• Mon, 07 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ انتظامیہ کا شادی شدہ جوڑوں کو بچوں کی گھر پر پرورش کرنے کیلئے رقم دینے کے منصوبے پر غور

Updated: September 07, 2026, 9:06 PM IST | Washington

یہ تجویز روایتی خاندانی ڈھانچے کو فروغ دینے اور شرحِ پیدائش بڑھانے کیلئے امریکی انتظامیہ کی ایک وسیع تر مہم سے ہم آہنگ ہے جو نائب صدر جے ڈی وینس سے منسوب ایک اقدام ہے۔ وینس ماضی میں ماؤں کے بچوں کے ساتھ گھر پر رہنے کی وکالت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ بہت سے امریکی ایسی فیملی پالیسی چاہتے ہیں جو بچوں کو ڈے کیئر کی طرف نہ دھکیلے۔ ۲۰۲۱ء میں شائع ہوئے ایک مضمون میں انہوں نے دلیل دی تھی کہ چھوٹے بچے والدین کے ساتھ گھر پر زیادہ خوش رہتے ہیں۔

Donald Trump and JD Vance. Photo: X
ڈونالڈ ٹرمپ اور جے ڈی وینس۔ تصویر: ایکس

نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایک ایسی پالیسی پر غور کر رہی ہے جو شادی شدہ جوڑوں کو بچوں کی نگہداشت کیلئے سبسڈی فراہم کرے گی۔ اس منصوبے کے تحت بچوں کی پرورش کیلئے گھر پر رہنے والے شوہر یا بیوی کو رقم فراہم کی جائے گی۔ اس مسودہ تجویز کے تحت، مخصوص آمدنی کے زمرے میں آنے والے شادی شدہ جوڑے اس صورت میں ادائیگیوں کے اہل ہو سکتے ہیں اگر ان میں سے کوئی ایک ہفتے میں کم از کم ۳۵ گھنٹے کام کرتا ہو جبکہ دوسرا بچے کے ساتھ گھر پر رہتا ہو۔ غیر شادی شدہ جوڑے اور کام نہ کرنے والے تنہا والدین (سنگل پیرنٹس) اس کے اہل نہیں ہوں گے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسکول کے پہلے دن ۸؍ سالہ بچی وفا عقیلہ والد سمیت اسرائیلی حملے میں جاں بحق

اس منصوبے کیلئے فنڈز پہلے سے موجود ۱۲ بلین ڈالر کے ’چائلڈ کیئر اینڈ ڈویلپمنٹ فنڈ‘ سے حاصل کئے جائیں گے۔ چائلڈ کیئر اینڈ ڈویلپمنٹ فنڈ، محکمہ صحت و انسانی خدمات کا ایک پروگرام ہے جو ۱۹۹۰ء کی دہائی سے کم اور درمیانی آمدنی والے خاندانوں کی معاونت کر رہا ہے۔ یہ فنڈ فی الوقت تقریباً ۱۳ لاکھ بچوں کو سالانہ تقریباً ۹۰۰۰ ڈالر فراہم کرتا ہے۔ وصول کنندگان میں سے اکثریت ایسے گھرانوں پر مشتمل ہے جنہیں تنہا کام کرنے والے والدین، عام طور پر مائیں، چلا رہی ہیں۔

یہ تجویز روایتی خاندانی ڈھانچے کو فروغ دینے اور شرحِ پیدائش بڑھانے کیلئے انتظامیہ کی ایک وسیع تر مہم سے ہم آہنگ ہے جو نائب صدر جے ڈی وینس سے منسوب ایک اقدام ہے۔ وینس ماضی میں ماؤں کے بچوں کے ساتھ گھر پر رہنے کی وکالت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ بہت سے امریکی ایسی فیملی پالیسی چاہتے ہیں جو بچوں کو ڈے کیئر کی طرف نہ دھکیلے۔ ۲۰۲۱ء میں شائع ہوئے ایک مضمون میں انہوں نے دلیل دی تھی کہ چھوٹے بچے والدین کے ساتھ گھر پر زیادہ خوش رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا ’نیو میکسیکو‘ کا نام ’نیو امریکہ‘ رکھنے کا اشارہ، لیڈروں کا سخت ردعمل

اس منصوبے کو پالیسی ماہرین کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ نسکانین سینٹر میں سوشل پالیسی کے ڈائریکٹر جوشوا میک کیب نے گھر پر رہنے والے والدین کیلئے مزید امداد کی حمایت کی لیکن انہوں نے اس طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے خبردار کیا کہ فنڈنگ میں اضافہ کیے بغیر اہلیت کا دائرہ وسیع کرنے سے انہی محدود فنڈز کیلئے زیادہ مقابلہ پیدا ہوگا، جس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر تنہا کام کرنے والے والدین مزید ابتر صورتحال کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، انتظامیہ کے بعض وکلاء نے اس بات کا بھی جائزہ لیا ہے کہ آیا وصول کنندگان کیلئے شادی شدہ ہونے کی شرط قانونی طور پر برقرار رہ سکے گی یا نہیں۔ اس تبدیلی کیلئے کانگریس کی منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اگر داخلی طور پر اس کی منظوری مل جاتی ہے، تو یہ کسی بھی حتمی نفاذ سے قبل عوامی رائے کے مرحلے سے گزرے گی، جو ۲۰۲۷ء کے اوائل تک ممکن ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK