Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران اسرائیل تنازع: مرسک نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت معطل کر دی

Updated: March 02, 2026, 2:02 PM IST | Tehran

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، جس کے باعث مرسک نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت معطل کر دی ہے۔ ادھر کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کو دفاعی مقاصد کیلئے برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ ایران نے جوابی کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

امریکی ایف ۱۵؍لڑاکا طیارہ کویت میں گر کر تباہ
 امریکی ایف ۱۵؍لڑاکا طیارہ کویت میں گر کر تباہ ہوگیا، طیارہ گرنے کی ویڈیو بھی گردش کررہی ہے جس میں طیارے کو آسمان سے گرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق پائلٹ نے بروقت امریکی ایف ۱۵؍لڑاکا طیارہ سے ایجیکٹ کرلیا اور زندہ بچنے میں کامیاب ہوگیا۔ رپورٹس کے مطابق ابھی تک اس حوالے سے امریکی سینٹرل کمانڈ یا پینٹاگون کی جانب سے سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ دوسری جانب ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے جوابی حملوں میں اب تک مارے جانے والے امریکی فوجیوں کی تعداد۵۶۰؍ ہو چکی ہے۔ ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر حملے کئے گئے، تین امریکی اور برطانوی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا۔ ٹینکرز اب خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں جل رہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکی ٹھکانوں پرایرانی حملوں کے سبب مشرق وسطیٰ میں فضائی خدمات متاثر

شپنگ کمپنی مرسک نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت معطل کر دی
ڈنمارک کی شپنگ کمپنی مرسک( Maersk )نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے اپنے جہازوں کی آمدورفت معطل کر رہی ہے، کیونکہ اطلاعات کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد یہ راستہ بند کر دیا گیا ہے۔ کمپنی نے اپنے بیان میں کہا:ـ’’ہمارے عملے، جہازوں اور صارفین کے سامان کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہم اگلے حکم تک آبنائے ہرمز سے تمام جہازوں کی آمدورفت معطل کر رہے ہیں۔ ‘‘مرسک نے مزید اعلان کیا کہ مشرقِ وسطیٰ-ہندوستان سے بحیرہ روم اور مشرقِ وسطیٰ-ہندوستان سے امریکہ کے مشرقی ساحل تک جانے والی تمام سروسز کو خطے میں بگڑتی ہوئی سیکوریٹی صورتحال کے باعث کیپ آف گڈ ہوپ کے راستے منتقل کر دیا جائے گا۔ اسی دوران Mediterranean Shipping Company نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کیلئے دنیا بھر سے آنے والے تمام کارگو کی بکنگ اگلے حکم تک معطل کر رہی ہے۔ 
سنیچر کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، جس کے جواب میں تہران نے میزائل اور ڈرون حملے کئے۔ سنیچرکو ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد آبنائے ہرمز ’’عملاً‘‘ بند کر دی گئی ہے۔ ایران نے اتوار کو تصدیق کی کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی اعلیٰ حکام اسرائیلی اور امریکی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ واشنگٹن اور تل ابیب تہران پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ جوہری اور میزائل پروگرام رکھتا ہے جو اسرائیل جو خطے کا واحد ملک ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں اور امریکہ کے اتحادیوں کیلئے خطرہ ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کیلئے ہے اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ 

یہ بھی پڑھئے: پوتن نے خامنہ ای کی شہادت کوسفاکانہ قتل قراردیا، چین اورشمالی کوریا کی بھی مذمت

امریکہ ایرانی میزائلوں کے خلاف کارروائی کیلئے برطانوی اڈے استعمال کر سکتا ہے: اسٹارمر
برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ، خلیجی خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے میزائل حملوں کے بعد، امریکہ کو ’مخصوص اور محدود دفاعی مقاصد‘ کیلئے اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے گا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’امریکہ نے اس مخصوص اور محدود دفاعی مقصد کیلئے برطانوی اڈوں کے استعمال کی اجازت طلب کی ہے۔ ہم نے یہ درخواست قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ایران کو خطے میں میزائل داغنے، بے گناہ شہریوں کو قتل کرنے، برطانوی جانوں کو خطرے میں ڈالنے اور ان ممالک کو نشانہ بنانے سے روکا جا سکے جو اس تنازع میں شامل نہیں ہیں۔ ‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ کے فیصلے کی بنیاد دیرینہ دوستوں اور اتحادیوں کے اجتماعی دفاع اور برطانوی جانوں کے تحفظ پر ہے۔ اسٹارمر نے مزید کہا:’’ایران پر حملوں میں برطانیہ کے شامل نہ ہونے کا فیصلہ دانستہ تھا، کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ خطے اور دنیا کے لیے بہترین راستہ مذاکرات کے ذریعے حل ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایران کا اسرائیل پر شدید ترین حملہ: بیت شیمش میں میزائل گرنے سے۹؍ افراد ہلاک

ایرانی افواج ’دشمن کے اڈوں ‘ کو نشانہ بناتی رہیں گی: ایرانی صدر کا عزم
ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے اتوار کو کہا کہ ملک کی مسلح افواج ’’دشمن کے اڈوں ‘‘ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گی، جبکہ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی وفات کے بعد ایک عبوری قیادت کونسل نے باضابطہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا:’’ایرانی مسلح افواج کام کر رہی ہیں اور پوری قوت سے دشمن کے اڈوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گی، اور انہیں پہلے کی طرح مایوس کریں گی۔ ‘‘اپنے پیغام کے آغاز میں ایرانی صدر نے خامنہ ای کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا اور تصدیق کی کہ عبوری قیادت کونسل نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال جون میں بھی اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر اسی نوعیت کا حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں ۱۲؍ روزہ جنگ چھڑ گئی تھی، بعد ازاں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK