Updated: September 29, 2026, 10:13 PM IST
| Thiruvananthapuram
ترواننت پورم میں شاندار جیت کے بعد ہندوستانی ٹیم گوہاٹی پہنچ گئی ہے۔ میدان اور ماحول ضرور بدل گیا ہے، لیکن دونوں ٹیموں کے بنیادی مقاصد زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ دونوں ہی ٹیمیں کامیابی حاصل کرنا چاہیں گی۔ ہندوستان کی نظریں سیریز اپنے نام کرنے پر ہوں گی، جبکہ ویسٹ انڈیز سیریز میں واپسی کی کوشش کرے گا۔
ہندوستانی کھلاڑی۔ تصویر:ایکس
ترواننت پورم میں شاندار جیت کے بعد ہندوستان کی یکروزہ ٹیم گوہاٹی پہنچ گئی ہے۔ میدان اور ماحول ضرور بدل گیا ہے، لیکن دونوں ٹیموں کے بنیادی مقاصد زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ دونوں ہی ٹیمیں کامیابی حاصل کرنا چاہیں گی۔ ہندوستان کی نظریں سیریز اپنے نام کرنے پر ہوں گی، جبکہ ویسٹ انڈیز سیریز میں واپسی کی کوشش کرے گا۔ہندوستان کی اگلی ترجیح ۲۰۲۷ء ورلڈ کپ کے لیے اپنی بہترین ۱۵؍ رکنی ٹیم طے کرنے کی سمت ایک اور قدم آگے بڑھانا ہے۔ ہندوستان نے یکروزہ سیریز کا آغاز تین آل راؤنڈرز اور صرف تین ماہر گیندبازوں کے دلچسپ امتزاج کے ساتھ کیا تھا اور گوہاٹی میں بھی اسی امتزاج کو برقرار رکھنے کی امید ہے۔ کیا نتیش کمار ریڈی نئی گیند سے گیندبازی جاری رکھیں گے؟ کیا مسلسل دوسرے ون ڈے میں نمن دھیر کی آف اسپن دیکھنے کو ملے گی؟ اور ایشین گیمز میں اکشر پٹیل کی غیر موجودگی کے درمیان کیا رویندر جڈیجا ورلڈ کپ ٹیم میں اپنی جگہ کے لیے مضبوط دعویٰ پیش کرپائیں گے؟
یہ بھی پڑھئے:اداکارہ رکول پریت سنگھ سے منسلک ۱۲؍ مقامات پر انکم ٹیکس محکمے کی تلاشی
دوسری جانب ویسٹ انڈیز کے سامنے فروری مارچ میں ہونے والے ورلڈ کپ کوالیفائر کا چیلنج ہے، جس کے لیے اسے تیاری کرنی ہے۔ ٹیم ترواننت پورم میں نظر آنے والی مثبت چیزوں کو آگے بڑھانا چاہے گی اور سیریز کے باقی میچوں میں ہر شعبے میں بہتر اور متوازن کارکردگی پیش کرنے کی کوشش کرے گی۔ پہلے ون ڈے میں اس کی بلے بازی نے کافی امیدیں جگائی تھیں اور ٹیم ایک بار پھر اسی کارکردگی کو دہرانا چاہے گی۔ گیندبازی میں وکٹیں لینے کی صلاحیت بہتر کرنا بھی اس کی بڑی ضرورت ہوگی۔ اس کے لیے ٹیم اپنی بلے بازی کی گہرائی سے کچھ سمجھوتہ کرتے ہوئے شمر جوزف یا بائیں ہاتھ کے رِسٹ اسپنر وِٹل لاز میں سے کسی ایک کو ٹیم میں شامل کرنے پر غور کرسکتی ہے۔نتیش کمار ریڈی نے پہلے ون ڈے کا آغاز ایک اوور میں ۱۷؍ رن دے کر کیا تھا۔ انہوں نے کئی مرتبہ گیند ضرورت سے زیادہ آگے پھینکی اور جسٹن گریوز نے ان کے اوور میں چار چوکے لگائے۔ یہ میچ کا دوسرا اوور تھا اور ہندوستان نے اس کے بعد پاور پلے میں انہیں دوبارہ گیند نہیں دی۔ تاہم، بعد میں انہوں نے واپسی کی اور اپنے آخری چار اوورز میں کافی اچھی گیندبازی کی۔ اننگز کے آخری اوور میں انہوں نے صرف سات رن دیے اور ایک وکٹ بھی حاصل کی۔
ہارڈک پانڈیا کی فٹنس پر سوالات برقرار ہیں، ایسے میں ۲۰۲۷ء ورلڈ کپ کی تیاری کے دوران ریڈی ہندوستان کے لیے اہم کھلاڑی بن جاتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں انہوں نے اپنی رفتار میں بھی اضافہ کیا ہے اور ہندوستان چاہے گا کہ ان کی گیندبازی مسلسل بہتر ہوتی جائے، تاکہ انہیں تمام فارمیٹس میں عالمی معیار کے سیَم گیندباز آل راؤنڈر کے طور پر تیار کیا جاسکے۔
یہ بھی پڑھئے:بریڈ پٹ اور انجلینا جولی کی بیٹی زہارا نے والد کا خاندانی نام ہٹا دیا، عدالت سے منظوری ملی
پہلے ون ڈے میں پانچویں گیندباز کی ذمہ داری نتیش ریڈی اور نمن دھیر کے کندھوں پر تھی۔ دونوں نے مل کر ۱۰؍ اوورز میں ۷۸؍ رن دیے۔ نتیش نے پانچ اوورز میں ۴۵؍ رن دیے، جبکہ نمن دھیر نے پانچ اوورز میں ۳۳؍ رن خرچ کیے۔ ایسے میں دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ گوہاٹی میں ٹیم مینجمنٹ انہی دونوں پر اعتماد برقرار رکھتی ہے یا نمن دھیر کی جگہ باہر بیٹھے محمد سراج یا عاقب نبی میں سے کسی ایک کو موقع دیتی ہے۔ تاہم، کوچ گوتم گمبھیر بلے بازی میں گہرائی چاہتے ہیں، اسی لیے انہوں نے نمبر آٹھ پر نمن دھیر کو ترجیح دی تھی۔ اگر سراج یا نبی کو شامل کیا گیا تو ہندوستان کو بلے بازی کی گہرائی سے سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔