ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان آج یکروزہ سیریز کا فائنل

Updated: January 19, 2020, 5:04 PM IST | Agency | Bengaluru

ہندوستانی کرکٹ ٹیم نے راجکوٹ میں سیریز برابر کرنے کے بعد دوبارہ اپنا اعتماد حاصل کر لیاہے، لیکن آسٹریلیا کے خلاف اس کی اصل آزمائش بنگلور میں اتوار کو فائنل ون ڈے میں ہوگی جہاں دونوں سرکردہ ٹیمیں فائنل جیتنے کیلئے میدان پراتریں گي۔

ٹیم انڈیا ۔ تصویر : پی ٹی آئی
ٹیم انڈیا ۔ تصویر : پی ٹی آئی

  بنگلور : ہندوستانی کرکٹ ٹیم نے راجکوٹ میں سیریز برابر کرنے  کے بعد  دوبارہ  اپنا اعتماد حاصل کر لیاہے، لیکن آسٹریلیا کے خلاف اس کی اصل آزمائش بنگلور میں اتوار کو فائنل ون ڈے میں ہوگی جہاں دونوں سرکردہ ٹیمیں  فائنل جیتنے کیلئے میدان پراتریں گي۔ ہندوستان نے ممبئی میں پہلا ون ڈے۱۰؍ وکٹ سے گنوانے کے بعد راجکوٹ میں دوسرا میچ ۳۶؍ رن سے جیتا تھا اور اب ۳؍ میچوں کی سیریز  ایک۔ ایک  سے برابر ہونے کے بعد نگاہیں بنگلور کے چنا سوامی اسٹیڈیم میں اتوار کو ہونے والے آخری ون ڈے پر لگی ہیں جہاں داؤ پر خطاب ہے۔
 وراٹ کوہلی کی قیادت والی ٹیم انڈیا اپنی زمین پر خطرناک مانی جاتی ہے لیکن جس طرح سے پہلے میچ میں اسے آسٹریلیاکے بلے بازوں اور بولرس نے آل راؤنڈ سیکشن میں ناک آؤٹ کر کے  میچ۱۰؍ وکٹوں سے جیتا تھا، اس کے بعد اس کی خامیاں بھی سامنے آ گئیں۔ اگرچہ راجکوٹ میں ٹیم نے غلطیاں بہتر کریں گے  اور اس کا فائدہ بھی ملا۔ ٹیم کے بیٹنگ آرڈرمیں اوپننگ اور مڈل آرڈر کی پریشانی بھی سلجھتي نظر آ رہی ہے۔
 باقاعدہ  اوپنر لوکیش راہل کی ۵؍ویں نمبر پر ۸۰؍ رن کی اننگز کے بعد مانا جا رہا ہے کہ ٹیم کو مڈل آرڈر میں ایک مضبوط کھلاڑی مل گیا ہے جو اس کا سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ وہیں کپتان وراٹ کوہلی تیسرے نمبر پر لوٹ آئے ہیں جہاں وہ سب سے زیادہ کامیاب کھلاڑی ہیں۔ روہت (۴۲؍ رن)، شکھر دھون (۹۶؍ رن) اور وراٹ (۷۸؍ رن) نے اچھے بلے بازی کی اور اوپننگ آرڈر کے یہ تینوں ٹیم کے مستقل اور سب سے زیادہ کامیاب رن اسکورر بھی ہیں۔  راہل کے علاوہ ٹیم کے پاس وکٹ کیپر رشبھ پنت بھی مڈل آرڈر کے اچھے اسکورر ہیں لیکن چوٹ کی وجہ وہ دوسرے میچ سے باہر تھے اور تیسرے میچ میں ان کی واپسی فٹنیس پر منحصر ہے۔ پنت کی جگہ ٹیم میں منیش پانڈے کو رکھا گیا تھا جس میں وہ ۲؍ رن بنا کر مایوس کر گئے۔گیند بازی میں بھی کھلاڑیوں نے پہلے سے بہتر کھیل کا مظاہرہ کیا اور سمیع ۳؍ وکٹ لے کر سب سے کامیاب رہے۔ اگرچہ کفایتی گیند بازی کرنے پر انہیں توجہ دینا ہو گی۔ سمیع نے میچ میں مہنگی  بولنگ کی تھی جبکہ فاسٹ بولر جسپريت بمراه نے  ۹ء۱؍ اوور میں ۳۲؍رن پر ایک وکٹ لیا اور ان کا اكونومي ریٹ سب سے زیادہ کفایتی بھی رہا۔کپتان وراٹ بنگلور میں اپنے گیند بازی کے شعبہ میں بہت تبدیلی شاید نہ کرسکیں لیکن ٹیم چنا سوامی میں ۳؍ فاسٹ بولر اور ۲؍ اسپنرس کو اتارنے پر غور کر سکتی ہے۔ چائنامین بولر کلدیپ یادونے بھی دوسرا سب سے زیادہ مہنگا مظاہرہ کیا لیکن ساتھ ہی  اسمتھ اورالیکس کوری کے وکٹ لئے۔ ٹیم میں دیگر ماہر اسپنر کی شکل میں  یزویندر چہل کو موقع مل سکتا ہے۔
 دوسری طرف شاید آسٹریلیا بھی بڑی تبدیلی نہ کرے۔ ٹیم کے بلے بازوں نے ۳۴۰؍ رن کے بڑے ہدف کے سامنے اچھی جدوجہد کی اور ۳۰۴؍ رن تک پہنچے تھے۔ ایسے میں ہندوستان کی گیند بازی فی الحال زیادہ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈیوڈ وارنر، ایرون فنچ  ۹۸؍رن کی بڑی اننگز کھیلنے والے  اسمتھ اور  اسٹار بلے باز مارنس لبوشین نے اچھے اسکور بنائے اور خطاب کیلئے ہندوستانی گیند بازوں کو انہیں کنٹرول کرنا سب سے اہم ہو گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK