ایس آئی آر کیخلاف دھرنے کے تیسرے دن ممتا بنرجی کا مطالبہ، کہا کہ ووٹروں کے نام من مانے طریقے سے حذف کیے جا رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: March 09, 2026, 10:16 AM IST | Kolkata
ایس آئی آر کیخلاف دھرنے کے تیسرے دن ممتا بنرجی کا مطالبہ، کہا کہ ووٹروں کے نام من مانے طریقے سے حذف کیے جا رہے ہیں۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے انتخابی بدعنوانی کا الزام عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ’’سب سے پہلے تو وزیراعظم نریندر مودی کو استعفیٰ دینا چاہیے، کیونکہ وہ انہی ووٹروں کے ووٹوں سے وزیر اعظم بنے ہیں جن کے نام اب الیکشن کمیشن کی طرف سے خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران مبینہ طور پر من مانے طریقے سے حذف کیے جا رہے ہیں۔ ‘‘ ایس آئی آر کے خلاف جاری بے مدت دھرنے کے تیسرے دن مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ نے جارحانہ انداز میں مودی حکومت اور الیکشن کمیشن کو ہدف تنقید بنایا۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو وزیر اعظم سے استعفیٰ طلب کرنا چاہیے۔
ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق کولکاتا کے مرکزی علاقے میں ایس آئی آر کے خلاف جاری دھرنے میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے سوال قائم کیا کہ ’’اگر مودی۲۰۲۴ء میں اسی ووٹر لسٹ کے ووٹوں سے وزیر اعظم بنے ہیں تو اب ان ووٹروں کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟‘‘ ممتا بنرجی نے یہ بھی سوال قائم کیا کہ’’گورنر سی وی آنند بوس نے۵؍ مارچ کو اچانک استعفیٰ کیوں دیا؟‘‘انہوں نے کہا کہ ’’اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ ان کی مدت میں ابھی تین سال باقی تھے۔ انہیں اسی دن بگڈوگرا میں صدر جمہوریہ کا استقبال کرنا تھا۔ کیا انہیں اچانک دہلی بلایا گیا اور استعفیٰ دینے کو کہا گیا؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: خواتین اور مردوں کی تنخواہ میں عدم مساوات موجود ہے: رپورٹ
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ نے شبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ’’ کیا مودی حکومت اس عہدے پر کسی ’ہاں میں ہاں ملانے والے‘ شخص کو بٹھانا چاہتی ہے؟‘‘ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ نائب صدر جگدیپ دھنکر نے گزشتہ سال جولائی میں اپنے عہدے سے استعفیٰ کیوں دیا۔ اس معاملے کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے؟‘‘ ممتا نے کہا کہ’’سی بی آئی اور ای ڈی دباؤ میں ہوں گے، اس لئے اگر تحقیقات کرنی ہیں تو ریاستی سی آئی ڈی کو یہ ذمہ داری سونپی جائے۔ ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ مغربی بنگال میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے دوران منطقی تضادات کا مسئلہ صرف اسی ریاست میں سامنے آیا ہے اور یہ سب سوچی سمجھی سازش ہے۔
بی جے پی پر خواتین مخالف ہونے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی یوم خواتین کے موقع پر وہ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ اس نظرثانی کے دوران بہت سی خواتین کے ووٹنگ کے حقوق ختم کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہماری صرف ایک ہی مانگ ہے کہ حقیقی ووٹروں کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے دیا جائے۔ ‘‘ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بی جے پی کے پروپگنڈے میں نہ آئیں ، بی جے پی یہ پروپیگنڈہ کر رہی ہے کہ میں نے مسلمانوں کو بنگال میں دراندازی کرائی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ تو آزادی کے وقت سے ہی یہاں رہ رہے ہیں اور اس وقت وہ پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں، اس لیے میں کیسے ان کی دراندازی کرا سکتی ہوں۔