۱۰؍ کی حالت نازک، بلاسٹ اس قدر شدید تھا کہ ۵۰؍ میٹر اونچی لپٹیں اٹھیں، آگ سڑک تک پہنچی، کئی گاڑیاں بھی جل گئیں۔
EPAPER
Updated: February 17, 2026, 12:28 PM IST | Agency | Jaipur
۱۰؍ کی حالت نازک، بلاسٹ اس قدر شدید تھا کہ ۵۰؍ میٹر اونچی لپٹیں اٹھیں، آگ سڑک تک پہنچی، کئی گاڑیاں بھی جل گئیں۔
پیر کو پہلے راجستھان کےبھیواڑی میں پھر شام کو ہریانہ کے فرید آباد میں کیمیکل فیکٹری میں ہونےوالے دھماکوں نے تباہی مچادی۔ بھیواڑی انڈسٹریل ایریا میں دھماکہ کے بعد کیمیکل فیکٹری میں لگنے والی خوفناک آگ ۸؍مزدور زندہ جل گئے جبکہ کچھ کے پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے۔ جس وقت سانحہ ہوا اس وقت وہاں تقریباً ۲۵؍ مزدور موجود تھے۔اُدھر ہریانہ کےفرید آباد میں سہ پہر سوا چار بجے ایک کیمیکل فیکٹری میں مشین میں شارٹ سرکٹ سے آگ لگ گئی اور اس کے نتیجے میں وہاں رکھے کئی کیمیکل ڈرموں میں خوفناک دھماکے ہوئے۔ دھماکوں کے بعد آگ کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ شعلے تقریباً ۵۰؍ میٹر تک بلند ہوئے۔ فوری طورپر اس حادثہ میں ۴۲؍ افراد کے متاثر ہونے کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سشمیتا سے پہلے ’میں ہوں نا‘ میں دوسری اداکارہ کو موقع دیا جانے والا تھا
ان میں سے ۱۰؍ کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔ آگ کی زد میں آنےوالوں میں ۵؍ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ آگ کی شدت اس قدر تھی کہ فیکٹری کے باہر کھڑی گاڑیاں بھی جھلس گئیں۔پولیس کے مطابق کمپنی میں میٹل شیٹ کٹنگ کا کام ہوتا ہے۔ شام کے وقت جب کارکن مشین پر کام کر رہے تھے تو اچانک شارٹ سرکٹ ہوا اور قریب رکھے کیمیکل سے بھرے ڈرم میں آگ لگ گئی۔اس کے بعدیکے بعد دیگرے کئی ڈرم دھماکوں سے پھٹتے چلے گئے۔ پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیم نے تقریباً ۲؍گھنٹے میں آگ پر قابو پایا۔ اس دوران آس پاس کے علاقے کو خالی کرا لیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:فرانسیسی صدر میکرون سے ملنے کا منتظر ہوں:مودی
آگ پر قابو پانے کیلئے فائر بریگیڈ کی پہلے ۲؍اور پھر ۱۰؍ گاڑیاں بلائی گئیں مگر آگ بہت بڑھ چکی تھی اور باہر تک پھیل گئی تھی۔ ۲؍پولیس اہلکار اور ۳؍ فائر بریگیڈ اہلکار بھی جھلس گئے۔ اس کے بعد مزید ۱۰؍ گاڑیاں منگوائی گئیں اور بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع ہوا۔ آگ بڑھتی جا رہی تھی کیونکہ وہاں رکھے کیمیکل ڈرم مسلسل دھماکوں کے ساتھ پھٹ رہے تھے۔ کئی فیکٹری ملازم ان کی زد میں آ کر جھلس گئے۔ فیکٹری کے باہر رکھے ڈرم بھی آگ کی زد میں آ کر پھٹنے لگے۔ چلتی گاڑیوں اور سڑک پر کھڑی گاڑیوں کو بھی آگ نے اپنی زد میں لے لیا۔ اس سے بھگدڑ مچ گئی اور پولیس نے احتیاطاً پورا علاقہ خالی کرا لیا۔حادثہ کی سنگینی دیکھتے ہوئے پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں بڑھا دی گئی ہیں جبکہ سول اسپتال کے ساتھ ہی ساتھ قریبی اسپتالوں کو اطلاع دے کر بیڈ خالی کرالئے گئے ہیں۔جس وقت یہ خبر لکھی جارہی ہے،زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جارہاہے۔ اس کی وجہ سے دونوں ہی ریاستوں میں غم و غصے کا ماحول ہے۔