پورے مشرق وسطی کے متاثر ہونے کا اندیشہ، تہران نے واضح کیا کہ حملہ ہوا تو خلیج میں امریکی اڈے اس کے نشانے پر ہوں گے، واشنگٹن کے اتحادی پریشان، ٹرمپ کو روکنے کی کوشش
EPAPER
Updated: January 14, 2026, 11:01 PM IST | Washington
پورے مشرق وسطی کے متاثر ہونے کا اندیشہ، تہران نے واضح کیا کہ حملہ ہوا تو خلیج میں امریکی اڈے اس کے نشانے پر ہوں گے، واشنگٹن کے اتحادی پریشان، ٹرمپ کو روکنے کی کوشش
ایران میں حکومت مخالف مظاہرے تقریباً ختم ہوجانے کے باوجود امریکہ کی ہٹ دھرمی اور ایران پر حملے کی دھمکی مشرق وسطیٰ کو جنگ کی آگ میں جھونک سکتی ہے۔بدھ کو ایران نے سعودی عرب، ترکی اور متحدہ عرب امارات جیسے اپنے پڑوسی ممالک کو متنبہ کردیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے اسے نشانہ بنایا تو پوری طاقت سے جواب دیا جائےگا اور مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی ٹھکانوں نیز اسرائیل کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرمحمد باقر قالیباف نے متنبہ کیا ہے کہ ایران پر حملہ کرکے امریکہ پورے خطہ کو جنگ کی آگ میں جھونکنے کا ذمہ دار ہوگا۔
ایران کا امریکہ کے اتحادی ممالک کو واضح پیغام
ٹرمپ کے ناعاقبت اندیشانہ بیانات اور دھمکیوں کی وجہ سے پل پل بدلتی صورتحال میں ایران کے سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ایجنسی ’’رائٹرس‘‘ کوبتایا ہے کہ ’’تہران نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے لے کر ترکی تک تمام علاقائی ممالک کو آگاہ کردیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کو نشانہ بنایا تو پوری شدت سے جواب دیا جائےگا اور مذکورہ ممالک میں امریکی فوجی اڈے ایرانی فوجوں کا جائز ہدف ہوں گے۔ ‘‘ اس کے ساتھ ہی اسلامی جمہوریہ نے اپنے پڑوسی ممالک جو امریکہ کے اتحادی ہیں، سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی صورتحال کو ٹالنے کیلئے واشنگٹن کو حملے سے باز رکھیں۔
ایرانی فوج پوری طرح تیار
ایرانی فوج’پاسداران ِ انقلاب‘کی ایئر فورس کے سربراہ سیدعبدالرحیم موسوی نے اعلان کیا ہے کہ ’’دفاع ا ور کسی بھی طرح کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے ایرانی فوجیں پوری قوت کے ساتھ تیار ہیں۔ ‘‘فارس نیوز ایجنسی کے مطابق موسوی نے مزید کہا کہ ’’(اسرائیل کے ساتھ )۱۲؍ دن کی جنگ کے وقت میزائلوں کا جتنا ذخیرہ تھا،اس سے زیاہ ذخیرہ کرلیاگیاہے اور اس وقت دفاعی تنصیبات کو جو نقصان ہوئے تھےان پر قابو پایا جا چکاہے۔ فوجیں جنگ کیلئے اعلیٰ ترین تیاری کے ساتھ الرٹ ہیں۔‘‘
’العدید‘ ایئربیس سے امریکی فوجیوں کو ہٹایاگیا
اس بیچ بدھ کی شام قطر میں واقع امریکہ کے ’العدید‘ ایئر بیس سےکچھ امریکی جوانوں کو ہٹا لیاگیاہے۔ اس کی اطلاع پہلے سفارتی ذرائع نے خبر رساں ایجنسی ’رائٹرس‘ کو دی پھر قطر نے بھی اس کی تصدیق کی اور بتایا کہ خطہ میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر یہ قدم اٹھایاگیاہے۔
امریکہ اور ایران میں روابط پوری طرح منقطع
اس بیچ ایران اور امریکہ کے سینئر افسران کے درمیان براہ راست روابط پوری طرح سے ختم ہوگئے ہیں جس سے حملوں کا اندیشہ اور بھی زیادہ بڑھتا ہوا نظر آرہاہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور مشرق وسطیٰ میں ٹرمپ کے خصوصی نمائندہ اسٹیو وِٹکوف کے درمیان روابط معطل ہوچکے ہیں۔ اسرائیلی اندازوں کے مطابق بھی ٹرمپ نے ایران پر حملے کافیصلہ کرلیا ہے البتہ یہ واضح نہیں ہے کہ حملہ کس نوعیت کا اور کب ہوگا۔
خلیجی ممالک کا ٹرمپ پر دباؤ
امریکی حملے سے پورے خطے کے متاثر ہونے کے اندیشوں کے بیچ سعودی عرب اور خلیج کے دیگر ممالک ٹرمپ انتظامیہ کو کسی فوجی کارروائی سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس بیچ ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بات چیت کے ذریعہ صورتحال کو سنبھالنے پر زور دیا ہے۔