• Wed, 09 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برسلز میں بے گھر افراد کی تعداد میں مزید ۲۵؍ فیصد اضافے کا خدشہ

Updated: September 08, 2026, 11:01 AM IST | Brussels

برسلز میں بے گھر افراد کی بڑھتی تعداد نے شہر کے حکام اور امدادی اداروں کیلئے ایک نیا بحران کھڑا کر دیا ہے۔ اکتوبر میں ہونے والی گنتی سے پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پناہ گاہوں کی کمی کے باعث بے گھر افراد کی تعداد میں مزید ۲۵؍ فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں بے گھر افراد کی امداد کے نگران ادارے برس ہیلپ (Bruss`help) کا کہنا ہے کہ رواں سال اکتوبر میں ہونے والی اگلی گنتی کے دوران شہر میں بے گھر افراد کی تعداد میں مزید ۲۵؍ فیصد کا اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔ ادارے کے مطابق بے گھر ہونے والوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ نیوز پورٹل بروز کی ایک رپورٹ کے مطابق، برس ہیلپ۱۵؍ اور ۱۶؍ اکتوبر کی درمیانی رات برسلز کیپیٹل ریجن میں اپنی نویں گنتی کی کارروائی شروع کرے گا، جبکہ اسی طرح کی گنتی فلینڈرز اور والونیا کے خطوں میں بھی کی جائے گی۔ دو سال پہلے کی گئی پچھلی گنتی میں برسلز میں ۹ ؍ ہزار ۷۷۷؍ بے گھر افراد کی نشاندہی کی گئی تھی۔ 
ادارے کا کہنا ہے کہ زمینی سطح پر کام کرنے والی امدادی خدمات سے ملنے والے اشاروں سےبے گھر افراد کی تعداد میں مزید اضافے کے امکان دکھ رہے ہیں۔ برس ہیلپ کی نمائندہ عدیل پیئر نے بتایا کہ ’’زمینی حالات بالکل واضح ہیں، ہمیں مجبوراً روز بروز زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہنگامی پناہ گاہوں میں جگہ دینے سے انکار کرنا پڑ رہا ہے۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ امداد کی تلاش میں آنے والے خاندانوں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس بار گنتی میں برسلز کی بے گھر آبادی میں پہلے سے کہیں زیادہ نوجوانوں کے شامل ہونے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھئے: لندن میں موہن بھاگوت کا خطاب، کہا ’ اتحاد کیلئے یکسانیت ضروری نہیں ہے‘

عدیل پیئر کے مطابق حکومت کی جانب سےبرسلز ڈیل کے تحت پناہ گزینوں کیلئے موجود ایک ہزار پناہ گاہیں ختم کرنے کا منصوبہ بھی اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تمام جگہیں واقعی بھری ہوئی تھیں، لیکن چونکہ متعلقہ وزیر اب کم پناہ گزینوں کو رہائش فراہم کر رہے ہیں، اس لئے برسلز کو اب مزید بے گھر افراد کی صورت میں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ پچھلے اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ ہنگامی پناہ گاہوں میں موجود لوگوں میں سے تقریباً ایک چوتھائی (۲۵؍ فیصد) افراد پچھلے اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ ہنگامی پناہ گاہوں میں موجود لوگوں میں سے تقریباً ایک چوتھائی (۲۵؍ فیصد) افراد دو سال سے بھی زیادہ عرصے سے بے گھر تھے، جبکہ ہر ۱۰؍ میں سے ایک اکیلی ماں (سنگل مدر)اپنے بچوں کے ساتھ تھی۔ اس کے علاوہ، پناہ گاہوں میں موجود تقریباً ایک چوتھائی لوگوں کے پاس ملک میں رہنے کا قانونی پرمٹ بھی نہیں تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK