Inquilab Logo Happiest Places to Work

خواتین اور مردوں کی تنخواہ میں عدم مساوات موجود ہے: رپورٹ

Updated: March 08, 2026, 10:28 PM IST | New Delhi

ہندوستان کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والی۶۷؍ فیصد سے زیادہ خواتین کا ماننا ہے کہ ان کے کام کی جگہوں پر تنخواہ میں مساوات موجود ہے، جبکہ۳۳؍ فیصد خواتین کا خیال ہے کہ تنخواہوں میں فرق ہے۔ یہ معلومات نوجوبی ڈاٹ کام کی سنیچر کو جاری کردہ رپورٹ میں دی گئی ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہندوستان کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والی۶۷؍ فیصد سے زیادہ خواتین کا ماننا ہے کہ ان کے کام کی جگہوں پر تنخواہ میں مساوات موجود ہے، جبکہ۳۳؍ فیصد خواتین کا خیال ہے کہ تنخواہوں میں فرق ہے۔ یہ معلومات نوجوبی ڈاٹ کام کی سنیچر کو جاری کردہ رپورٹ میں دی گئی ہیں’’What Women Professionals Want‘‘ کے عنوان والی یہ رپورٹ۵۰؍ ہزار خواتین کے سروے پر مبنی ہے، جو ملک کی۵۰؍ سے زیادہ صنعتوں میں کام کرتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق،۶۷؍ فیصد شرکاء نے کہا کہ ان کی کام کی جگہوں پر تنخواہ میں مساوات ہے، جبکہ۳۳؍ فیصد نے تسلیم کیا کہ مساوات موجود نہیں ہے۔ تنخواہوں میں فرق کے بارے میں سب سے زیادہ خدشہ رئیل اسٹیٹ (۴۲؍ فیصد) کی پیشہ ور خواتین نے ظاہر کیا، جس کے بعدایف ایم سی جی (۳۸؍ فیصد)، دوا اور لائف سائنس (۳۸؍ فیصد)، اور کارسازی (۳۷؍ فیصد) شعبے آئے۔ریٹیل (۳۵؍ فیصد)، ہوٹل اور ریستوران (۳۵؍ فیصد)، آئی ٹی سروسز (۳۴؍ فیصد)، ٹیلیکوم (۳۴؍ فیصد)، میڈیکل سروسز (۳۳؍فیصد) اور تیل و گیس کے شعبے (۳۳؍فیصد) کی خواتین نے بھی تسلیم کیا کہ وہاں تنخواہ میں فرق موجود ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یو پی ایس سی : مسلم اُمیدواروں کا شاندار نتیجہ، ۵۴؍ منتخب

 بین الاقوامی یومِ خواتین کی پیشکش پر جاری اس رپورٹ میں مساوی تنخواہ آڈٹ اور ماہواری کی رخصت کی بڑھتی ہوئی مانگ پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اعلیٰ تنخواہ والی پیشہ ور خواتین میں یہ مطالبہ سب سے زیادہ دیکھا گیا۔رپورٹ کے مطابق، مساوی تنخواہ آڈٹ اور ماہواری کی رخصت کا مطالبہ گزشتہ  سال کے۱۹؍ فیصد سے بڑھ کر۲۷؍ فیصد ہو گیا ہے۔ زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والی خواتین میں یہ مانگ۴۸؍ فیصد رہی، جو ظاہر کرتا ہے کہ جتنا زیادہ خواتین قیادت کے قریب پہنچتی ہیں، انہیں فرق اتنا ہی زیادہ نظر آتا ہے۔سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ تقریباً۵۰؍ فیصد خواتین نے امتیاز کے خوف کی وجہ سے شادی یا ماں بننے جیسی ذاتی منصوبہ بندی کو دوسروں کے ساتھ شیئر نہیں کیا۔ رپورٹ کے مطابق، ہر دو میں سے ایک عورت (۵۰؍فیصد) انٹرویو کے دوران اپنی شادی یا ماں بننے کے منصوبے ظاہر کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہے، جس میں۳۴؍ فیصد خواتین نے اس کی بنیادی وجہ امتیاز کا خوف بتایا۔جبکہ یہ ہچکچاہٹ تجربے کے ساتھ مزید بڑھ جاتی ہے۔نووارد خواتین میں یہ شرح ۲۹؍فیصد ہے، جو۱۰؍ سے ۱۵؍ سال کی تجربہ کار خواتین میں بڑھ کر۴۰؍ فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ تقریباً۴۲؍ فیصد خواتین نے کہا کہ بھرتی اور ترقی میں ہونے والا امتیاز ان کے لیے کام کی جگہ پر سب سے بڑا چیلنج ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ججوں کو درست فیصلہ کرنے میں ہچکچانا نہیں چاہیے، چاہے انہیں ترقی نہ ملےیا ارباب اقتدار ناراض ہوں‘‘

مزید برآں پچھلے سال کے مقابلے میں اس رائے میں سات فیصد اضافہ ہوا ہے۔ چنئی (۴۴؍ فیصد) اور دہلی/این سی آر (۳۴؍ فیصد) جیسے بڑے شہروں میں بھی یہی رجحان دیکھا گیا۔جبکہ ان چیلنجز کے درمیان۸۳؍ فیصد خواتین نے قیادت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے خود کو حوصلہ مند محسوس کیا، جبکہ پچھلے سال یہ شرح  ۶۶؍فیصد تھی۔ جنوبی ہندوستانی شہروں میں خواتین میں قیادت کی خواہش خاص طور پر زیادہ دیکھی گئی۔ انفو ایج انڈیا کے گروپ سی ایم او سومیت سنگھ نے کہا، ’’یہ حقیقت کہ۸۳؍ فیصد خواتین قیادت کے لیے حوصلہ مند محسوس کرتی ہیں، خوش آئند ہے۔ تاہم، یہ تشویشناک بات ہے کہ ہر دو میں سے ایک عورت کو انٹرویو میں اب بھی اپنی ذاتی منصوبے چھپانے پڑتے ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ابھی بہت کام باقی ہے۔‘‘واضح رہے کہ انفو ایج انڈیا، نوکری ڈاٹ کام، جیو ن ساتھی ڈاٹ کام اور۹۹؍ ایکڑ ڈاٹ کام کی بنیادی کمپنی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK