اسپین اور ارجنٹائنا کے درمیان کھیلے جانےوالے فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ءکے فائنل نے امریکہ میں ناظرین کی تعداد کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا، جہاں مختلف پلیٹ فارمز پر مجموعی طور پر تقریباً ۶؍ کروڑ ۳۰؍ لاکھ افراد نے یہ مقابلہ دیکھا۔
EPAPER
Updated: July 23, 2026, 9:00 PM IST | New York
اسپین اور ارجنٹائنا کے درمیان کھیلے جانےوالے فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ءکے فائنل نے امریکہ میں ناظرین کی تعداد کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا، جہاں مختلف پلیٹ فارمز پر مجموعی طور پر تقریباً ۶؍ کروڑ ۳۰؍ لاکھ افراد نے یہ مقابلہ دیکھا۔
اسپین اور ارجنٹائنا کے درمیان کھیلے جانےوالے فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ءکے فائنل نے امریکہ میں ناظرین کی تعداد کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا، جہاں مختلف پلیٹ فارمز پر مجموعی طور پر تقریباً ۶؍ کروڑ ۳۰؍ لاکھ افراد نے یہ مقابلہ دیکھا۔
یہ بھی پڑھئے:ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ ۲۰۲۷ء کا فائنل ایک بار پھر دی اوول میں کھیلا جائے گا
نیوجرسی میں کھیلا گیا فائنل مقررہ وقت تک بغیر کسی گول کے برابر رہا، تاہم اسپین نے اضافی وقت کے ۱۰۶؍ ویں منٹ میں فیصلہ کن گول کرکے ارجنٹائنا کو ۰۔۱؍ گول سے شکست دی اور عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ امریکی نشریاتی ادارے فوکس کے مطابق فائنل کی انگریزی نشریات کو ۳؍ کروڑ ۸۹؍ لاکھ ناظرین نے دیکھا، جبکہ ٹیلی مونڈو اور اس کے اسٹریمنگ پلیٹ فارم پیکاک پر ہسپانوی زبان کی نشریات کے ۲؍ کروڑ ۳۹؍ لاکھ ناظرین رہے۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر فائنل کو تقریباً ۶؍ کروڑ ۳۰؍ لاکھ افراد نے دیکھا، جو ۲۰۲۲ء کے فیفا ورلڈ کپ فائنل کے دوران امریکہ میں ریکارڈ کیے گئے ۲؍ کروڑ ۲۳؍ لاکھ ناظرین سے کہیں زیادہ ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹورنامنٹ کے کئی ناک آؤٹ میچوں نے بھی امریکہ کی دیگر بڑی کھیلوں کی چیمپئن شپ کے مقابلوں سے زیادہ ناظرین حاصل کیے۔ ان میں انگلینڈ اور میکسیکو کے درمیان پری کوارٹر فائنل بھی شامل تھا، جسے تقریباً ۴؍ کروڑ ۵۰؍ لاکھ افراد نے دیکھا، جو ایم ایل بی ورلڈ سیریز اور این بی اے فائنلز کے فیصلہ کن مقابلوں سے بھی زیادہ تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکہ میں فٹبال کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے، جہاں ماضی میں امریکی فٹبال، باسکٹ بال اور بیس بال کو زیادہ اہمیت حاصل رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس مرتبہ امریکہ، کنیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی، امریکی ناظرین کے لیے موزوں اوقات میں میچوں کا انعقاد اور لیونل میسی و کرسٹیانو رونالڈو جیسے عالمی ستاروں کی ممکنہ آخری ورلڈ کپ میں شرکت بھی ناظرین کی دلچسپی میں اضافے کی اہم وجوہات رہیں۔
یہ بھی پڑھئے:بچوں نے اپنا فرض ادا کر دیا، اب ملک کی باری ہے: کمل ہاسن
میڈیا ماہرین کے مطابق ٹورنامنٹ کے دوران اشتہارات سے نشریاتی اداروں کو بھی بھاری مالی فائدہ ہوا۔ ناک آؤٹ مرحلے کے میچوں میں ۳۰؍ سیکنڈ کے ایک اشتہار کی قیمت ۱۰؍ لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ نئے متعارف کرائے گئے ہائیڈریشن بریکس نے بھی اضافی اشتہاری مواقع فراہم کیے۔