Updated: May 16, 2026, 6:06 PM IST
| Mumbai
مہاراشٹر حکومت نے اولا، اوبر اور ریپیڈو کی بائیک ٹیکسی سروسیز کے خلاف سخت کارروائی شروع کرتے ہوئے ایپل اور گوگل سے متعلقہ ایپس ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ غیر قانونی بائیک ٹیکسیاں حفاظتی خطرات اور ٹرانسپورٹ قوانین کی خلاف ورزی کا سبب بن رہی ہیں۔
مہاراشٹر حکومت نے ایپل اور گوگل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کئی رائیڈ ہیلنگ ایپس کو اپنے اسٹورز سے حذف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اولا، اوبر اور ریپیڈو کی بائیک ٹیکسی سروسیزریاست میں شدید جانچ کی زد میں ہیں، جبکہ وزیرِ ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک نے حال ہی میں ان کمپنیوں کے مالکان کے خلاف فوجداری کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، مہاراشٹر اسٹیٹ سائبر ڈپارٹمنٹ نے جمعہ کو دونوں ٹیکنالوجی کمپنیوں کو نوٹس بھیجے۔ ان نوٹس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ ۲۰۰۰؍کا حوالہ دیتے ہوئے کمپنیوں سے کہا گیا کہ وہ ان ایپس کو ایپل ایپ اسٹور اور گوگل پلے اسٹور سے ہٹا دیں اور ان تک رسائی بند کر دیں۔
سرنائک نے اخبار کو بتایا:’’ہم نے مہاراشٹر سائبر کے ذریعے گوگل اور ایپل کو ان ایپس کے بارے میں خطوط بھیجے ہیں۔ مہاراشٹر میں بائیک ٹیکسی غیر قانونی طور پر چل رہی ہیں اور اس کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔ ‘‘یہ حکم اس وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل ہی سرنائک نے مہاراشٹر پولیس کو ہدایت دی تھی کہ وہ اولا، اوبر اور ریپیڈو جیسی کمپنیوں کی غیر مجاز بائیک ٹیکسی ایپس بند کرے۔ سائبر کرائم ڈپارٹمنٹ کو بھیجے گئے خط میں ان کمپنیوں کے مالکان کے خلاف مقدمات درج کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔
کیا مہاراشٹر میں بائیک ٹیکسیاں اجازت یافتہ ہیں ؟
بائیک ٹیکسیوں کے حوالے سے تنازع۲۰۲۲ء کے آخر میں شروع ہوا تھا، جب ریاستی حکومت نے ریپیڈو کو ایگریگیٹر لائسنس دینے سے انکار کر دیا تھا۔ جنوری۲۰۲۳ء تک تمام بائیک ٹیکسی سروسیزمعطل کر دی گئی تھیں، حالانکہ ریپیڈو نے سپریم کورٹ سے رجوع بھی کیا تھا۔ بعد ازاں مہاراشٹر حکومت کو بائیک ٹیکسیوں کیلئے ایگریگیٹر پالیسی بنانے کی ہدایت دی گئی۔ اپریل۲۰۲۵ء میں یہ پابندی ختم کر دی گئی اور۱۰۰؍ فیصد الیکٹرک گاڑیوں کیلئے قانونی طور پر آپریشن کی اجازت دے دی گئی۔ مہاراشٹر بائیک ٹیکسی قواعد کے نوٹیفکیشن کے بعد اولا، اوبر اور ریپیڈو کو ایک باقاعدہ فریم ورک کے تحت کام کرنے کی اجازت ملی۔ حکومت نے ان کمپنیوں کو۳۰؍ روزہ عارضی لائسنس جاری کئےتھے تاکہ وہ لازمی دستاویزات جمع کرا سکیں اور مکمل طور پر الیکٹرک فلیٹ میں منتقل ہو سکیں۔
تاہم، بعد کے مہینوں میں کئی تنازعات سامنے آئے، اور آخرکار۱۰؍ مارچ کو مہاراشٹر حکومت نے اولا، اوبر اور ریپیڈو کو جاری کئے گئے تمام عارضی پرمٹ منسوخ کر دیے۔ وزیرِ ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک کے مطابق، تینوں کمپنیوں نے مطلوبہ دستاویزات جمع نہیں کرائیں اور نہ ہی گرین پلیٹ الیکٹرک گاڑیوں میں منتقلی مکمل کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کئی پٹرول بائیکس جن میں بعض مہاراشٹر سے باہر رجسٹرڈ تھیں،مسافروں کو لے جانے کیلئے استعمال کی جا رہی تھیں، جبکہ بہت سے ڈرائیور بھی ریاست سے باہر کے تھے۔ آر ٹی او ٹیموں نے گزشتہ ایک سال کے دوران سیکڑوں غیر قانونی بائیک ٹیکسیاں سڑکوں پر چلتی ہوئی پکڑی تھیں۔
سرنائک نے کہا:’’یہ ایپس حکومتی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہے ہیں اور مالی لین دین انجام دے رہی ہیں، جس سے لائسنس یافتہ رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے روزگار پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ ایپ پر مبنی بائیکس حفاظتی ضوابط پر عمل نہیں کرتیں، جو عوامی سلامتی کیلئےسنگین خطرہ ہے۔ ‘‘انہوں نے۲۲؍ اپریل کو ممبئی کے باندرہ لنک روڈ علاقے میں پیش آنے والے ایک حادثے کا بھی ذکر کیا، جس میں ایک غیر مجاز بائیک ٹیکسی کے حادثے میں ایک خاتون ہلاک ہو گئی تھی۔ نوٹس میں کہا گیا’’حال ہی میں ایک سنگین واقعہ سامنے آیا جس میں ان ایپس میں سے ایک کے ذریعے چلنے والی بائیک ٹیکسی سروس مبینہ طور پر ایک خاتون کی المناک موت کا سبب بنی۔ اس معاملے میں ایک فوجداری مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ‘‘نوٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ مہاراشٹر بھر میں اس نوعیت کے کئی دیگر مقدمات بھی درج کئے جا چکے ہیں۔