Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’جنگ متاثرہ علاقوں سے شہریوں کے انخلا کیلئے ہندوستانی سفارتی مشن کمر بستہ ہے‘‘

Updated: March 20, 2026, 1:25 PM IST | New Delhi

وزارتِ خارجہ کے مطابق ۲۸؍ فروری کو تنازع شروع ہونے کے بعد سے اب تک تقریباً ۲ء۴۴؍ لاکھ ہندوستانی محفوظ وطن واپس آ چکے ہیں۔

Scene from the press conference of Foreign Ministry Spokesperson Randhir Jaiswal. Photo: INN
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کی پریس میٹنگ کا منظر۔ تصویر: آئی این این

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان حکومت ہند اور بیرونِ ملک قائم  ہندوستانی سفارت خانہ اپنے شہریوں کو محفوظ وطن واپس لانے کیلئے تیز رفتار کوششوں میں مصروف ہیں۔  شورش زدہ ممالک سےانخلاء کیلئے مختلف متبادل راستوں کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ جنگی حالات میں پھنسے ہندوستانی  شہریوں کو جلد از جلد  وہاں سے نکالا جا سکے۔

اس سلسلے میں وزارت خارجہ اور دیگر وزارتوں کے نمائندوں کی پریس کانفرنس میں تمام معلومات فراہم کی گئی ۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق ۲۸؍فروری کو تنازع شروع ہونے کے بعد سے اب تک تقریباً۲ء۴۴؍ لاکھ شہری بحفاظت وطن واپس پہنچ آچکے ہیں۔ ایک طرف جہاں حکومت ہندمغربی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی  اعلیٰ قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، وہیں دوسری جانب مختلف ممالک میں موجود  ہندوستانی سفارتخانے  مکمل طور پر ’’مشن موڈ‘‘ میں کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایل پی جی بحران مزید گہرا، کہیں فیکٹریز بند، کہیں لکڑیو ں پر کھانا پکانا مجبوری

وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پریس کانفرنس میںبتایا کہ تقریباً ۷۰۰؍ ہندوستانی شہری ایران سے زمینی راستے کے ذریعے آرمینیا اور آذربائیجان پہنچ چکے ہیں، جہاں سے ان کی وطن واپسی کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران جانے والے ۲۸۴؍ زائرین بھی کامیابی کے ساتھ آرمینیا پہنچ گئے ہیں۔ دوحہ میں قائم ہندوستانی سفارت خانے نے قطر ایئرویز کی پروازوں کے ذریعے ۱۶۰۰؍ سے زائد شہریوں کے انخلا میں مدد فراہم کی ہے۔ سفارت خانے نے یہ بھی بتایا کہ سعودی عرب کیلئے عارضی ٹرانزٹ ویزا کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ افراد جو سرحد کے راستے زمینی سفر کے ذریعے وطن لوٹنا چاہتے ہیں انہیں آسانی ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK