ادیشہ اور جھارکھنڈ میں پیٹرول ختم ہونے کی افواہ کے بعد گھبراہٹ میں گاڑیوں میں ایندھن بھروانے پہنچ گئے، جس نے وہاں ہنگامی صورتحال پیدا کردی، گگ ورکر اور بس آپریٹر سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جس کے بعدحکومت نے مناسب ذخائر کی یقین دہانی کرائی۔
EPAPER
Updated: May 16, 2026, 6:20 PM IST | Bhubaneshwar
ادیشہ اور جھارکھنڈ میں پیٹرول ختم ہونے کی افواہ کے بعد گھبراہٹ میں گاڑیوں میں ایندھن بھروانے پہنچ گئے، جس نے وہاں ہنگامی صورتحال پیدا کردی، گگ ورکر اور بس آپریٹر سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جس کے بعدحکومت نے مناسب ذخائر کی یقین دہانی کرائی۔
جمعہ کو ادیشہ میں افواہ کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی گھبراہٹ میں خریدنے (پینک خریداری) کے باعث پٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں لگ گئیں، کچھ علاقوں میں پمپ خالی ہونے کی اطلاعات ہیں اور نقل و حمل کی خدمات میں خلل پڑا ہے۔ ریاستی حکومت اور تیل کمپنیوں کے عہدیداروں نے عوام سے پرامید رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہتیل کے کافی ذخائر موجود ہیں، تاہم گِگ ورکرز اور چھوٹے آپریٹرز نے اس صورتحال کو اپنی روزی روٹی کے لیے بحران قرار دیا۔
Situation in Odisha is worsening!
— Amiya_Pandav ଅମିୟ ପାଣ୍ଡଵ Write n Fight (@AmiyaPandav) May 15, 2026
Fuel crisis has created panic in Bhubaneswar.long queues are seen outside petrol pumps across the capital city today.people hv no trust on the so called assurance of the govt. Commuters hv to wait for hours together to get petrol only up to 100… pic.twitter.com/4MHS1Q4heT
بھوبنیشور اور کٹک سمیت دیگر شہروں میں، پٹرول پمپوں پر گھبراہٹ کا شکار عوام کا ہجوم رہا ۔ بھوبنیشور میں کئی پمپوں پر گاڑیوں کو دو سے تین گھنٹے قطار میں انتظار کرنا پڑا۔اس بھیڑ اور مقامی طور پر ایندھن ختم ہونے سے دیہی علاقوں میں بسوں کی آمدورفت متاثر ہوئی۔ پرائیویٹ بس مالکان کی ایسوسی ایشن نے بتایا کہ تقریباً۲۰۰۰؍ پرائیویٹ بسیں چلنا بند کردی ہیں کیونکہ ڈرائیور اور آپریٹرز ایندھن نہیں خرید سکتے۔ ایسوسی ایشن نے ۱۵؍ مئی کو اسٹیٹ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (STA) سے ہنگامی ملاقات کی تاکہ خدمات بحال کرنے اور ضروری آمد ورفت کو یقینی بنانے کے لیے ممکنہ قلیل مدتی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جاسکے۔
بعد ازاںایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی افواہوں نے۱۴؍ مئی کو جھارکھنڈ کے کچھ حصوں میں گھبراہٹ میںخریداری کو متحرک کردیا۔ جھاریا، جمشید پوراور دھنباد میں پٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔تاہم مقامی حکام نے شہریوں کو ذخیرہ اندوزی کے خلاف تنبیہ کی اور یقین دہانی کرائی کہ ایندھن وافر مقدار میں موجود ہے۔ جبکہ اڑیسہ حکومت نے جمعہ کو تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ کی اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ گھبراہٹ میں ایندھن نہ خریدیں۔اس کے علاوہ فوڈ سپلائیز اینڈ کنزیومر ویلفیئر منسٹر کرشنا چندر پاترا نے کہا کہ ریاست میں تقریباً۱۳؍ دنوں کا ایندھن کا ذخیرہ موجود ہے اور انہوں نے مسئلہ کو پینک خریداری کی وجہ سے طلب میں اچانک اضافے سے منسوب کیا۔علاوہ ازیں بہت سے ایندھن کے مراکز نے ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے عارضی حد مقرر کردی ہے۔ جس کے بعد مطابق کئی آؤٹ لیٹس نے دو پہیوں کے لیے۲۰۰؍ روپے اور چار پہیوں کے لیےایک ہزار روپے کی حد مقرر کردی۔
یہ بھی پڑھئے: پیٹرول ڈیزل کی قیمت بڑھی انتخابات ختم ہوتے حکومت کی ’’وصولی‘‘ شروع :کانگریس
گِگ اکانومی ورکرز اور بائیک ٹیکسی آپریٹرز نے طویل انتظار اور ایندھن کی عدم دستیابی سے ہونے والی مشکلات بیان کیں۔ ایک ڈیلیوری رائڈر نے کہا کہ تاخیر اس کی کمائی کو براہِ راست متاثر کررہی ہے۔ ایک بائیک ٹیکسی آپریٹر نے کہا کہ’’ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو مجبوراً یہ جگہ چھوڑنی پڑے گی۔‘‘ دوسری جانب اسٹیٹ ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور آئل کمپنیوں نے کہا کہ وہ ہفتے کے آخر میں ذخائر اور تقسیم کی نگرانی کریں گے اور متاثرہ دیہی علاقوں میں فوری طور پر دوبارہ سپلائی بحال کریں گے۔