Updated: August 20, 2026, 12:03 PM IST
| Tehran
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو ’’نیا امریکی علاقہ‘‘ قرار دینے والی تصویر پوسٹ کیے جانے پر ایران نے طنزیہ انداز میں جوابی ردعمل دیا ہے۔ ایران کے ایک سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کو ’’اسلامی جمہوریہ ایران کا نیا علاقہ‘‘ قرار دیتے ہوئے نقشہ جاری کردیا، جبکہ ایرانی نائب وزیر خارجہ نے ٹرمپ کے بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
ایران کی جانب سے ایکس پر جاری کی گئی تصویر۔ ایکس
ایران کے ایک سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے منگل کو کیلیفورنیا کو ایران کا ’’نیا علاقہ‘‘ قرار دے دیا۔ یہ ردعمل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو ’’نیا امریکی علاقہ‘‘ قرار دینے والی تصویر پوسٹ کئے جانے کے بعد سامنے آیا۔ ٹرمپ نے منگل کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک تصویر شیئر کی، جس میں آبنائے ہرمز کا نقشہ دکھایا گیا تھا اور اس اہم آبی گزرگاہ کے گرد دائرہ بنا کر اس کے نیچے ’’نیا امریکی علاقہ‘‘ کے الفاظ درج تھے۔ یہ پوسٹ ٹرمپ کے ان سابقہ بیانات کے بعد سامنے آئی جن میں انہوں نے کہا تھا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ بنا دیا جائے گا۔ بعد ازاں وہائٹ ہاؤس نے بھی امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے سرکاری اکاؤنٹ سے ٹرمپ کی یہ پوسٹ دوبارہ شیئر کردی۔
اس کے جواب میں ایکس پر ایران کے سرکاری اکاؤنٹ ’’ایران اِن حیدرآباد‘‘ نے امریکہ کا ایک نقشہ پوسٹ کیا، جس میں کیلیفورنیا کو نیلے رنگ سے نمایاں کیا گیا تھا۔ نقشے پر درج تھا، ’’اسلامی جمہوریہ ایران کا نیا علاقہ۔‘‘ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی ٹرمپ کی پوسٹ پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ آبنائے ہرمز کے بارے میں ٹرمپ کا وہم جلد یا تو درست ہوجائے گا یا پھر ’’ہم اس شخص کے وہم کو درست کردیں گے‘‘۔
کیلیفورنیا، خصوصاً لاس اینجلس کا علاقہ، ایران کے باہر ایرانی نژاد افراد کی سب سے بڑی آبادی کا مرکز ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس (یو سی ایل اے) کے مرکز برائے مشرقِ قریب کے مطالعات کے زیرِ انتظام ایرانی ڈائسپورا ڈیش بورڈ کے مطابق لاس اینجلس کاؤنٹی میں تقریباً ایک لاکھ ۴۱؍ ہزار ایرانی نژاد امریکی رہتے ہیں۔ ایران میں ۱۹۷۹؍ کے اسلامی انقلاب کے بعد جنوبی کیلیفورنیا میں ایرانی برادری میں نمایاں اضافہ ہوا۔ لاس اینجلس کا ویسٹ ووڈ علاقہ ایرانی تارکینِ وطن کی سماجی اور ثقافتی زندگی کا ایک اہم مرکز بن گیا، جسے عام طور پر ’’تہرانجلس‘‘ کہا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وسطی افریقی جمہوریہ میں سونے کی کان منہدم، ۱۰۰؍ سے زائد کان کن ہلاک
ایران اور امریکہ کے درمیان یہ لفظی جنگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کئی ماہ سے جاری تنازع کے باعث تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ایران اور امریکہ نے جون میں جنگ ختم کرنے اور ایک وسیع تر معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے مقصد سے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے تھے، تاہم اس پر عمل درآمد اور آبنائے ہرمز سے آمدورفت کے معاملے پر اختلافات کے باعث مذاکرات بعد میں تعطل کا شکار ہوگئے۔ دریں اثنا، آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کے انتظامات کے حوالے سے ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، تاہم اب تک کوئی قابلِ ذکر پیش رفت سامنے نہیں آسکی ہے۔