Updated: June 21, 2026, 10:18 PM IST
| Tel Aviv
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے فوج کو لبنان میں حملے روکنے کی ہدایت جاری کر دی ہے اور لبنان کے ساتھ جنگ بندی پر عمل درآمد کے احکامات دے دیے ہیں۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر کی قیادت میں ہونے والے سکیورٹی جائزہ اجلاس کے بعد کیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے فوج کو لبنان میں حملے روکنے کی ہدایت جاری کر دی ہے اور لبنان کے ساتھ جنگ بندی پر عمل درآمد کے احکامات دے دیے ہیں۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر کی قیادت میں ہونے والے سکیورٹی جائزہ اجلاس کے بعد کیا۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں۱۶؍ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ اسرائیلی افواج نے متعدد رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: لبنان مذاکرات کا مرکزی موضوع ہوگا: سویٹزرلینڈ میں مذاکرات سے قبل تہران کا بیان
عرب نیوز کے مطابق اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے سنیچرکو اطلاع دی کہ نیتن یاہو نے فوج کو لبنان میں اپنی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دی ہے۔ تاہم اس فیصلے میں جنوبی لبنان میں قائم اسرائیلی فوج کے زیرِ قبضہنام نہاد ’’ حفاظتی خطہ‘‘ سے انخلا شامل نہیں ہے۔ تاہم اسرائیل کے چینل ۱۲؍ کے مطابق نیتن یاہو اور وزیر دفاع کا یہ فیصلہ امریکہ کے ساتھ مشاورت اور ہم آہنگی کے بعد کیا گیا۔ جبکہ اسرائیلی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج کو جنوبی لبنان میں ممکنہ خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائی کی مکمل آزادی حاصل رہے گی اور اگر حزب اللہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تو اسرائیلی فوج سخت جواب دے گی۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق فوج لبنان میں نام نہاد ’’یلو لائن‘‘ کے اندر اپنی کارروائیوں کا اختیار برقرار رکھے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا ایک بار پھر آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان
دوسری جانب لبنان کی سول ڈیفنس ایجنسی نے بتایا ہے کہ جنوبی لبنان کے ضلع نباطیہ پر اسرائیلی حملوں میں۱۶؍ افراد ہلاک اوردیگر ۱۲؍ زخمی ہوئے ہیں۔جس کے بعد امدادی ٹیموں نے لاشوں اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی این این اے کے مطابق سنیچرکی صبح تک اسرائیلی فضائی حملوں میں جنوبی لبنان کے ایک درجن سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں نباطیہ اور اس کے اطراف کے علاقے خاص طور پر متاثر ہوئے۔