تحقیق کے مطابق جو کھلاڑی فٹ بال کو پاس کرنے یا روکنے کیلئے اپنے سر کا استعمال کرتے ہیں ان کے دماغ کی تہوں میں تبدیلیوں کے امکانات زیادہ ہیں۔
EPAPER
Updated: October 03, 2025, 12:40 PM IST | Agency | Washington
تحقیق کے مطابق جو کھلاڑی فٹ بال کو پاس کرنے یا روکنے کیلئے اپنے سر کا استعمال کرتے ہیں ان کے دماغ کی تہوں میں تبدیلیوں کے امکانات زیادہ ہیں۔
محققین نے کہا ہے کہ فٹ بال کے کھلاڑی جو بال کو پاس کرنے یا روکنے کیلئے اپنے سر کا استعمال کرتے ہیں، ان کے دماغ کی تہوں میں تبدیلیوں کے امکانات زیادہ اور دماغی صحت متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک نئے مطالعے میں کہا گیا کہ فٹ بال کو ’ہیڈ‘ کرنا یعنی سر سے مارنا فٹ بال کھلاڑیوں کی دماغی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔
محققین نے جریدے ’نیورولوجی‘ میں رپورٹ کیا کہ جو کھلاڑی فٹ بال کو پاس کرنے یا روکنے کیلئے اپنے سر کا استعمال کرتے ہیں ان کے دماغ کی تہوں میں تبدیلیوں کے امکانات زیادہ ہیں، یہ تہیں دماغ کے جھری دار بیرونی حصے میں ہوتی ہیں جسے سیریبرل کورٹیکس کہتے ہیں۔محققین کے مطابق جن کھلاڑیوں میں دماغی تبدیلیاں زیادہ تھیں، انہوں نے علمی ٹیسٹوں میں بدتر کار کردگی کا مظاہرہ کیا۔
کولمبیا یونیورسٹی کے ریڈیالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر مائیکل لپٹن کے مطابق جن کھلاڑیوں نے زیادہ بار گیند کو ہیڈ کیا ان کے دماغ کی تہوں کے ایک خاص حصے میں زیادہ رکاوٹیں اور خلل پایا گیا اور یہی رکاوٹیں سوچنے اور یادداشت کے ٹیسٹوں میں کمزور کارکردگی سے منسلک ہیں، یہ مطالعہ کھیلوں سے متعلق سر پر لگنے والی چوٹوں کے اثرات کے بارے میں خدشات میں مزید اضافہ کرتا ہے۔
مطالعے کے لیے محققین نے نیو یارک سٹی کے بڑے علاقے میں ۳۵۲؍شوقیہ فٹ بال کھلاڑیوں، نیز غیر تصادمی کھیلوں میں حصہ لینے والے۷۷؍ دیگر کھلاڑیوں کے دماغ کے اسکین کیے، مطالعے میں شامل شوقیہ کھلاڑیوں کی اوسط عمر۲۶؍سال تھی، فٹ بالرز کو اس بنیاد پر۴؍ گروپوں میں تقسیم کیا گیا کہ وہ کھیل کے دوران کتنی بار بال کو سر سے مارتے تھے، سب سے زیادہ گروپ میں اوسطاً۳ ؍ہزار ۱۵۲؍ہیڈرز فی سال تھے جبکہ سب سے کم گروپ میں ۱۰۵؍ ہیڈرز فی سال تھے ۔محققین کا کہنا ہے کہ ان فٹ بال کھلاڑیوں میں جنہوں نے بال کو سب سے زیادہ سر سے مارا، اسکین نے دماغ کی تہوں میں واقع سفید مادے میں زیادہ تبدیلیاں دکھائیں، جیسے جیسے ہیڈرز کی تعداد میں اضافہ ہوا ، یہ سفید مادے کا علاقہ زیادہ متاثر ہوا، یہ خلل خاص طور پر آنکھوں کے سوراخوں کے بالکل اوپر واقع آربیٹو فنٹل ریجن کو متاثر کرتا ہے۔