آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں پلے آف کی دوڑ اپنے دلچسپ ترین مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ گجرات ٹائٹنز نے سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف ۸۲؍ رنز کی یکطرفہ انداز میں کامیابی حاصل کر کے پوائنٹس ٹیبل پر پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔
EPAPER
Updated: May 13, 2026, 7:05 PM IST | New Delhi
آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں پلے آف کی دوڑ اپنے دلچسپ ترین مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ گجرات ٹائٹنز نے سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف ۸۲؍ رنز کی یکطرفہ انداز میں کامیابی حاصل کر کے پوائنٹس ٹیبل پر پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔
آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں پلے آف کی دوڑ اپنے دلچسپ ترین مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ گجرات ٹائٹنز نے سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف ۸۲؍ رنز کی یکطرفہ انداز میں کامیابی حاصل کر کے پوائنٹس ٹیبل پر پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے، لیکن سابق کرکٹر محمد کیف کا ماننا ہے کہ ٹاپ فور میں موجود ٹیمیں بھی ابھی خود کو محفوظ تصور نہیں کر سکتیں۔
جیو ہاٹ اسٹار کے خصوصی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے محمد کیف نے سائی سدرشن کی اننگز کو گجرات کی جیت کی بنیاد قرار دیا۔ کیف کے مطابق، سست پچ پر جہاں بیٹنگ مشکل تھی، سدرشن نے ایک اینکر کا کردار ادا کیا اور اپنی بہترین تکنیک کے ذریعے رنز بنانے کا عمل جاری رکھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گجرات ٹائٹنز پلے آف کے لیے کوالیفائی کرتی نظر آ رہی ہے، لیکن دیگر پوزیشنز کے لیے مقابلہ ابھی کھلا ہے۔
محمد کیف نے آنے والے میچوں کے حوالے سے چند اہم نکات اٹھائے۔کیف کا کہنا تھا کہ حیدرآباد کے لیے چنئی کے خلاف ان کے ہوم گراؤنڈ پر کھیلنا ایک کڑا امتحان ہوگا۔ اگر حیدرآباد ٹاپ دو میں جگہ بنانا چاہتی ہے، تو اسے چنئی کو شکست دینا ہوگی، جو کہ اس وقت بہترین فارم میں ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فلم ’’پتی پتنی اور وہ دو‘‘کے ساتھ آیوشمان کھرانہ مزاحیہ سلسلے کو آگے بڑھائیں گے
آر سی بی کے خلاف میچ سے قبل ورون چکرورتی کی ممکنہ عدم دستیابی کولکاتا نائٹ رائیڈرز کے لیے بڑا نقصان ثابت ہو سکتی ہے۔ کیف نے کہا کہ ورون کی غیر موجودگی کا وراٹ کوہلی بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں، کیونکہ ورون کے کے آر کی اسپن حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:کانز فلم فیسٹیول میں عالیہ بھٹ نے اپنے دلکش انداز میں سبھی کو متاثر کیا
تجربہ کار بلے باز چیتشور پجارا نے کگیسو رابادا کی بولنگ کی تعریف کی۔ انہوں نے کہاکہ ’’ربادا نے ابھیشیک شرما کی حرکت کو پہلے ہی بھانپ لیا تھا۔ جب ابھیشیک نے جگہ بنا کر کھیلنے کی کوشش کی، تو ربادا نے اپنی لائن تبدیل کی اور بلے باز کا پیچھا کیا۔ گیند میں غیر متوقع اچھال تھا جو بلے کے اندرونی کنارے سے لگ کر اسٹمپ میں جا گھسا۔ یہ ایک عالمی معیار کی بولنگ کا نمونہ تھا۔‘‘