اسرائیلی انتخابات کے بعد پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے اور نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے تیز ہوگئے ہیں، جبکہ عرب جماعتوں کا کردار بھی حکومت سازی کے امکانات میں اہمیت اختیار کرگیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 30, 2026, 12:03 PM IST | Tel Aviv
اسرائیلی انتخابات کے بعد پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے اور نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے تیز ہوگئے ہیں، جبکہ عرب جماعتوں کا کردار بھی حکومت سازی کے امکانات میں اہمیت اختیار کرگیا ہے۔
اسرائیلی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کے سربراہ یائر گولان نے جمعرات کو کہا کہ انہوں نے کنیسٹ انتخابات کے بعد وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حکومت کی جگہ نئی حکومت تشکیل دینے کی کوششوں کو تیز کرنے کیلئے یونائیٹڈ عرب لسٹ (رعام) کے سربراہ منصور عباس سے ملاقات کی ہے۔ امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر منصور عباس کے ساتھ اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے گولان نے بتایا کہ ملاقات کا مقصد ’’تبدیلی کی حکومت جلد از جلد تشکیل دینے اور اسرائیلی ووٹر کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے‘‘ کیلئے کوشش کرنا تھا۔ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ملاقات کہاں ہوئی تھی۔ گولان نے کہا، ’’یہ کارروائی کرنے کا وقت ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ تبدیلی کے اس موقع کو ضائع نہ ہونے دیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: عرب جماعتیں اسرائیل کو اسلامی ملک بنانا چاہتی ہیں: نیتن یاہو کا الزام
واضح ہو کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیلی اپوزیشن لیڈر نیتن یاہو کی حکومت کی جگہ نئی حکومت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انتخابات کے بعد نیتن یاہو کا اتحاد حکومت بنانے کیلئے درکار پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اخبار ’اسرائیل ہیوم‘ نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ گولان نے انتخابات کے بعد سیاسی رابطوں کے سلسلے میں یاشر پارٹی کے سربراہ گادی آئزن کوٹ اور اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ گولان نے اپوزیشن کے ’’چینج بلاک‘‘ کے لیڈروں پر زور دیا ہے کہ وہ عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون کے حوالے سے اپنے مؤقف پر دوبارہ غور کریں تاکہ نئی حکومت کی تشکیل کی راہ نکالی جاسکے۔ وہ اس سے قبل بھی مستقبل کی حکومت میں رعام کو شامل کرنے کی حمایت کرچکے ہیں، جبکہ یسرائیل بیتینو پارٹی کے سربراہ اویگدور لائبرمین عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنانے کے مخالف ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جرمنی: احتجاج سے قبل طلبہ نے چانسلر فریڈرک مرز کو کھلے خط میں مطالبات پیش کر دیے
اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے ’کان‘ نے جمعرات کو بتایا کہ ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی ہے۔ ۱۲۰؍ رکنی کنیسٹ میں نیتن یاہو کے اتحاد کو ۵۳؍، چینج بلاک کو ۴۸؍ جبکہ عرب جماعتوں کو ۱۹؍ نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ حتمی نتائج کا اعلان آئندہ بدھ کو تصدیقی کارروائی مکمل ہونے کے بعد متوقع ہے۔ منصور عباس کی قیادت والی رعام نے ۸؍ نشستیں حاصل کی ہیں، جبکہ جوائنٹ لسٹ کو ۱۱؍ نشستیں ملی ہیں۔ چینج بلاک اور عرب جماعتوں کے پاس مجموعی طور پر ۶۷؍ نشستیں ہیں، تاہم عرب جماعتیں باضابطہ طور پر چینج بلاک کا حصہ نہیں ہیں۔ اس لئے متبادل حکومت کی تشکیل کا امکان ان جماعتوں کے درمیان سیاسی مفاہمت پر منحصر ہوگا۔