فاصلہ ۲۹ء۱۸؍ گھنٹے ۲۱؍ سکینڈ میں طے کرکے ایک اور ریکارڈ قائم کیا ہے

Adil Teli from Kashmir.Picture:INN
کشمیر سے تعلق رکھنے والے عادل تیلی ۔ تصویر:آئی این این

 گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ ہولڈر سائیکلسٹ عادل تیلی نے لیہہ سے منالی تک ۴۷۵؍ کلومیٹر کا فاصلہ ۲۹ء۱۸؍ گھنٹے ۲۱؍ سکینڈ میں طے کرکے ایک اور ریکارڈ قائم کیا ہے۔ساتھ ہی  پرانے۳۵ء۳۲؍ گھنٹے کے ریکارڈ کو بھی توڑدیا ہے۔ عادل اتوار کو صبح۴۱:۵؍ بجے لیہہ سے روانہ ہوئے اور راستے میں ۵؍ اونچے درے عبور کرنے کے بعد پیر کی صبح ۵۹:۱۱؍پر منالی پہنچے، ہندوستانی فوج کے بھرت پنوں کے پرانے عالمی ریکارڈ کو تقریباً۶ء۱۶؍ گھنٹے کم وقت لے کر توڑا۔ عادل نے یو این آئی کو بتایا’’اس پورے۲۹؍ گھنٹوں کے دوران، مجھے نیند نہیں آئی اور سڑک توقع سے زیادہ کھردری تھی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ سفر کا سب سے مشکل حصہ ۵؍ بلندی پر ہمالیائی دروں کو عبور کرنا تھا، جن میں سے تنگلانگلا درا، جو سطح سمندر سے ۵۳۰۰؍ میٹر کی بلندی پر ہے، سب سے زیادہ چیلنجنگ تھا۔سڑک پر دوسرے اونچے درے نقیلا پاس، لاچنگ لا پاس، بارالاچہ لا پاس تھے جو سطح سمندر سے۴؍ہزار میٹر کی بلندی پر ہیں جبکہ روہتانگ لادرا سطح سمندر سے۳۸۰۰؍ میٹر بلند ہے، جو رات کے وقت اور سردی میں عبور کرنا بھی چیلنجنگ تھا۔ ہمالیہ کی بلند چوٹیوں پر برف جمع ہونے کی وجہ سے ہوائیں چھری کی طرح چبھتی ہیں۔ عادل کا تعلق وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے نربل سے ہے اورپہلے ہی کشمیر سے کنیاکماری تک پیدل چل کر۲۰۲۱ء میں صرف ۸؍ دنوں میں۳۶۰۰؍ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرچکے ہیں اورگنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کیاہے۔لیہہ سے منالی تک اپنے سفر کے بارے میں انہوں  نے کہا’’کئی جگہوں پر بہت سردی تھی اور کبھی کبھی میرے ہاتھ پیر جم جاتے تھے لیکن میں سواری کرتارہا اورایک ٹھوس ذہنیت کے ساتھ جاری رہاکہ مجھے ایک نیا  گنیز ریکارڈ قائم کرنا ہے اور پرانے کو اچھے فرق سے ہرانا ہے۔ عادل نے کہا’’میں اپنے مقصد- پیر کو کامیابی اور خوشی حاصل کرنے سے پہلے نہیں سویا۔‘‘انہوں نے بنگلور کے اپنے فزیوتھراپسٹ مورتی سے ملنے والی مدد کے بارے میں بھی بات کی، تاکہ وہ اپنے کارناموں کو حاصل کرسکیں۔ عادل نے کہا’’میں رات کے وقت خود کو فٹ رکھنے کیلئے ۳؍ سے ۴؍ فزیو سیشنز سے گزرتا تھا کیونکہ اونچی چوٹیوں پر برف کی وجہ سے راستے میں درجہ حرارت گر رہا تھا اور ٹھنڈی ہوائیں میرے ہاتھ پیر جما دیتی تھیں۔‘‘
 عادل تیلی کو ان مختصر وقفوں کے دوران ہلکا کھانا کھانا پڑتا تھااور راستے میں کافی مقدار میں سیال اور جوس لے کر سائیکل چلا کر اپنے جسم کو ہائیڈریٹ رکھنا پڑتاتھا۔ انہوں نے کہا’’یہ بہت مشکل سفر تھا لیکن میں نے اسے جموں و کشمیر کے اپنے لوگوں اور اپنے والدین کی دعاؤں سے مکمل کیا، جنہوں نے مجھے ورلڈ ریکارڈ کو اچھے فرق سے شکست دینے میں میرا ساتھ دیا۔‘‘اپنا دوسرا گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے کے بعد عادل نے کہا کہ میں مستقبل قریب میں مزید ریکارڈ توڑنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کم آکسیجن لیول کے ساتھ اتنی اونچی اور کھردری چوٹیوں کے درمیان لیہہ سے منالی تک کا سفر کرکے ریکارڈ توڑنا آسان نہیں تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK