Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران کو مبینہ طور پر مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت

Updated: August 23, 2026, 10:25 PM IST | Tehran

سعودی،حوثی کشیدگی کے درمیان ایران کو مبینہ طور پر مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، جو سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے دستخط کیے ہیں، جبکہ تہران ایک علاقائی سلامتی کے فریم ورک پر غور کر رہا ہے۔

A photo from the time of the Mecca Agreement. Photo: INN
مکہ معاہدے کے وقت کی ایک تصویر۔ تصویر: آئی این این

ایران کو۷؍ اگست کو سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس پیش رفت کی اطلاع لبنان کے میڈیا المناردین نے دی،جیسا کہ پاکستان کے ساماء ٹی وی نے رپورٹ کیا ، تہران اس پر غور کر رہا ہے ۔ ایران کی وزارت خارجہ نے ابھی اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ اسے باہمی دفاعی معاہدے میں شمولیت کی دعوت موصول ہوئی ہے یا نہیں۔تاہم ایرانی پارلیمنٹ کے خانہ ملت نیوز ایجنسی کے سربراہ مہدی رحیمی نے کہا کہ ایران کو مکہ معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت ملی ہے، اور اس معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کا عہد، جب تک وہ وزیر اعظم رہیں گے فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوگی

 انہوں نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک علاقائی سلامتی کی چھتری کی تلاش میں ہیں، اور یہ ’’ایران کے لیے ایک کامیابی ہے، کیونکہ وہ طویل عرصے سے اس کا مطالبہ کر رہا ہے۔‘‘تاہم، دعوت کی تفصیلات ابھی غیر واضح ہیں، کیونکہ رحیمی نے یہ نہیں بتایا کہ کس ملک نے یہ دعوت دی ہے، ساتھ ہی کسی بھی ملک نے سرکاری طور پر اس پیش رفت کی تصدیق نہیں کی ہے۔ واضح رہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے دستخط کردہ مکہ دفاعی معاہدے میں نیٹو جیسی باہمی دفاعی شق شامل ہے، جس کے تحت ایک ملک پر حملے کودیگر تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
بعد ازاں ترکی نے اس سے قبل عوامی سطح پر یہ اظہار کیا ہے کہ وہ مصر کو اس معاہدے میں شامل دیکھنا چاہتا ہے۔ جبکہ پاکستان نے بھی موقف اختیار کیا ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ یہ دفاعی معاہدہ ایک خصوصی کلب بنے۔ لیکن یہ معاہدہ نیٹو طرز کا مربوط فوجی کمانڈ قائم نہیں کرتا اور اس میں بہت کم مخصوص فوجی وعدے شامل ہیں۔ دریں اثناء تہران نے اس اتحاد کے بارے میں احتیاطی ردعمل کا اظہار کیا ، اور وہ واشنگٹن کے اثر و رسوخ سے باہر ایک علاقائی سلامتی کی چھتری چاہتا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے۱۰؍ اگست کو کہا کہ تہران کو اس اتحاد کے قیام پر ’’تشویش کی کوئی وجہ نہیں ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوجی افسروں کو انتخابات میں تاخیر کیلئے نیتن یاہو کے جنگ چھیڑنے کا خدشہ

اگرچہ یہ معاہدہ امریکہ-ایران جنگ کے بحران سے پیدا ہوا ہے، لیکن علاقائی تجزیہ کار اور اسرائیلی سیکیورٹی حکام اس اتحاد کا بنیادی مقصد اسرائیل کی جارحیت کے خلاف دفاع(روک) کے طور پر کام کرنا سمجھتے ہیں۔ یہ معاہدہ مؤثر طور پر امریکی ثالثی میں "نئے مشرق وسطیٰ" کے قبل از جنگ وژن کے یکسر برعکس ہے، جہاں اسرائیل کے ساتھ تعلقات مرکزی شرط تھی۔
یاد رہے کہ حوثی باب المندب آبنائے کے ساتھ زمین پر قبضہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس سے وہ اس اہم بحری شاہراہ کو خطرہ بنا سکیں گے۔ سعودی عرب ہرمز بحران کے دوران اپنی تیل برآمدات کے لیے مکمل طور پر بحیرہ احمر کی بندرگاہوں پر انحصار کرتا ہے۔ لہٰذا، ایران کو مبینہ دعوت اس معاہدے میں انتہائی متضاد ہے، کیونکہ حوثی اس اتحاد کے لیے سب سے فوری آزمائش ثابت ہوں گے۔ تاہم اس طرح کی شمولیت کے کامیاب ہونے کے لیے، سعودی اورایران دونوں کو یمن اور حوثیوں کے معاملے پر سمجھوتہ کرنا ہوگا اور ٹھوس مراعات کا تبادلہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK