ٹی ۲۰؍سیریز میں انگلینڈ نے برابری کا مقابلہ کیا ، برتری ہندوستان کو ملی

Updated: March 22, 2021, 12:32 PM IST | Abdul Karim Qaim AliAjayz Abdul Ghani | Mumbai

ہندوستان نے آخری اور ۵؍واں ٹی ۲۰؍ میچ جیت کر سیریز ۲۔۳؍ سے جیت لی۔بھونیشور کمار مین آف دی میچ رہے اور وراٹ کوہلی کو مین آف دی سیریز منتخب کیا گیا

Team India.Picture:INN
ٹیم انڈیا۔تصویر :آئی این این

  سنیچر کی رات احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم ،موٹیرا میں ہندوستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹی ۲۰؍ سیریز کا خاتمہ ہوگیا۔ہندوستان نے پانچواں او ر آخری میچ ۳۶؍سے جیت لیا۔ ہندوستان کے ۲؍ وکٹ پر ۲۲۴؍رن کے جوا ب میںمہمان ٹیم  نے ۸؍ وکٹ پر ۱۸۸؍رن بنائے۔ ہندوستان نے سیریز ۲۔۳؍ سے جیت لی۔ اب ان دونوںکے درمیان یکروزہ سیریز کاآغازمنگل بتاریخ ۲۳؍مارچ سے ہوگا۔اگر سیریز کو دیکھاجائے تو یہ برابری کا مقابلہ تھا لیکن سبقت ہندوستانی ٹیم کو ملی۔ 
ہندوستان کی خراب شروعات 
 انگلینڈکے خلاف ٹیسٹ سیریز کی طرح ہندوستان نے ٹی ۲۰؍ کابھی آغاز شکست سے کیا۔ پہلے ٹی ۲۰؍ میں ٹیم انڈیا کو ۸؍ وکٹ سے شکست ہوئی، دوسرے میچ میں میزبان ٹیم  ۷؍ وکٹ سے کامیابی رہی اور سیریز میں لوٹی۔ تیسرے ٹی ۲۰؍ میں انگلینڈنے ایک بار پھر ۸؍وکٹ سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے برتری بنالی  تاہم چوتھے میچ میں ہندوستان نے جدوجہد کرتے ہوئے ۸؍رن سے کامیابی حاصل کرلی۔ سیریز کے ۵؍ویں میچ میں بھی ایک وقت ایسالگا کہ انگلینڈ جیت جائے گا لیکن مین آف دی میچ بھونیشور کی اچھی گیندبازی کی بدولت  ہندوستان کو ۳۶؍رن سے فتح نصیب ہوئی۔ اگر سیریز کے میچوں کے نتائج پر غور کیا جائے تو انگلینڈ ٹیم نے ہندوستان کوبرابری کی ٹکر دی ہے اور یکطرفہ شکست نہیں پائی ہے۔
کچھ تجربات کامیاب تو کچھ ناکام
 سیریز میں کھیلنے والی دونوں ٹیموں نے ٹی ۲۰؍ عالمی کپ کی تیاری کے مقصد سے اس میں شرکت کی تھی ۔اسی کے تحت ہندوستانی ٹیم نے  کچھ تجربات کئے۔ روہت شرما کو باہر بٹھانا اور کے راہل کو اوپنر موقع دینا یہ تجربہ ناکام رہا۔ لیکن نوجوان ایشان کشن کو موقع دینا اور آخری میچ میں روہت کے ساتھ کوہلی کا اوپنر آنا یہ ٹیم انڈیا کیلئے فائدہ مند رہا۔ کوہلی کے اوپنر آنے کے بعد چہ مئگوئیاں ہورہی ہیں کہ وہ آئی پی ایل کے ا س سیزن میں رائل چیلنجرز بنگلور کی جانب سے اوپننگ کریں گے۔ گیندبازی میں ٹیم انڈیا کا تجربہ کامیاب رہا۔
  ورا ٹ کوہلی نے کپتانی اننگز کھیلی 
 وراٹ کوہلی نے اس ٹی ۲۰؍ سیریز میں سب سے زیادہ ۲۳۱؍رن بنائے جوکہ کسی بھی دوطرفہ سیریز میں ایک کھلاڑی جانب سے بنائے گئے سب سے زیادہ رن ہیں۔  انہوں نے ۵؍میچو ں میں سے ۳؍میں نصف سنچری بنائی۔ حالانکہ وہ پہلے میچ میں صفر اور چوتھے میچ میں ایک رن پر آؤٹ ہوئے تھے۔ انہوںنے ۷۳، ۷۷؍ اور ۸۰؍ رن کی اننگز کھیلی اور وہ سیریز میں ۲؍ بار ناٹ آؤٹ پویلین لوٹے تھے۔ اس بہترین کارکردگی کیلئے انہیں مین آف دی سیریز منتخب کیا گیا تھا۔
ہاردک پانڈیا کی اچھی واپسی 
 ہندوستانی ٹیم کیلئے یہ اچھی خبر رہی کہ ہاردک پانڈیا نے بلے بازی کےساتھ گیندبازی بھی۔ حالانکہ انہیں سیریز میں صرف ۳؍وکٹ ہی ملے لیکن انہوں نے ۲؍میچو ںمیں ۴؍اوور تک کی گیندبازی کی جو کہ ٹیم انڈیا کیلئے اچھی بات ہے۔ وہ ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ میں ہندوستانی ٹیم کیلئے اچھے آل راؤنڈر ثابت ہوسکتے ہیں۔   حالانکہ آخری میچ میں ہاردک پانڈیا کے ساتھ سوریہ کمار یادو نے بھی اچھی کارکردگی کامظاہرہ کیا۔ 
انگلینڈ کیلئے سیریز مفید رہی
 انگلینڈ کی ٹیم کیلئے یہ سیریز مفید رہی کیونکہ اسے معلوم ہے کہ ورلڈ کپ ہندوستان میں ہورہا ہے اوراسے ان ہی حالات میں یہاں کھیلنا ہے۔ ٹیم کی کارکردگی پر نظردوڑائی جائے تو سیریز  کے ٹاپ ۵؍بلےبازوںمیں انگلینڈ کے ۳ ؍ ہیں۔ وراٹ کوہلی کے بعد جوس بٹلر (۱۷۲؍رن ) ، ڈیوڈ ملان (۱۴۸؍رن )اور جیسن روئے (۱۴۴؍رن)کانمبرہے۔ ۵؍ویں نمبرپر شریس ایّر (۱۲۱؍رن ) ہیں۔  انگلینڈ کے بلے بازوں نے ہندوستانی میدان پراچھی بلے بازی کی۔ گیندبازی میں بھی سب سے زیادہ وکٹ لینے کےمعاملے میں ٹاپ ۳؍ میں دو انگلش گیندباز ہیں۔ پہلے پر شاردل ٹھاکر (۸؍وکٹ ) ، دوسرے پر جوفرا آرچر (۷؍وکٹ ) اور تیسرے نمبرپر مارک ووڈ (۵؍وکٹ  ) ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK