دنیا کے نامور ٹینس کھلاڑیوں، بشمول یانک سنر، آرینا سبالینکا اور کوکو گاف نے آئندہ رولینڈ گیروس (فرنچ اوپن) کے لیے اعلان کردہ انعامی رقم پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
EPAPER
Updated: May 04, 2026, 9:05 PM IST | Paris
دنیا کے نامور ٹینس کھلاڑیوں، بشمول یانک سنر، آرینا سبالینکا اور کوکو گاف نے آئندہ رولینڈ گیروس (فرنچ اوپن) کے لیے اعلان کردہ انعامی رقم پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
دنیا کے نامور ٹینس کھلاڑیوں، بشمول یانک سنر، آرینا سبالینکا اور کوکو گاف نے آئندہ رولینڈ گیروس (فرنچ اوپن) کے لیے اعلان کردہ انعامی رقم پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ کھلاڑیوں کا موقف ہے کہ گرینڈ سلیم منتظمین ٹورنامنٹ سے ہونے والی آمدنی کا منصفانہ حصہ کھلاڑیوں کو منتقل نہیں کر رہے ہیں۔
رولینڈ گیروس انتظامیہ نے گزشتہ ماہ انعامی رقم میں۱۰؍ فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا، جس سے مجموعی فنڈ۷ء۶۱؍ ملین یورو (تقریباً ۷۲؍ ملین ڈالر) تک پہنچ گیا ہے۔ تاہم، کھلاڑیوں کے گروپ نے پیر کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے ان اعداد و شمار کو گمراہ کن قرار دیا۔
کھلاڑیوں کے مطابق ۲۰۲۵ ءمیں ٹورنامنٹ کی آمدنی میں ۱۴؍ فیصد اضافہ ہوا جبکہ انعامی رقم صرف ۴ء۵؍ فیصد بڑھی۔ کھلاڑیوں کا دعویٰ ہے کہ ٹورنامنٹ کی کل آمدنی میں ان کا حصہ ۲۰۲۴ء میں۵ء۱۵؍ فیصد تھا جو۲۰۲۶ء میں کم ہو کر۹ء۱۴؍ فیصد رہ جانے کا خدشہ ہے۔ ٹینس اسٹارز نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کا حصہ ۲۲؍ فیصد کیا جائے تاکہ یہ اے ٹی پی اور ڈبلیو ٹی اے کے دیگر بڑے ٹورنامنٹس کے برابر ہو سکے۔
یہ بھی پڑھئے:پری میٹ گالا تقریب میں ایشا امبانی کا لباس توجہ کا مرکز، ۲۶؍ ریاستوں کی نمائندگی
موجودہ ڈھانچے کے مطابق فاتح (سنگلز): ۸ء۲؍ ملین یورو، رنرز اپ: ۴ء۱؍ملین یورو،پہلے راؤنڈ میں باہر ہونے والے: ۸۷؍ ہزار یورو۔ کھلاڑیوں نے واضح کیا کہ ان کا احتجاج صرف رقم تک محدود نہیں بلکہ وہ نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جب دیگر بڑے عالمی کھیل اپنے گورننس کے نظام کو جدید بنا رہے ہیں، گرینڈ سلیم انتظامیہ تبدیلی کے خلاف مزاحمت کر رہی ہے۔ کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ ان کے مطالبات پر تاحال کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا، جو کہ ان کھلاڑیوں کے مفادات کے خلاف ہے جو اس کھیل کی کامیابی کی بنیاد ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:شمالی کوریا کے کھلاڑی ۱۲؍ سال بعد پہلی بار جنوبی کوریا میں مقابلہ کریں گے
فتحِ میڈرڈ کے بعد سنر کا ہدف: روم کا تاریخی گولڈن ماسٹرز
میڈرڈ میں تاریخ رقم کرنے کے فوراً بعد، اطالوی ٹینس اسٹار یانک سنرنے اپنی توجہ اگلے ہفتے اپنے ہوم گراؤنڈ روم میں گولڈن ماسٹرز مکمل کرنے پر مرکوز کر دی ہے۔ اگر وہ یہ ٹائٹل جیت جاتے ہیں، تو وہ تمام نو ماسٹرز ۱۰۰۰؍ ٹائٹلز جیتنے والے دنیا کے دوسرے کھلاڑی بن جائیں گے۔ ۲۴؍سالہ سنر نے اتوار کو فائنل میں الیگزینڈر زیوریو کو یکطرفہ مقابلے میں ۱۔۶، ۲۔۶؍ سے شکست دے کر مسلسل پانچواں ماسٹرز۱۰۰۰؍ ٹائٹل جیتا۔ سنر اب تک پیرس، انڈین ویلز، میامی، مونٹی کارلو اور اب میڈرڈ جیت چکے ہیں۔ اب ان کے مجموعے میں صرف روم کی کمی ہے۔نوواک جوکووچ کا ریکارڈ: اگر سنر روم میں فتح حاصل کرتے ہیں، تو وہ نوواک جوکووچ کے بعد یہ کارنامہ انجام دینے والے دوسرے مرد کھلاڑی ہوں گے۔پریس کانفرنس کے دوران سنر کا کہنا تھا ’’اپنے ملک میں کھیلنا ہمیشہ خاص ہوتا ہے۔ میں جسمانی طور پر فٹ ہوں اور روم میں نہ کھیلنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ پچھلے سال وہاں کھیلنا میرے لیے جذباتی لحاظ سے بہت اہم تھا، اور میں وہاں واپسی کے لیے بہت خوش ہوں۔