Inquilab Logo Happiest Places to Work

کشمیر: ندی مارگ قتل عام کی ۲۳؍ ویں برسی، کشمیری پنڈتوں کے ساتھ مسلمان بھی شریک

Updated: March 25, 2026, 10:58 AM IST | Srinagar

کشمیر کے ندی مارگ قتل عام کی ۲۳؍ ویں برسی کے موقع پرکشمیری پنڈتوں نے مقتولین کو خراج عقیدت پیش کیا ، اس موقع پر بڑی تعداد میں مسلمانوں نے بھی شرکت کی۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ندی مارگ قتل عام کے ۲۳؍سال بعد کشمیری پنڈت اس المناک مقام پر واپس آئے اور مقتولین کو خراج عقیدت پیش کیا۔ مقامی مسلمانوں نے بھی ان کے ساتھ دعاؤں میں شرکت کر کے اتحاد اور مشترکہ انسانیت کا جذباتی اظہار کیا۔ انہوں نے  کے اس سانحے میں مارے گئے۲۴؍ افراد کو پھولوں کا نذرانہ پیش کیا۔واضح رہے کہ گزشتہ دو دہائیوں سے یہ یادگاری تقریب دیگر مقامات پر منعقد کی جاتی رہی تھیں، لیکن اس مرتبہ مہاجر پنڈتوں کی ایک بڑی تعداد اسی گاؤں میں اس جگہ اکٹھی ہوئی جہاں یہ المیہ پیش آیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ناگپور میں آر ایس ایس ہیڈکوارٹرز تک مارچ

بعد ازاں اس موقع نے مفاہمت اور بھائی چارے کی علامت کی حیثیت اختیار کر لی۔کشمیری پنڈت بھوشن لال نے کہا، ’’یہ ہمارے لیے ایک تاریک دن ہے۔ ہم یہاں۲۴؍ قیمتی جانوں کے ضیاع کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ ہم کشمیر کے لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ موقف اختیار کریں۔ حکومتیں پالیسیاں تو بنا سکتی ہیں، لیکن پائیدار تبدیلی کا انحصار معاشرے، خصوصاً اکثریتی برادری کی سوچ پر ہے۔‘‘جبکہ اس موقع پر سابق ایم ایل اے اعجاز احمد میر نے کہا، ’’آج ان۲۴؍ بےگناہوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا جن کا کوئی قصور نہیں تھا۔ یہ واقعہ کشمیر کی تاریخ پر ایک داغ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسلم برادری ہمیشہ پنڈتوں کے ساتھ کھڑی رہی ہے، آج دیکھ لیں کہ کتنے لوگ ان کی حمایت میں جمع ہوئے۔ میرے نزدیک کشمیر پنڈتوں کے بغیر کبھی مکمل نہیں تھا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: جموں یونیورسٹی کی محمد علی جناح اور دیگر مسلم مفکرین کو نصاب سے ہٹانے کی سفارش

دراصل یہ مشترکہ یادگاری تقریب اس جگہ منعقد کی گئی جہاں ۲۳؍ مارچ۲۰۰۳ء کی شب لشکر طیبہ کے دہشت گردوں نے گھروں سے گھسیٹ کر۱۱؍ مردوں،۱۱؍ خواتین اور دو بچوں کو قتل کیا تھا۔ اس موقع پر سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے ، اور سینئر سول اور پولیس افسران بھی موجود تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK