Updated: June 09, 2026, 11:41 AM IST
|
Agency
| New York
گھریلو میدان پرشائقین کی توقعات کے دوران میزبان ٹیم کو ترکی،یوروگوئےاورآسٹریلیا سےنمٹنے کا چیلنج ہوگا۔
گروپ’ڈی‘ میں شامل ٹیمیں ناک آؤٹ میں پہنچنے کیلئے ٹکرائیں گی-تصویر:آئی این این
گروپ ’ڈی‘ کو۲۰۲۶ء فیفا ورلڈ کپ کے سب سے دلچسپ اور سنسنی خیز گروپ میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے، جس میں میزبان امریکہ کے ساتھ پیراگوئے، ترکی اور آسٹریلیا جیسی سخت جان ٹیمیں شامل ہیں۔ امریکہ اس بار زبردست دباؤ کے ساتھ میدان میں اترے گا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہوم گراؤنڈ پر ایک شاندار کارکردگی ملک میں فٹبال کے مستقبل کو بلندیوں پر پہنچا سکتی ہے۔ کرسچن پلسک کی قیادت میں یہ نوجوان اور باصلاحیت اسکواڈ گروپ میں ٹاپ کرنے کیلئے فیورٹ مانا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پیراگوئے کی ٹیم اپنے کوچ گسٹاؤ الفارو کی نفسیاتی حکمت عملی اور قیادت کے مرہونِ منت ایک نئے عزم کے ساتھ پہنچی ہے۔ الفارو نے ایک جدوجہد کرتی ہوئی ٹیم کو جنوبی امریکہ کی سب سے حیران کن کوالیفائر ٹیم میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان کا مضبوط دفاع اور ڈسپلن کسی بھی حریف کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔
ترکی کی ٹیم ۲۰۰۲ء کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ میں واپسی کر رہی ہے۔ آردا گولر اور کینان یلدز جیسے ابھرتے ہوئے ستاروں پر مشتمل یہ نئی نسل ترکی کو ٹورنامنٹ میں بہت آگے لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم کھیل میں تسلسل کا نہ ہونا ان کا بڑا مسئلہ رہا ہے۔
ادھر آسٹریلیا اپنے روایتی عزم، جذبے اور بہترین تنظیمی کھیل کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ اگرچہ ٹیم میں عالمی سطح کے بڑے اسٹارز موجود نہیں ہیں لیکن آسٹریلیا نے ماضی میں بڑے ٹورنامنٹ میں توقعات سے بڑھ کر پرفارم کیا ہے چونکہ اس گروپ کی ہر ٹیم اگلے راؤنڈ میں پہنچنے کی اہل ہے اس لئے گروپ’ ڈی‘ میں کانٹے کے مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔
ہوم گراؤنڈ پر امریکی ٹیم کا کڑا امتحان
امریکی فٹ بال ٹیم کیلئے یہ ورلڈ کپ تاریخ کا سب سے اہم ترین معرکہ ثابت ہو سکتا ہے، جہاں داؤ پر بہت کچھ لگا ہوا ہے۔ ہوم گراؤنڈ پر بہترین کارکردگی ملک میں اس کھیل کی مقبولیت کو ۴؍ چاند لگا سکتی ہے جبکہ ایک آسان گروپ سے جلد باہر ہو جانا برسوں کی محنت پر پانی پھیر سکتا ہے۔بطور شریک میزبان امریکہ کو کوالیفائنگ کے مشکل مرحلے سے نہیں گزرنا پڑا جس کی وجہ سے منیجر ماریشیو پوچیٹینو کے اسکواڈ کی تیاریوں پر سوالات قائم ہیں لیکن ٹیم پر دباؤ کے حوالے سے کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ ۲۰۲۲ء کے قطر ورلڈ کپ میں آخری ۔۱۶؍ میں جگہ بنانے والی امریکی ٹیم کیلئے کم از کم ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچنا لازمی ہے۔ گروپ’ڈی‘ میں سب سے اعلیٰ رینکنگ رکھنے کی وجہ سے امریکہ کا ہدف گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنا ہوگا تاکہ ناک آؤٹ مرحلے کی راہ آسان ہو سکے۔ اگر امریکہ گروپ ٹاپ کرتا ہے تو راؤنڈ آف ۳۲؍میں اس کا سامنا کسی دوسرے گروپ کی تیسرے نمبر کی ٹیم (امکان ہے کہ کینیڈا) سے ہوگا، جس سے ۲۰۰۲ء کے بعد پہلی بار کوارٹر فائنل میں پہنچنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
کرسچن پلسک کا ماننا ہے کہ یہ اب تک کا مضبوط ترین امریکی اسکواڈ ہے اور ہوم کراؤڈ کا سپورٹ ان کیلئے بارود کا کام کرے گا۔ امریکہ اپنی مہم کا آغاز ۱۲؍ جون کو لاس اینجلس میں پیراگوئے کے خلاف کرے گا۔
پیراگوئے: الفارو کی نفسیاتی حکمتِ عملی کا جادو
پیراگوئے کی ورلڈ کپ میں واپسی کا سہرا ان کے ۶۳؍ سالہ ارجنٹائنی کوچ گسٹاؤ الفارو کے سر جاتا ہے جنہوں نے اگست ۲۰۲۴ء میں چارج سنبھالنے کے بعد ٹیم کا نقشہ ہی بدل دیا۔ الفارو اپنے کھلاڑیوں کو ترغیب دینے کیلئے البرٹ آئن اسٹائن سے لے کر مشہور مصنفین کے اقوال کا سہارا لیتے ہیں اور انہوں نے ٹیم کے اسکواڈ میں خصوصی طور پر ایک سائیکالوجسٹ کو بھی شامل کیا ہے۔ ان کی اسی حکمتِ عملی کی بدولت پیراگوئے نے کوالیفائنگ راؤنڈ میں برازیل، ارجنٹائنا اور یوروگوئے جیسی بڑی ٹیموں کو شکست دی اور ۲۰۱۰ء کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی کیا۔ ۳۳؍سالہ کپتان گسٹاؤ گومیز کی قیادت میں پیراگوئے کا دفاعی نظام مضبوط ہے، جنہوں نے ۱۸ ؍کوالیفائنگ میچوں میں صرف ۱۰؍ گول کھائے۔
ترکی: ۲۴؍سال بعد واپسی
ترکی کی ٹیم ۲۴؍ سال کے طویل انتظار کے بعد ورلڈ کپ اسٹیج پر لوٹ رہی ہے۔ کوچ ونسنزو مونٹیلا کی زیر نگرانی ٹیم نے یورو ۲۰۲۴ء میں شاندار کھیل پیش کیا تھا۔ ریئل میڈرڈ کے نوجوان مڈفیلڈر آردا گولر اور یووینٹس کے فارورڈ کینان یلدز پر مشتمل اس ٹیم سے شائقین کو ۲۰۰۲ء کی تاریخ دہرانے کی امیدیں ہیں جب ترکی تیسرے نمبر پر آیا تھا۔ تاہم، ستمبر میں اسپین کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر۶۔صفرکی شرمناک شکست نے ترکی کی دفاعی کمزوریوں اور جذباتی گراوٹ کو بے نقاب کیا ہے۔ ترکی کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ وہ اپنی روایتی عدم تسلی بخش کارکردگی پر کیسے قابو پاتے ہیں۔
آسٹریلیا: اسٹارز کے بغیر لڑنے کا عزم
کسی بڑے عالمی اسٹار کے بغیر میدان میں اترنے والی آسٹریلیا کی ٹیم اپنے روایتی جنگجو مزاج اور بہترین دفاعی ساخت کیلئے جانی جاتی ہے۔ سابق کوچ گراہم آرنالڈ کی جگہ سنبھالنے والے ٹونی پوپووک نے اسکواڈ میں کئی نوجوان کھلاڑیوں کو شامل کیا ہے۔ ٹیم کے تجربہ کار مڈفیلڈر جیکسن اروائن کا کہنا ہے کہ وہ صرف امید نہیں کر رہے، بلکہ انہیں پورا یقین ہے کہ وہ ماضی کی کسی بھی آسٹریلوی ٹیم سے زیادہ آگے تک جائیں گے۔ آسٹریلیا کے پاس ٹم کاہل جیسا بڑا اسٹرائیکر تو نہیں ہے لیکن نی اسٹوری ایرن کنڈا اور محمد تورے جیسے نوجوان کھلاڑی ٹیم کیلئے ’ایکس فیکٹر‘ ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ گروپ ہر لحاظ سے متوازن اور غیر متوقع ہے جہاں ہوم پریشر کے زیرِ اثر امریکہ، نفسیاتی طور پر مضبوط پیراگوئے، تکنیکی طور پر ماہر ترکی اور سخت جان آسٹریلیا کے درمیان کڑی جنگ متوقع ہے۔ ٹورنامنٹ کا آغاز ۱۲؍ جون کو امریکہ اور پیراگوئے کے میچ سے ہوگا۔