Inquilab Logo Happiest Places to Work

پناہ گزین سے ورلڈ کپ اسٹار تک، آور میبل کو آسٹریلیا کی نمائندگی پر فخر

Updated: June 21, 2026, 9:06 PM IST | New York

آسٹریلیا کے تجربہ کار فارورڈ آور میبل نے کہا ہے کہ انہیں ایک پناہ گزین سے ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑی بننے پر بے حد فخر ہے۔

Awer Mabil.Photo:X
آور میبل۔ تصویر:ایکس

آسٹریلیا کے تجربہ کار فارورڈ آور میبل نے کہا ہے کہ انہیں ایک پناہ گزین سے ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑی بننے پر بے حد فخر ہے۔ انہوں نے عالمی یومِ پناہ گزین اور پناہ گزین ہفتے کے موقع پر دنیا بھر کے بے گھر اور بے وطن افراد کے لیے امید اور حوصلے کا پیغام بھی دیا۔

یہ بھی پڑھئے:دپیکا کی وجہ سے رنبیرنے ’’کاک ٹیل ‘‘ میں کام سے انکار کردیا تھا: سیف علی خان


۳۰؍ سالہ آور میبل کی زندگی جدوجہد اور حوصلے کی ایک متاثر کن داستان ہے۔ وہ کینیا کے کاکوما پناہ گزین کیمپ میں جنوبی سوڈانی والدین کے ہاں پیدا ہوئے تھے، جو خانہ جنگی سے بچ کر وہاں پہنچے تھے۔ بعد ازاں آسٹریلیا کے انسانی ہمدردی پر مبنی آبادکاری پروگرام کے تحت وہ ۱۰؍ برس کی عمر میں آسٹریلیا منتقل ہوئے، جہاں انہوں نے جنوبی آسٹریلیا کے شہر ایڈیلیڈ میں منظم فٹبال کھیلنا شروع کیا۔
ورلڈ کپ کے دوران ایک پریس کانفرنس میں میبل اس وقت جذباتی ہو گئے جب انہوں نے آسٹریلوی ٹی وی مبصر ڈیوڈ بشیر کو دیکھا، جنہیں وہ بچپن سے ٹی وی پر دیکھتے آئے تھے۔ میبل نے مسکراتے ہوئے کہاکہ ’’میں آپ کو دیکھ کر بڑا ہوا ہوں  اور حیرت کے عالم میں ان سے اپنا سوال دوبارہ دُہرانے کی درخواست کی۔
پناہ گزین ہفتے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے میبل نے کہاکہ ’’دنیا میں جہاں کہیں بھی لوگ بے گھر یا بے وطن ہیں، ہم ان کے ساتھ ہیں۔ آج ہم ایک بڑے عالمی ٹورنامنٹ میں موجود ہیں اور میں انہیں یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہر چیز ممکن ہے، اس لیے امید کا دامن نہ چھوڑیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈ کپ: کیوراساؤ اور ایکواڈور کے درمیان مقابلہ بغیر کسی گول کے ڈرا رہا


میبل نے ورلڈ کپ سے قبل تنوع اور شمولیت کے موضوع پر ایک ویڈیو پیغام میں بھی حصہ لیا تھا، جو سوشل میڈیا پر کافی مقبول ہوا۔ اس پیغام کا مرکزی نکتہ تھا ’’آپ کہیں سے بھی تعلق رکھتے ہوں، فٹبال سب کے لیے ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ محض اتفاق نہیں کہ پناہ گزین ہفتہ اور ورلڈ کپ ایک ہی وقت میں ہو رہے ہیں، جبکہ آسٹریلوی ٹیم میں بھی کئی ایسے کھلاڑی موجود ہیں جن کا تعلق پناہ گزین پس منظر سے ہے۔ ان کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پوری دنیا ایک خاندان کی مانند ہے اور آج وہ سب مل کر آسٹریلیا کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
 میبل خود کو نوجوان ساتھی کھلاڑیوں مو تورے اور نیسٹوری ایرانکونڈا کا  بڑا بھائی  سمجھتے ہیں، جو افریقی پس منظر رکھنے والے پناہ گزین خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسی دوران ۲۰؍سالہ نیسٹوری ایرانکونڈا نے ورلڈ کپ میں ترکی کے خلاف ۰۔۲؍گول کی کامیابی کے دوران گول کر کے آسٹریلیا کے لیے ورلڈ کپ میں گول کرنے والے کم عمر ترین کھلاڑی ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ آسٹریلوی ٹیم کے مدافع الیساندرو سرکاتی نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی فٹبال میں آسٹریلیا کو زیادہ احترام دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پوری زندگی  انڈر ڈاگ  کہلانا نہیں چاہتے۔
اگرچہ میبل کو اس ورلڈ کپ میں ابھی زیادہ کھیلنے کا موقع نہیں ملا، تاہم وہ نوجوان کھلاڑیوں کی رہنمائی کو اپنی اہم ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے ٹورنامنٹس میں اتحاد، باہمی تعاون اور ایک دوسرے کا ساتھ دینا سب سے اہم چیز ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ میں اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ نوجوان اور سینئر کھلاڑیوں کے لیے دستیاب رہوں گا، کیونکہ مشکلات سب کی زندگی کا حصہ ہیں اور کسی کے پاس تمام سوالوں کے جواب نہیں ہوتے۔ ایسے مواقع پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنا ہی کامیابی کی کنجی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK