تہران کے ’’ادنیٰ‘‘ ڈرونز نے قطر میں امریکی فضائیہ کے جدید ترین بیلسٹک میزائل وارننگ ریڈار سسٹم کو نیست و نابود کردیا جو اَربوں ڈالر کا تھا ، بحرین میں ایرانی ڈرون نے امریکی فوجی اڈے پر جبکہ دبئی میں امریکی قونصل خانے کے قریب ایرانی ڈرون حملہ
EPAPER
Updated: March 04, 2026, 11:10 PM IST | Tehran
تہران کے ’’ادنیٰ‘‘ ڈرونز نے قطر میں امریکی فضائیہ کے جدید ترین بیلسٹک میزائل وارننگ ریڈار سسٹم کو نیست و نابود کردیا جو اَربوں ڈالر کا تھا ، بحرین میں ایرانی ڈرون نے امریکی فوجی اڈے پر جبکہ دبئی میں امریکی قونصل خانے کے قریب ایرانی ڈرون حملہ
ایران پر تھوپی گئی جنگ اب امریکہ اور اس کے بغل بچہ اسرائیل کو بھاری پڑتی نظر آرہی ہے کیوں کہ ایرانی نے پہلے اپنے میزائلوں سے جو تابڑ توڑ حملے کئے ہیں اس سے پورا مشرق وسطیٰ دہل گیا ہے جبکہ اب اس کے معمولی سے ڈرونز بھی دشمن امریکی اہداف پرقہر بن کر ٹوٹ رہے ہیں۔ ایران نہ صرف اپنے سے ہزاروںکلومیٹر دور واقع اسرائیل میں اندر تک گھس کر میزائل حملے کررہا ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میںواقع امریکہ اہداف کو بھی زبردست طریقہ سےنشانہ بنارہا ہے۔ حملوں کی اسی صلاحیت سے امریکہ بھی حیران ہے اوراس کے دفاعی ماہرین اسے بار بار وارننگ دے رہے ہیں کہ امریکہ جنگ کے دلدل میں پھنستا جارہا ہے۔ہر چند کہ لبنان سے ایران تک آسمان سے آگ برس رہی ہے کیوں کہ اسرائیل بھی بڑھ چڑھ کر حملے کررہے ہیں لیکن ایران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل جو منہ توڑ جواب دیا جارہا ہے اس سے دونوں کے ہی اوسان خطا ہیں۔ میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کے سامنے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی میزائل دفاعی نظام بونا ثابت ہو رہا ہے۔
قطر کی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ایک ایرانی میزائل نے ان کے العدید ایئر بیس کو نشانہ بنایا، جو خطے میں سب سے بڑا امریکی اڈہ ہے۔تازہ اطلاعات کے مطابق ایران کے حملے میں قطر میں نصب امریکی فضائیہ کے جدید ترین بیلسٹک میزائل وارننگ ریڈار سسٹم کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹس میں بتایا جارہا ہے کہ ایران نے یہ حملہ معمولی ڈرونز کے ذریعہ انجام دیا جس میں ۱ء۱؍ ارب ڈالرکا یہ ریڈار سسٹم پوری طرح سے تباہ ہو گیا۔ سیٹیلائٹ کمپنی’’پلانیٹ لیبس‘‘ کی جاری کردہ تصاویر میں جائے وقوع پر جلی ہوئی زمین، ملبہ اور آگ بجھانے کی سرگرمیوں کے آثار واضح طور پر دکھائی د رہے ہیں۔یہ ریڈار نظام دنیا میں موجود صرف چھ ایسے سسٹمز میں شامل ہے جو طویل فاصلے تک بیلسٹک میزائلوں کی نگرانی کی صلاحیت رکھتے ہیں اور خلیجی خطے میں امریکی دفاعی حکمت عملی کا بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے۔ ریڈار کی تنصیب قطر کے شمالی شہر الخور کے قریب واقع ہے جو العدید ایئر بیس سے تھوڑے سے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ اڈہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سینٹرل کمانڈ کا مرکزی آپریشنل ہب سمجھا جاتا ہے۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اسے ’’درست نشانے پر میزائل حملہ‘‘ قرار دیا، تاہم تجزیہ کار وں کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر کم لاگت والا ’’ون وے اٹیک ڈرون(شاہد سیریز)‘‘ میزائلوں اور ڈرونز کی بھرمار کے دوران امریکی دفاعی حصار عبور کرنے میں کامیاب ہو اور اس نے یہ تباہی مچادی ۔تنصیب کے اطراف زمین سیاہ پڑتی ہوئی دکھائی دی۔اگرچہ امریکی حکام کی جانب سے نقصان کی باضابطہ تفصیل جاری نہیں کی گئی، تاہم دستیاب شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ریڈار سسٹم کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔
دریں اثنا، کویتی فوج نے الرٹ جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ انہیں میزائلوں اور ڈرونز کے بڑے حملوں کا سامنا ہے۔ کویت کا کہنا ہے کہ وہ ان حملوں کو فضا میں روکنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہےلیکن میزائلوں کی تعداد اور ڈرونز اتنے زیادہ ہیں کہ انہیں روکنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ یہی حال بحرین میں واقع امریکی اڈے کا بھی ہوا جہاں ایران کے میزائل اور ڈرون نے کافی تباہی مچائی ہے۔ حالانکہ ان کی سیٹیلائٹ تصاویر فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکیں لیکن تباہی کی تصدیق ہوئی ہے۔ ایران نے آپریشن وعدۂ صادق ۴؍ کے تحت دشمن کی تباہی کے وعدے کو سچ کردکھایا ہے کیوں کہ اس نے ایک حملہ دبئی میں امریکی قونصل خانے کے قریب بھی کیا جس کی وجہ سے وہاں افراتفری مچ گئی۔ یہاں بھی ڈرون حملہ کیا گیا تھا جس کی وجہ سے علاقے میں بھگدڑ مچ گئی تھی کیوں کہ ڈرون قونصل خانے کی پارکنگ سے ٹکرایا تھا اور پھر وہاں سے کثیف دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا۔