آج معاہدے پر ڈیجیٹل دستخط ہونے کا امکان، ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کی بیشتر شرائط کو تسلیم کر لیا، ایران پر سے تیل کی برآمد پر عائد پابندیاں ہٹائی جائیں گی۔
EPAPER
Updated: June 14, 2026, 9:49 AM IST | Washington
آج معاہدے پر ڈیجیٹل دستخط ہونے کا امکان، ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کی بیشتر شرائط کو تسلیم کر لیا، ایران پر سے تیل کی برآمد پر عائد پابندیاں ہٹائی جائیں گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان آج مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر ڈیجیٹل دستخط آن لائن طریقے کئے جا سکتے ہیں۔امریکہ اور ایران نے جمعہ کو عندیہ دیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے ایک معاہدہ قریب ہے۔ ایک سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق فریقین معاہدے کے متن پر متفق ہو چکے ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ چند روز میں واشنگٹن ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کرے گا۔دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ معاہدے کے متن میں اب بھی کچھ ترامیم کی جا سکتی ہیں، تاہم ابتدائی معاہدہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ ایران اس تنازع سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔
معاہدے کی تفصیلات
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ معاہدے کی شقوں کے مطابق امریکہ ایران کے منجمد اثاثوں میں سے فوری طور پر اربوں ڈالر جاری کرے گا اور اس کی تیل برآمدات پر عائد پابندیاں اٹھائے گا۔اس کے بدلے ایران آبنائے ہرمز پر عائد ناکہ بندی ختم کرے گا، جو جنگ شروع ہونے کے بعد سے عملاً بند تصور کی جا رہی ہے۔معاہدے کے مسودے کے مطابق ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق امریکی مطالبات پر بات چیت کو بھی مؤخر کر دیا جائے گا۔ اس حوالے سے آئندہ ۶۰؍ روز کے دوران مذاکرات جاری رہیں گے تاکہ کسی حتمی اور جامع تصفیے تک پہنچا جا سکے۔ذرائع کے مطابق مجوزہ نکات میں ایران کو جنگ کا نشانہ بنائے جانے کے بدلے ممکنہ معاوضے پر غور اور ایرانی میزائل پروگرام پر پابندیاں عائد کرنے کے امریکی مطالبات سے دستبرداری جیسے امور بھی شامل ہیں۔ماضی میں واشنگٹن ایران سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کرے، تاہم نیوز ایجنسی رائٹرز کا کہنا ہے کہ معاہدے کے کسی بھی مسودے میں اس شرط کا ذکر موجود نہیں تھا۔ذرائع نے بھی تصدیق کی کہ موجودہ مرحلے میں اس مطالبے کو واضح طور پر مذاکرات سے خارج کر دیا گیا ہے۔تاہم ایک دوسرے سینئر امریکی عہدیدار نے معاہدے کے بارے میں کہا کہ ایران کے یورینیم کے ذخائر تباہ اور ختم کر دیئے جائیں گے اور اس کے جوہری پروگرام کو بھی ختم کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: مانچسٹر اسکول حملہ: طلبہ کے تحفظ میں زخمی، ٹیچر میثم عبداللہ ’’ہیرو‘‘ کہلائے
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے امریکی عہدیدار نے کہا:جب تک ایران اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا اور آبنائے ہرمز کھلی نہیں رہتی، اس وقت تک کوئی رقم جاری نہیں کی جائے گی۔ایران دہشت گرد گروہوں کو کسی قسم کی مالی معاونت بھی فراہم نہیں کرے گا۔ یہی وہ شرائط ہیں، جن پر انہوں نے اتفاق کیا ہے۔ یہ ایک ایسا معاہدہ ہے جس کا دارومدار ان کے عملی التزام پر ہے۔
اسرائیل فریق نہیں ہوگا
ذرائع نے بتایا کہ اگر معاہدے کے متن پر حتمی اتفاق ہو جاتا ہے تو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف آئندہ اتوار تک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر سکتے ہیں۔ فی الحال جنیوا کو دستخط کی ممکنہ جگہ کے طور پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ معاہدے کا اعلان کئے جانے سے پہلے اس پر دور سے (آن لائن) دستخط کئے جائیں گے۔دوسری جانب امریکی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ یورپ میں معاہدے پر دستخط کی تجویز پر بھی غور کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔اگرچہ اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ مل کر جنگ میں حصہ لیا تھا، لیکن اسے اب تک مذاکراتی عمل سے باہر رکھا گیا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل اس مفاہمتی یادداشت کا فریق نہیں ہوگا۔حالیہ ہفتوں میں نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان کئی معاملات پر اختلافات سامنے آئے۔ ان اختلافات کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ امریکہ اسرائیل پر لبنان میں اپنی فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہا تھا تاکہ واشنگٹن کو تہران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کا موقع مل سکے۔
یہ بھی پڑھئے: یمنی کوہ پیما ’’القعقا‘‘ (اسپائیڈرمین) کی لاش آتش فشاں گڑھے سے نکال لی گئی
عباس عراقچی نے کہا کہ مجوزہ معاہدہ لبنان میں جاری جنگ کے خاتمے کا باعث بنے گا، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ اسرائیل مقبوضہ لبنانی علاقوں سے انخلا کرے گا۔ تاہم اسرائیلی وزیر دفاع نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل لبنانی سرزمین سے واپس نہیں ہٹے گا۔ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے بھی کہا کہ اسرائیل کو توقع ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے باوجود اسے ان علاقوں میں، جو اس کے زیر کنٹرول ہیں، اپنی سلامتی کیلئے خطرہ سمجھی جانے والی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کی آزادی حاصل رہے گی۔