اسرائیل فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت کو قانونی شکل دینے کے قریب پہنچ گیا ہے، یہ مجوزہ اسرائیلی قانون فلسطینی قیدیوں کی پھانسی کی اجازت دے گا، جس کے تحت سزاؤں پر ۹۰؍ دنوں کے اندر عملدرآمد لازمی ہوگا۔
EPAPER
Updated: March 26, 2026, 11:00 AM IST | Tel Aviv
اسرائیل فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت کو قانونی شکل دینے کے قریب پہنچ گیا ہے، یہ مجوزہ اسرائیلی قانون فلسطینی قیدیوں کی پھانسی کی اجازت دے گا، جس کے تحت سزاؤں پر ۹۰؍ دنوں کے اندر عملدرآمد لازمی ہوگا۔
اسرائیلی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی نے منگل کی شب ایک مسودہ قانون کی منظوری دے دی، جو فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینے کو قانونی شکل دینے کی جانب ایک قدم ہے۔یہ بل اگلے ہفتے کنیسٹ کی جنرل اسمبلی میں پیش کیے جانے کی توقع ہے، جہاں اسے دوسری اور تیسری بار پڑھ کر ووٹنگ کے لیے پیش کیا جائے گا۔جو قانون بننے سے پہلے کے آخری مراحل ہیں۔کمیٹی نے بل میں کچھ ترامیم کیں، جو اپنی پہلی ووٹنگ میں منظور ہو چکا ہے۔ اسرائیل کے سرکاری خبر رساں ادارے کان کے مطابق،اس قانون کے تحت موت پھانسی کے ذریعے دی جائے گی۔سزائے موت پانے والوں کو ایک علاحدہ حراستی مرکز میں رکھا جائے گا، جہاں مجاز اہلکاروں کے علاوہ کسی سے ملنے کی اجازت نہیں ہوگی اور وکیل سے مشورہ صرف ویڈیو کے ذریعے ہو سکے گا۔فیصلے کے ۹۰ دنوں کے اندر پھانسی پر عملدرآمد لازمی ہوگا۔
واضح رہے کہ بل کے مطابق سزائے موت کا حکم استغاثہ کی درخواست کے بغیر بھی دیا جا سکتا ہے، سزائے موت کے لیے اتفاق رائے کی ضرورت نہیں ہوگی، اور فیصلہ سادہ اکثریت سے کیا جائے گا۔اس کے علاوہ یہ بل واضح کرتا ہے کہ اسرائیلی قبضے میں موجود فلسطینیوں کو سزائے موت سنائے جانے کی صورت میں معافی یا اپیل کے راستے بند کر دیے جائیں گے۔اسرائیل میں مقدمہ چلنے والے قیدیوں کے لیے، سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔بعد ازاں اس بل کا اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر نے خیرمقدم کیا، جسے اس نے ’’ایک تاریخی دن‘‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوجیوں نے ۱۸؍ ماہ کے بچے کو تشدد کا نشانہ بنایا
یاد رہے کہ اکتوبر ۲۰۲۳ء میں غزہ پر اپنی نسل کشی کی جنگ کے آغاز کے بعد سے، اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں، خاص طور پر غزہ سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف زیادتیوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔حقوق گروپ کے مطابق فلسطینی قیدیوں کو بڑے پیمانے پر فاقہ کشی، تشدد، جنسی تشدد اور طبی نگہداشت سے منظم طریقے سے انکارجیسے غیر انسانی سلوک کا سامنا ہے۔