Updated: June 09, 2026, 10:13 AM IST
| Berlin
پیس رپورٹ ۲۰۲۶ء میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں، چند ممالک جنگ کو ”سیاسی ہتھیار“ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں جرمنی کی خارجہ پالیسی کو اس رجحان میں براہِ راست شریک قرار دیتے ہوئے برلن کی جانب سے امریکہ کے یکطرفہ فوجی اقدامات، غزہ میں اسرائیلی جنگی جرائم اور لبنان، شام پر اسرائیلی فوجی حملوں کی کھلے عام مذمت کرنے میں مسلسل ناکامی کا حوالہ دیا گیا ہے۔
جرمنی کے چار معروف تحقیقی اداروں بون انٹرنیشنل سینٹر فار کانفلکٹ اسٹڈیز، یونیورسٹی آف ہیمبرگ کا انسٹی ٹیوٹ فار پیس ریسرچ اینڈ سیکوریٹی پالیسی، انسٹی ٹیوٹ فار ڈویلپمنٹ اینڈ پیس اور لیبنز پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فرینکفرٹ کی جانب سے پیر کو جاری کردہ ”پیس رپورٹ ۲۰۲۶ء“ میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ جرمنی اپنے قریبی اتحادیوں کے جنگی جرائم کو خاموشی سے برداشت کرکے اس بین الاقوامی قوانین پر مبنی نظام کو فعال طور پر کمزور کر رہا ہے جس کا دفاع کرنے کا وہ دعویٰ کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران اسرائیل کشیدگی:خامنہ ای نےکہا ’’صہیونی حکومت کے چند دن باقی ہیں‘‘
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں، چند ممالک جنگ کو ”سیاسی ہتھیار“ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور ”جنگجوؤں“ کی طرح کام کر رہے ہیں۔ رپورٹ جرمنی کی خارجہ پالیسی کو اس رجحان میں براہِ راست شریک قرار دیتی ہے۔ رپورٹ میں برلن کی جانب سے امریکہ کے یکطرفہ فوجی اقدامات، غزہ میں اسرائیلی جنگی جرائم اور لبنان، شام پر اسرائیلی فوجی حملوں کی کھلے عام مذمت کرنے میں مسلسل ناکامی کا حوالہ دیا گیا ہے۔
جرمنی نے ان اقدامات کی واضح مذمت کرنے کے بجائے، رپورٹ کے بقول ”مبہم یا ٹال مٹول والی زبان“ کا استعمال کرتے ہوئے ردِعمل دیا ہے، جس میں قانونی جواب دہی کے مقابلے میں اتحاد کی وفاداری کو ترجیح دی گئی ہے۔ محققین نے لکھا ہے کہ ”بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کی انتخابی مذمت (selective denouncing) کرکے اور امریکہ اور اسرائیل جیسے اتحادیوں کی خلاف ورزیوں کو بظاہر برداشت کرکے، جرمنی ایک اہم بین الاقوامی کھلاڑی کے طور پر اپنی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: گفتگو میں سب سے بڑی رکاوٹ امریکہ کی دوغلی پالیسی ہے: ایران
رپورٹ میں اس طریقہ کار کو فوری طور پر تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مصنفین نے واضح طور پر کہا ہے کہ ”ہمیں قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں کی واضح شناخت اور عوامی سطح پر مذمت کرکے شروعات کرنی چاہئے، چاہے وہ اتحادیوں کی طرف سے کی گئی ہوں یا مخالفین کی طرف سے۔ صرف اسی صورت میں قواعد پر مبنی نظام کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔“
واضح رہے کہ پیس رپورٹ، ان اداروں کی سالانہ مشترکہ دستاویز ہے اور یہ عالمی امن اور تنازعات پر جرمنی کے سب سے معتبر جائزوں میں شمار کی جاتی ہے۔