Updated: January 16, 2026, 6:04 PM IST
| Tehran
وہائٹ ہاؤس نے جمعرات کو کہا کہ ایرانی حکام نے کئی ہفتوں سے جاری احتجاجات کے دوران۸۰۰؍ طے شدہ سزائے موت کو ’روک دیا‘ ہے، اور ساتھ ہی بتایا کہ واشنگٹن صورتِ حال پر ’قریب سے نظر رکھے ہوئے‘ ہے۔ ترکی نے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کی سخت مخالفت کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ تہران اپنے داخلی مسائل خود حل کرے۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ خطے میں کشیدگی بڑھانے کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔
کیرولین لیویٹ۔ تصویر: آئی این این
اقوامِ متحدہ میں ایران اور امریکہ کے سفارتکاروں کے درمیان تلخ کلامی
امریکہ نے کہا ہے کہ وہ ’’ایران کے بہادر عوام‘‘ کے ساتھ کھڑا ہے، اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ ’’قتلِ عام کو روکنے کیلئے تمام آپشنز میز پر رکھنے‘‘ کا واضح اعلان کر چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے یہ بات سلامتی کونسل کو بتائی۔ والٹز نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا، جسے واشنگٹن نے جمعرات کو طلب کیا تھا، کہ صدر ٹرمپ عمل کے آدمی ہیں، اقوامِ متحدہ میں نظر آنے والی لامتناہی باتوں کے نہیں۔ انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ قتلِ عام کو روکنے کے لیے تمام آپشنز میز پر موجود ہیں۔ ‘‘تاہم، کئی دنوں کی سخت بیان بازی کے بعد ٹرمپ نے انتظار اور مشاہدے کی پالیسی اختیار کی اور کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ ہلاکتیں کم ہو رہی ہیں، اور ان کے خیال میں اس وقت بڑے پیمانے پر سزائے موت دینے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں ہے۔ والٹز نے ایران کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ احتجاجات غیر ملکی سازش ہیں جو فوجی کارروائی کے لیے تمہید فراہم کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’دنیا بھر کے لوگوں کو یہ جاننا چاہئے کہ حکومت پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو چکی ہے، اسی لیے وہ یہ جھوٹ پیش کر رہی ہے، کیونکہ سڑکوں پر موجود ایرانی عوام کی طاقت اس کے سامنے ہے۔ وہ خوفزدہ ہیں۔ وہ اپنے ہی عوام سے خوفزدہ ہیں۔ ‘‘ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے’’اس نازک وقت میں زیادہ سے زیادہ ضبط و تحمل‘‘ کی اپیل کی اور تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو مزید جانوں کے ضیاع یا وسیع تر علاقائی کشیدگی کو بھڑکا سکتا ہو۔ یہ بات اقوامِ متحدہ کی سینئر اہلکار مارٹھا پوبی نے کونسل کو بتائی۔
یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر ’حقِ خودارادیت‘ کے غلط استعمال پر ہندوستان کی پاکستان کو وارننگ
احتجاجات کے دوران ایران نے ۸۰۰؍ طے شدہ سزائے موت روک دیں : وہائٹ ہاؤس
وہائٹ ہاؤس نے جمعرات کو کہا کہ ایرانی حکام نے کئی ہفتوں سے جاری احتجاجات کے دوران۸۰۰؍ طے شدہ سزائے موت کو ’روک دیا‘ ہے، اور ساتھ ہی بتایا کہ واشنگٹن صورتِ حال پر ’قریب سے نظر رکھے ہوئے‘ ہے۔ وہائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیوٹ نے صحافیوں کو بتایا، ’’صدر کو آج یہ سمجھایا گیا ہے کہ۸۰۰؍سزائے موت، جو طے شدہ تھیں اور کل نافذ ہونا تھیں، روک دی گئی ہیں۔ ‘‘لیوٹ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران سے متعلق پیش رفت کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے اور اس بات کا اشارہ دیا کہ مزید اقدامات بھی ممکن ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’صدر اور ان کی ٹیم اس صورتِ حال پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہیں اور صدر کیلئے تمام آپشنز بدستور میز پر موجود ہیں۔ ‘‘
ترکی، ایران کے خلاف `کسی بھی فوجی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے: وزیر خارجہ
ترکی کے وزیر خارجہ نے جمعرات کو کہا کہ ترکی ایران کے خلاف کسی بھی فوجی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے اور تہران پر زور دیا کہ وہ اپنے داخلی مسائل خود حل کرے۔ استنبول میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا:’’اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو بیرونِ ملک ایران کے مخالف بعض ممالک کیلئے حکومت کے خلاف دشمنی کے حوالے سے کوئی ایسی صورتِ حال نہیں جو ان کی خواہشات کو ابھارے۔ تاہم، موجودہ پالیسیوں سے پیدا ہونے والی معاشی مشکلات اور انہیں کم کرنے میں ناکامی واقعی سنگین مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ ہم یہاں کسی بھی مداخلت کو دیکھنا نہیں چاہتے۔ ‘‘انہوں نے امریکی صدر کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا:’’جب آپ ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو دیکھتے ہیں تو اب تک ہمیں زمینی افواج کے استعمال کیلئے کوئی مضبوط رجحان نظر نہیں آیا۔ ‘‘ حالیہ احتجاجات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب کسی ملک کو پابندیوں کا سامنا ہوتا ہے تو بعض معاشی سہولیات محدود ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا:’’ایران کی آبادی بڑی ہے اور اس کا معاشرہ متحرک ہے۔ وہاں تعلیم یافتہ اور باشعور لوگ ہیں جن میں زندگی اور سماجی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کی مضبوط خواہش پائی جاتی ہے۔ جب ایسی سوسائٹی کو بعض مواقع سے محروم کیا جاتا ہے تو اس طرح کے مسائل سامنے آتے ہیں۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’یہاں جو چیز خلط ملط ہو جاتی ہے وہ یہ ہے کہ معاشی اور دیگر مشکلات کے باعث عوام کو درپیش سختیاں ایک نظریاتی بغاوت کے طور پر نظر آ سکتی ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ ایک ’گرے ایریا‘ ہے۔ ‘‘ایران کی ترکی کیلئے اہمیت پر زور دیتے ہوئے فیدان نے کہا کہ ایران سے متعلق ہر معاملہ ہمارے لئے اہم ہے، اور یہ کہ تہران کا بعض فریقوں کے ساتھ مسائل حل کرنا انقرہ کیلئے فائدہ مند ہے۔ انہوں نے مزید کہا:’’امید ہے کہ امریکہ اور ایران اس مسئلے کو آپس میں حل کر لیں گےچاہے ثالثوں کے ذریعے، دیگر فریقوں کی مدد سے یا براہِ راست مذاکرات کے ذریعے۔ ہم اس صورتِ حال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ‘‘ فیدان نے بتایا کہ انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب پر زور دیا ہے کہ وہ دیگر ممالک کے ساتھ اپنے مسائل حل کرے۔ انہوں نے کہا:’’ایران کو عالمی جوہری معاملے پر سفارت کاری کے ذریعے، کسی بھی موقع کو ضائع کئے بغیر، اپنے مسائل حل کرنے چاہئیں تاکہ وہ ساختی مسائل ختم کئے جا سکیں جو معاشی مشکلات کا باعث بن رہے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ ترکی ایران سے متعلق پیش رفت اور اپنی سفارتی کوششوں پر نظر رکھتا رہے گا۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس: کے ایف سی کی ۲۴؍ شاخوں میں صرف حلال چکن پیش کیا جائے گا
ایران پر حملے مؤخر کرنے کی اپیل، مشرقِ وسطیٰ کے اتحادیوں کا ٹرمپ پر دباؤ
امریکہ کے مشرقِ وسطیٰ میں اتحادی ممالک نے، ایران میں حکومت کے حق اور مخالفت میں ہونے والے مظاہروں کے تناظر میں، ٹرمپ انتظامیہ سے ایران پر حملوں کو مؤخر کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان گفتگوؤں سے واقف ایک عرب سفارتکار نے جمعرات کو خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ مصر، عمان، سعودی عرب اور قطر کے اعلیٰ حکام نے گزشتہ ۴۸؍گھنٹوں کے دوران خدشات کا اظہار کیا ہے کہ امریکی فوجی حملے پہلے ہی غیر مستحکم خطے کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر دیں گے اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، کیونکہ منڈیوں نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے لہجے میں تبدیلی کو محسوس کیا، جو تہران کے خلاف سخت دھمکیوں کے کئی دنوں کے بعد سامنے آئی۔ تاہم، وہائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ’’تمام آپشنز اب بھی زیرِ غور ہیں۔ ‘‘انہوں نے کہا، ’’حقیقت یہ ہے کہ صرف صدر ٹرمپ ہی جانتے ہیں کہ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں، اور مشیروں کی ایک بہت ہی محدود ٹیم ان کی سوچ سے آگاہ ہے، ‘‘اور مزید کہا کہ وہ ایران میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایران کے ایک سفارتکار نے جمعرات کو تصدیق کی کہ ٹرمپ نے ایران کو آگاہ کیا ہے کہ امریکہ ملک پر حملہ نہیں کرے گا، تاہم، تحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے جوابی کارروائی کا منصوبہ تیار کرلیا
ایران کیلئے تمام آپشنز میز پر: اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر
اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سفیر نے جمعرات کو سلامتی کونسل کو بتایا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ ’’عمل کے آدمی‘‘ ہیں اور ایران کے معاملے میں ’’تمام آپشنز میز پر موجود ہیں۔ ‘‘مائیک والٹز نے کہا، ٹرمپ اقوامِ متحدہ کی طرح لامتناہی بات چیت میں نہیں پڑتے۔ انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ قتل و غارت روکنے کیلئے تمام آپشنز زیرِ غور ہیں، اور ایرانی قیادت کو یہ بات سب سے بہتر انداز میں معلوم ہونی چاہئے۔ ‘‘والٹز نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ مذاکرات کیلئے آمادگی ظاہر کرتا ہے، لیکن اس کے اقدامات اس کے برعکس ہیں۔ ایران کی جانب سے فوری طور پر ان کے بیان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا، ’’اب بہت ہو چکا۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ایرانی عوام کی حمایت کریں اور ایرانی قوم پر مسلط اس نظام کی غفلت اور جبر کا خاتمہ کریں۔ ‘‘