بالی ووڈ اداکارہ ہما قریشی نے انڈین فلم پروجیکٹ (آئی ایف پی) کے ۱۶؍ویں سیزن میں اداکاری، خواتین کے لیے روایتی کرداروں کی حدود توڑنے، پیچیدہ کرداروں کو نبھانے اور فلمی صنعت میں درپیش چیلنجز پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔
EPAPER
Updated: October 25, 2026, 8:05 PM IST | Mumbai
بالی ووڈ اداکارہ ہما قریشی نے انڈین فلم پروجیکٹ (آئی ایف پی) کے ۱۶؍ویں سیزن میں اداکاری، خواتین کے لیے روایتی کرداروں کی حدود توڑنے، پیچیدہ کرداروں کو نبھانے اور فلمی صنعت میں درپیش چیلنجز پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔
بالی ووڈ اداکارہ ہما قریشی نے انڈین فلم پروجیکٹ (آئی ایف پی) کے ۱۶؍ویں سیزن میں اداکاری، خواتین کے لیے روایتی کرداروں کی حدود توڑنے، پیچیدہ کرداروں کو نبھانے اور فلمی صنعت میں درپیش چیلنجز پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ مصنفہ موہر باسو کے ساتھ گفتگو کے دوران ہما نے کہا کہ وہ ایسے کردار ادا کرنا چاہتی ہیں جو روایتی توقعات سے ہٹ کر ہوں اور جن میں اخلاقی پیچیدگیاں بھی موجود ہوں۔ انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’میں کبیر سنگھ کا کردار ادا کرنا چاہتی ہوں، پریتی کا نہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اداکاروں کو ایسے کردار نبھانے کی آزادی خود بھی حاصل کرنی چاہیے جو معاشرتی اصولوں سے مختلف ہوں، غیر معمولی ہوں یا جن کے فیصلوں کو آسانی سے درست یا غلط قرار نہ دیا جا سکے۔
ہما قریشی نے وضاحت کی کہ اگر کسی فلم میں ہیرو کو ولن مار رہا ہو اور ان کا کردار صرف ایک طرف کھڑے ہوکر روتے ہوئے یہ کہتا رہے کہ اسے مت مارو، تو وہ ایسے کردار کے لیے خود کو موزوں اداکارہ نہیں سمجھتیں۔ انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ایسی صورت حال میں وہ خود بھی ایک تھپڑ ضرور ماریں گی۔ ان کے اس بیان کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ وہ خواتین کو محض کمزور، بے بس یا دوسروں پر انحصار کرنے والے کرداروں تک محدود رکھنے کے حق میں نہیں ہیں۔ اداکارہ کے مطابق، کرداروں کے انتخاب میں تخلیقی آزادی ضروری ہے تاکہ خواتین کو بھی ایسے کردار ادا کرنے کا موقع ملے جن میں قوتِ ارادی، فیصلہ سازی اور مختلف جذباتی پہلو نمایاں ہوں۔
گفتگو کے دوران ہما نے فلمی صنعت میں اپنے ابتدائی دنوں اور معروف فلم ساز انوراگ کشیپ کے ساتھ پہلی ملاقات کا واقعہ بھی بیان کیا۔ انوراگ کشیپ نے انہیں فلم ’’گینگز آف واسع پور‘‘ میں کام کرنے کا موقع دیا تھا۔ ہما نے بتایا کہ اس وقت وہ کافی ناتجربہ کار تھیں اور انہیں اندازہ نہیں تھا کہ فلمی دنیا میں گفتگو اور پیشہ ورانہ تعلقات کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ انہوں نے یاد کیا کہ جب انوراگ کشیپ نے انہیں کردار کی پیشکش کی تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ وہ ابھی ابھی آئی ہیں اور انہیں ابھی بہت جدوجہد کرنی ہے۔ ہما کے مطابق، اس وقت انہیں احساس نہیں تھا کہ ایک بڑے فلم ساز کے سامنے اس انداز میں بات کرنا کس طرح دیکھا جا سکتا ہے۔ اداکارہ نے انوراگ کشیپ کے علاوہ ابھیشیک چوبے، سری رام راگھون اور وسن بالا جیسے فلم سازوں کا بھی ذکر کیا، جنہوں نے انہیں مختلف اور پیچیدہ کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھئے:رادھیکا آپٹے نے خاتون مرکزی کردار والی فلموں کے نہ چلنے پر سوال اٹھائے
ہما قریشی نے کہا کہ کسی کردار کو حقیقت کے قریب پیش کرنے کے لیے صرف اس کے مکالمے یاد کرنا یا اس کے ظاہری انداز کو اپنانا کافی نہیں ہوتا، بلکہ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ وہ کردار کیا سوچ رہا ہے اور اس کے رویے کے پیچھے کون سے جذبات کارفرما ہیں۔انہوں نے ہدایت کار سری رام راگھون کے ساتھ فلم ’’بدلاپور‘‘ میں کام کرنے کا تجربہ بیان کیا۔ ان کے مطابق، ہدایت کار نے فلم کے اسکرپٹ پر اپنے ہاتھ سے نوٹس لکھے تھے، جن میں ایک اہم سوال یہ تھا کہ اس وقت ان کا کردار کیا سوچ رہا ہے۔ ہما کے مطابق، اس طرح کے سوالات اداکار کو کردار کی نفسیات اور اس کی اندرونی کیفیت سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
انہوں نے نیٹ فلکس کی سیریز ’’لیلا‘‘ میں کام کرنے کے تجربے کو بھی اپنے لیے اہم قرار دیا۔ اس سیریز کی ہدایت کاری دپا مہتا نے کی تھی۔ ہما نے بتایا کہ کردار کے قید اور گھٹن کے احساس کو نمایاں کرنے کے لیے ہدایت کار نے فلم بندی کے انداز اور جسمانی پابندیوں کو استعمال کیا۔ کیمرے کو ان کے چہرے کے قریب رکھنے سے کردار کے جذبات اور بے بسی کو زیادہ مؤثر انداز میں پیش کرنے میں مدد ملی۔اداکارہ کے مطابق، ’’لیلا‘‘ نے بطور فن کار انہیں بدلنے میں اہم کردار ادا کیا اور اس تجربے نے انہیں اپنے کرداروں کی گہرائی میں اترنے کا نیا انداز سکھایا۔ ہما نے اپنی اداکاری کے ایک اہم پہلو پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات فن کار کو ایسے کردار بھی ادا کرنے پڑتے ہیں جن کے اعمال اور فیصلے اس کے ذاتی نظریات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے سیریز’’دہلی کرائم‘‘ میں انسانی اسمگلنگ سے وابستہ کردار ادا کرنے کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق، اداکار کا کام کسی کردار کے غلط اقدامات کو درست ثابت کرنا نہیں، بلکہ اس کی شخصیت اور حالات کو سمجھتے ہوئے اسے حقیقت کے قریب پیش کرنا ہے۔ ہما نے کہا کہ اداکار کو کردار کی زندگی میں اترنا چاہیے، نہ کہ اپنے ذاتی اخلاقی پیمانوں کی بنیاد پر اس کے ہر عمل کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ منفی یا متنازع کرداروں کو مؤثر انداز میں ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ فن کار ان کی ذہنی کیفیت اور محرکات کو سمجھے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کردار کے اعمال کی حمایت بھی کرے۔
یہ بھی پڑھئے:رونالڈو کے ۹۸۲؍ویں گول پر تنازع، کیا گیند حریف کھلاڑی سے ٹکرا کر جال میں گئی؟
ہما قریشی نے اداکاری کے علاوہ فلم سازی کے شعبے میں اپنے حالیہ تجربات پر بھی گفتگو کی۔ وہ اپنے بھائی اور اداکار ثاقب سلیم کے ساتھ پروڈکشن کمپنی ’’سلیم سبلنگز‘‘ کے ذریعے فلم سازی کے کام سے وابستہ ہیں۔ ان کی حالیہ پروڈکشن ’’بے بی ڈو ڈائی ڈو‘‘ میں ہما نے ایک خاتون قاتل کا کردار ادا کیا۔اداکارہ نے کہا کہ پروڈیوسر کی حیثیت سے کام کرنے کے بعد انہیں فلمی صنعت کے کاروباری پہلوؤں کو سمجھنے کا نیا موقع ملا ہے۔ ان کے مطابق، ایک اداکار کی حیثیت سے کام کرنا اور کسی فلم کی تیاری، تشہیر اور اسے ناظرین تک پہنچانے کی ذمہ داری اٹھانا دو مختلف تجربات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ناظرین کو سنیما گھروں تک لانا آسان نہیں رہا، کیونکہ گھر بیٹھے تفریحی مواد دیکھنے کے متعدد مواقع دستیاب ہیں۔ ان کے مطابق، فلم سازوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مختلف نوعیت کی فلموں کے لیے ناظرین کیسے پیدا کیے جائیں اور فلمی کاروبار کو کس طرح مستحکم رکھا جائے۔ہما کا کہنا تھا کہ فلمی صنعت کی ترقی صرف سال میں ایک بڑی فلم کی کامیابی پر منحصر نہیں ہونی چاہیے، بلکہ مختلف موضوعات اور انداز کی متعدد فلموں کو بھی مواقع ملنے چاہئیں۔ ان کے مطابق، سنیما کی پائیدار ترقی کے لیے متنوع کہانیوں اور تخلیقی تجربات کو جگہ دینا ضروری ہے۔