Updated: March 02, 2026, 5:05 PM IST
| Tehran
ایران کی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی خبروں کو مسترد کر دیا۔ اسی دوران امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں، ایرانی جوابی کارروائی، اقوام متحدہ میں احتجاج اور امریکی کانگریس بریفنگز نے مشرقِ وسطیٰ کو شدید کشیدگی کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
ایران میں احتجاج کا منظر۔ تصویر: آئی این این
علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’’ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔‘‘ یہ ردعمل ان رپورٹس کے بعد آیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تہران نے عمان کے ذریعے واشنگٹن سے رابطہ کیا ہے۔ دی وال اسٹریٹ جرنل کے حوالے سے نشر ہونے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے لاریجانی نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی سفارتی بحالی کی کوشش میں شامل نہیں۔
ٹرمپ پر سخت تنقید
ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے لاریجانی نے کہا کہ امریکی قیادت نے ’’امریکہ فرسٹ‘‘ کے نعرے کو ’’اسرائیل فرسٹ‘‘ میں بدل دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکی فوجیوں کو اسرائیلی مفادات کی خاطر قربان کیا جا رہا ہے۔
مشترکہ امریکی اسرائیلی حملہ
یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے سنیچر کو ایران پر مشترکہ فوجی کارروائی شروع کی۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ شخصیات جاں بحق ہوئیں۔ امریکی فوج نے بی ۲؍ اسٹیلتھ بمبار طیاروں کے ذریعے زیر زمین ایرانی میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ دعویٰ کیا گیا کہ اب تک ایک ہزار سے زائد اہداف کو تباہ کیا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران اسرائیل تنازع: مرسک نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت معطل کر دی
ایرانی جوابی حملے اور امریکی ہلاکتیں
تہران نے خلیجی خطے میں ڈرون اور میزائل حملے کیے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق تین امریکی فوجی ہلاک اور پانچ شدید زخمی ہوئے۔ یہ تنازع حالیہ برسوں کی سب سے خطرناک فوجی جھڑپوں میں شمار ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کا احتجاج
عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس اور سلامتی کونسل کو خط لکھ کر امریکہ و اسرائیل پر ’’صریح جارحیت‘‘ کا الزام عائد کیا۔ ایران نے عالمی برادری سے فوری مداخلت اور سفارتی حل کی اپیل کی ہے۔
پوپ کا انتباہ
پوپ لیو نے تشدد پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’امن دھمکیوں یا ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ذمہ دارانہ مکالمے سے قائم ہوتا ہے۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تنازع بے قابو ہوا تو ’’بہت بڑا المیہ‘‘ جنم لے سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی ٹھکانوں پرایرانی حملوں کے سبب مشرق وسطیٰ میں فضائی خدمات متاثر
امریکی کانگریس میں سوالات
رپورٹس کے مطابق بند کمرے کی بریفنگ میں ٹرمپ انتظامیہ نے تسلیم کیا کہ ایسی کوئی انٹیلی جنس موجود نہیں تھی جس سے ثابت ہو کہ ایران پہلے امریکی افواج پر حملہ کرنے والا تھا۔ ڈیموکریٹس نے ٹرمپ پر ’’انتخابی جنگ‘‘ شروع کرنے کا الزام لگایا ہے جبکہ وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ضروری تھی۔
امریکی عوام کی رائے
رائٹرز/اِپسوس سروے کے مطابق: ۲۷؍ فیصد امریکی حملوں کی حمایت کرتے ہیں، ۴۳؍ فیصد مخالفت کرتے ہیں اور ۲۹؍ فیصد نیوٹرل ہیں۔ یہ اعداد و شمار امریکی معاشرے میں گہری تقسیم کی عکاسی کرتے ہیں۔