• Fri, 09 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلمی تنظیم نے تنوشری دتہ کے بیان پر سخت تنقید کردی

Updated: October 09, 2026, 4:06 PM IST | Mumbai

معروف اداکار نانا پاٹیکر کے انتقال کے بعد اداکارہ تنوشری دتہ کے بیان نے بالی ووڈ میں ایک نیا تنازع کھڑا کردیا ہے۔ تنوشری دتہ نے نانا پاٹیکر کی موت پر اپنے ردعمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کو ان کے بیان کو ان کے ذاتی تجربات اور نقطۂ نظر کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔

Tanushree And Nana Patekar.Photo:INN
نانا پاٹیکر اورتنوشری دتہ۔ تصویر:آئی این این

معروف اداکار نانا پاٹیکر کے انتقال کے بعد اداکارہ تنوشری دتہ کے بیان نے بالی ووڈ میں ایک نیا تنازع کھڑا کردیا ہے۔ تنوشری دتہ نے نانا پاٹیکر کی موت پر اپنے ردعمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کو ان کے بیان کو ان کے ذاتی تجربات اور نقطۂ نظر کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔ دوسری جانب آل انڈیا سنے ورکرز ایسوسی ایشن نے تنوشری کے الفاظ پر سخت اعتراض کرتے ہوئے انہیں غیر حساس قرار دیا ہے۔ اس تنازع نے ایک بار پھر اداکارہ کے سابقہ الزامات، فلمی صنعت میں خواتین کے ساتھ مبینہ ہراسانی اور ہندوستان میں شروع ہونے والی ’می ٹو‘ تحریک سے متعلق بحث کو تازہ کردیا ہے۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by IANS News (@ians_india)

یہ بھی پڑھئے:ہندوستان: اسٹارلنک کی منظوری میں تاخیر پر مسک کا سوال: کیا امبانی اصل سربراہ ہیں؟

۷۵؍سالہ نانا پاٹیکر کا ۸؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو گوا میں دل کا دورہ پڑنے کے بعد انتقال ہوگیا۔ ان کی موت کی خبر سامنے آنے کے بعد فلمی دنیا میں سوگ کی لہر دوڑ گئی اور متعدد فنکاروں نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ اسی دوران تنوشری دتہ کا ردعمل بھی خبروں میں آگیا، جنہوں نے ماضی میں نانا پاٹیکر پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے۔تنوشری نے ابتدا میں کہا تھا کہ انہیں نانا پاٹیکر کے انتقال کی خبر ملی ہے، لیکن وہ اس وقت لکھنؤ میں ایک تقریب میں شرکت کے لیے جارہی ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر توجہ دینا چاہتی ہیں۔ بعد میں انہوں نے اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران انہیں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو ان کے حالات اور نقطۂ نظر کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ کسی واقعے سے متاثر ہونے والے شخص کا تجربہ دوسروں سے مختلف ہوسکتا ہے۔
اداکارہ کے بعض تبصروں، خصوصاً ان کے ذریعے استعمال کیے گئے الفاظ ’’ایول ڈیڈ‘‘ (Evil Dead) پر سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا۔ تنوشری نے بعد میں اپنے موقف کا دفاع کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان کے بیان کو ان کے ذاتی تجربے کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔   تنوشری دتہ کے بیان پر آل انڈیا سنے ورکرز ایسوسی ایشن نے سخت ناراضی ظاہر کی۔ تنظیم کے صدر سریش شیام لال گپتا کی قیادت میں جاری ردعمل میں اداکارہ کے الفاظ کو نامناسب اور غیر حساس قرار دیا گیا۔ تنظیم کا مؤقف تھا کہ جب پوری فلمی صنعت ایک سینئر اداکار کے انتقال پر سوگوار ہے، ایسے وقت میں اس طرح کے تبصرے کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے تھا۔

یہ بھی پڑھئے:’’ایونجرز: ڈومز ڈے‘‘ نے پیشگی ٹکٹ فروخت میں ۱۰۰؍ ملین ڈالر کا ہندسہ عبور کرلیا

تنظیم نے تنوشری کے بیان کو سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے ان کے طرزِ اظہار پر اعتراض کیا۔ اس ردعمل کے بعد تنازع مزید بڑھ گیا اور سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر بحث شروع ہوگئی۔ تنوشری دتہ اور نانا پاٹیکر کے درمیان تنازع کی جڑیں ۲۰۱۸ء میں اس وقت سامنے آئیں، جب اداکارہ نے ۰۹۔۲۰۰۸ء کے دوران فلم ’ہارن اوکے پلیز‘ کی شوٹنگ سے متعلق نانا پاٹیکر پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے۔ تنوشری کے ان الزامات نے بھارت میں ’می ٹو‘ تحریک کو نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور فلمی صنعت میں خواتین کے ساتھ مبینہ ہراسانی کے معاملات پر بڑے پیمانے پر بحث شروع ہوئی۔
نانا پاٹیکر نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔ پولیس نے ۲۰۱۹ء میں اس معاملے میں انہیں کلین چٹ دے دی تھی۔ اس لیے تنوشری کے الزامات کو ان کے دعووں کے طور پر ہی بیان کرنا ضروری ہے؛ انہیں ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔نانا پاٹیکر کی موت کے بعد سامنے آنے والے اس تنازع نے دو مختلف نقطۂ نظر کو آمنے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔ ایک طرف تنوشری دتہ اپنے ماضی کے تجربات اور ان کے اثرات کا حوالہ دے رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف فلمی تنظیم کا کہنا ہے کہ کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے وقت الفاظ اور موقع کا خیال رکھنا چاہیے۔ اس واقعہ نے بالی ووڈ میں خواتین کی شکایات، جنسی ہراسانی کے الزامات، قانونی کارروائی اور عوامی شخصیات کے بیانات کی حدود سے متعلق بحث کو دوبارہ زندہ کردیا ہے۔ فی الحال اس تنازع کا مرکز تنوشری دتہ کا اپنے بیان کا دفاع اور آل انڈیا سنے ورکرز ایسوسی ایشن کی جانب سے ان پر کی گئی تنقید ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK